کیا شندے وفڈنویس اب بھی وزیر عبدالستار اور ایم ایل اے رمیش بورنارے کی حمایت کریں گے؟

24
ٹی ای ٹی گھوٹالے کی مکمل تحقیقات اور مجرموں کو سخت سزا دی جانی چاہیے

ممبئی:ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے ٹی ای ٹی گھوٹالے کو لے کر شندے-فڈنویس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ جبکہ اس معاملے میں کئی انکشافات ہوچکے ہیں تو کیا شندے-فڈنویس حکومت کابینی وزیر عبدالستار اور ایم ایل اے رمیش بورنارے کی حمایت کرے گی؟ انہوں نے کہا کہ اس گھوٹالے کا دائرہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ وزیر زراعت عبدالستار کے بعد ایم ایل اے

رمیش بورنارے کی بیٹی کے سرٹیفکیٹ کا بھی سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ پٹولے نے شندے-فڈنویس حکومت سے اس گھوٹالے کی مکمل جانچ کرتے ہوئے مجرموں کو سخت سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ٹی ای ٹی گھوٹالہ ایماندار اساتذہ کے ساتھ ناانصافی ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بھرتی کے عمل میں سیاسی لیڈروں، کچھ عہدیداروں اور پیسوں کا لین دین کرنے والے دلالوں کو فائدہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے ہونہار طلبہ کی محنت رائیگاں گئی ہے۔پٹولے نے

کہا کہ اس گھوٹالے کے پیچھے ایک بڑا ریکیٹ ملوث ہے، ایسے میں اس کی مکمل جانچ ہونی چاہیے اور قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں شنڈے فڈنویس حکومت میں ایک وزیر عبدالستار کے خلاف سنگین الزامات کے بعد انہیں وزارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کیا ریاستی حکومت عبدالستار اور ایم ایل اے بورنارے کے خلاف کارروائی کرے گی؟ شندے-فڈنویس حکومت کو اس کا جواب عوام کو دینا چاہئے۔

پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے 2013 سے اساتذہ کی اہلیت کے لیے ٹی ای ٹی امتحان لاگو کیا ہے اور ٹی ای ٹی اہلیت کے بغیر اساتذہ بھرتی میں حصہ نہیں لے سکتے۔ یہاں تک کہ یہ امتحانات بھی ہر سال منعقد نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ہزاروں طلباء اساتذہ بننے سے محروم رہتے ہیں۔ سائبر پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ 2019 میں مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل

کی طرف سے کرائے گئے اس امتحان میں گھوٹالہ ہوا تھا۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس امتحان کو پاس کرنے کے لیے ہر طالب علم سے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے لیے گئے۔ یہ ایماندار طلباء کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔

فڈنویس حکومت نے ٹی ای ٹی کا کام ایک پرائیویٹ کمپنی کو سونپا تھا۔ اساتذہ کی بھرتی کی طرح تلاٹھی، گرام سیوک اور زرعی معاونین کی بھرتیوں میں بھی گھوٹالہ ہوا۔امتحانات کے اس عمل کو ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے چلائے جانے کی وجہ سے یہ گھوٹالہ ہوا ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ یہ گھوٹالہ مدھیہ پردیش کے’ویاپم‘ گھوٹالے کی طرح ہے اور شندے فڈنویس حکومت کو اس گھوٹالے کے مجرموں اور فرضی فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف غیرجانبدارانہ طریقے سے کارروائی کرنی چاہیے۔