ممبئی میں بہار بھون تو پٹنہ میں مہاراشٹر بھون کیوں نہیں، ذات، مذہب، زبان اور صوبے کے نام پر سیاست بی جے پی کا ایجنڈا
بدلاپور کا واقعہ محکمۂ داخلہ کی ناکامی، ریاست کو مکمل وقت کے وزیر داخلہ کے نہ ہونے سے جرائم اور خواتین پر مظالم میں اضافہ
ممبئی/بلڈھانہ: میونسپل کارپوریشن انتخابات میں عوام نے کانگریس پارٹی کو ریاست میں تیسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھارا ہے اور اسے سب سے بڑی اپوزیشن کی حیثیت دی ہے۔ اب چندرپور، لاتور سمیت دیگر شہروں میں میئر کے عہدے کے لیے سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ چندرپور میں پارٹی کے اندر کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور قانون ساز پارٹی کے لیڈر وجے ویڈیٹی وار اور رکنِ پارلیمنٹ پرتبھاتائی دھانورکر کے درمیان مکمل تال میل موجود ہے۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی۔
بلڈھانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ چندرپور میں کانگریس کے 27 کونسلروں پر مشتمل متحد گروپ کی تشکیل کا عمل جاری ہے۔ شیو سینا (اُدھو)، ونچت بہوجن اگھاڑی اور دیگر اتحادی پارٹیوں کو کانگریس کے ساتھ لانے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے اور چندرپور میں کانگریس کا میئر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔ پربھنی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس نے شیو سینا (اُدھو) کو حمایت دی ہے اور چندرپور میں بھی ان پارٹیوں سے کانگریس کی حمایت پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وجے ویڈیٹی وار اور پرتبھاتائی دھانورکر کی قیادت میں میونسپل انتخابات کے دوران چندرپور ضلع میں کانگریس کو خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔ ان دونوں لیڈروں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی میں کوئی کمی نہیں ہے اور آئندہ بھی کسی مشکل کا امکان نہیں۔
ممبئی میں بہار بھون تو پٹنہ میں مہاراشٹر بھون کیوں نہیں
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی ذات، مذہب، زبان اور صوبے کے نام پر سیاست کرتی ہے اور اسی ذہنیت کے تحت نفرت پھیلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ممبئی میں بہار بھون کی تعمیر کا معاملہ بھی اسی ایجنڈے کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر ممبئی میں بہار بھون کے ساتھ پٹنہ میں مہاراشٹر بھون بنانے کا اعلان بھی کیا جاتا تو یہ دونوں ریاستوں کے درمیان ثقافتی تبادلے کی علامت ہوتا، مگر بی جے پی کا مقصد صرف تنازع کھڑا کرنا ہے اور اسی لیے بہار بھون کا مسئلہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
بدلاپور کا واقعہ محکمۂ داخلہ کی ناکامی
ریاست میں غنڈہ گردی اور خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ نہایت تشویشناک ہے اور یہ محکمۂ داخلہ کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ریاست کو کل وقتی وزیر داخلہ نہ ہونے کے سبب اس کے منفی اثرات مہاراشٹر کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ بدلاپور کا واقعہ پورے مہاراشٹر کے لیے شرمناک ہے۔ بی جے پی حکومت کو ایسی وارداتوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، مگر پُوکْسو کیس کے ایک ملزم کو ہی بدلاپور میں بی جے پی نے نامزد کونسلر بنایا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کمسن بچیوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کے معاملے میں وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ اور بی جے پی حکومت کس حد تک غیر حساس ہیں۔
MPCC Urdu News 24 January 26.docx