نئی دہلی: کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس میں کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی کے سکریٹری جنرل کو اور کانگریس کے صدر کو کچھ کانگریسی رہنماؤں کے ذریعے لکھے گئے خط پر غور وخوض اور تفصیلی گفتگو کے بعد درج ذیل نتائج اخذ کیے گئے۔
نمبر ایک: پچھلے چھ مہینوں میں ملک پر کئی آفتیں آئیں۔ ملک کو درپیش چیلنجزمیں
(1) کورونا کی وبا ہے جس نے ہزاروں زندگیاں نگل لی ہیں ۔
(2) تیزی سے گرتی ہوئی معیشت اور معاشی بحران۔
(3) کروڑوں ملازمتوں کا نقصان اور بڑھتی غربت نیز
(4) چین کے ذریعے ہندوستانی سرحد میں دراندازی وقبضے کی جرات یلغار کا بحران ہے۔
نمبر دو: چیلنج کے اس دور میں حکومت کی ہر معاملے میں ناکامی کو اجاگر کرنےواس کی فرقہ پرستی کی سیاست اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے والی سب سے طاقتور آواز محترمہ سونیا گاندھی اور جناب راہل گاندھی کی ہے۔ مہاجر مزدوروں کے مسائل پر محترمہ سونیا گاندھی کے براہ راست سوالات نے بی جے پی حکومت کا احتساب یقینی بنایا۔ محترمہ سونیا گاندھی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کانگریس کے زیر اقتدار ریاستوں میں کورونا کی وبا کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جائے اور معاشرے کے ہر طبقے کو صحت کی خدمات اور علاج دستیاب ہوسکے۔ ان کی قیادت نے اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو بیدار بھی کیا سچائی کا آئینہ بھی دکھایا۔ جناب راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی لڑائی کی بھر پور قیادت کی۔ کانگریس کے ہرعام کارکن کی وسیع رائے وخواہش کو ملحوظ رکھتے ہوئے ، کانگریس ورکنگ کمیٹی کی یہ میٹنگ محترمہ سونیا گاندھی اور جناب راہل گاندھی کے ہاتھوں اور کوششوں کو ہرممکن طریقے سے مضبوط کرنے کا عہد کرتی ہے ۔ سی ڈبلیو سی کی واضح رائے ہے کہ اس نازک موڑ پر کسی کو بھی پارٹی اور اس کی قیادت کو کمزور کرنے کی اجازت نہ تو کسی کو دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی کو دی جائے گی۔ آج یہ ہر کانگریس کارکن و قائد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندوستان کی جمہوریت ، تکثیریت اور تنوع پر مودی حکومت کی طرف سے ہونے والے مکروہ حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔
نمبر تین: تیسری و ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ان دونوں رہنماوں کی بلند آواز نے کانگریس کے اندر اور باہر ملک کی عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر بی جے پی حکومت سے سوال کرنے اور جواب مانگنے کا حوصلہ دیا ہے ،جبکہ حکومت عوام کو اپنے کھوکھلے و خود ساختہ موضوعات میں الجھاکر رکھنا چاہتی ہے۔ ان کی سربراہی میں کروڑوں کانگریس کارکنان اور حمایتی باہر نکل پڑے تاکہ موجودہ بی جے پی حکومت کے تحت انتظامیہ بڑی کوتاہیوں کی تلافی ہو سکے جن کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو اپنے حقوق اور معاش سے محروم ہونا پڑا۔
نمبر چار: سی ڈبلیو سی نے اس کا بھی نوٹس لیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات میں غور وخوض میڈیا کے ذریعے یا عوامی ڈومین میں نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے تمام کارکنوں و رہنماؤں کو مشورہ دیا ہے کہ پارٹی سے متعلق معاملات پارٹی کے پلیٹ فارم پر ہی رکھے جائیں تاکہ مناسب ڈسپلن بھی رہے اور پارٹی کا وقار بھی برقرار رہے۔
نمبر پانچ: سی ڈبلیو سی کانگریس کی صدر کو مذکورہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ضروری تنظیمی تبدیلیاں کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
مذکورہ بالا غور وخوض اور نتائج کی روشنی میں سی ڈبلیو سی متفقہ طور پر محترمہ سونیا گاندھی سے اپیل کرتی ہے کہ کورونا کے دور میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اگلے اجلاس کے بلائے جانے تک وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کے پروقار عہدے پر پارٹی کی قیادت فرمائیں ۔