MPCC Urdu News 23 March 23

مودی حکومت راہل گاندھی سے ڈرتی ہے، اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے: نانا پٹولے

ہم بی جے پی حکومت کے جبر کے خلاف سڑکوں پر اترکر منھ توڑ جواب دیں گے

بی جے پی حکومت کی آمریت کے خلاف ریاست بھرمیں جیل بھروتحریک

ممبئی:کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے نیرو مودی اور للت مودی جیسے بدعنوان لوگوں کے بارے میں ایک بیان دیا تھا۔ اس بیان پر راہل گاندھی کے خلاف یہ کارروائی مرکز کی مودی حکومت کے دباؤ میں کی گئی ہے۔ مودی حکومت عوام میں راہل گاندھی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر خوفزدہ ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے ہمارے لیڈر کو پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مودی حکومت پر یہ الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے عائد کیا ہے۔

مہاراشٹر کانگریس کے لیڈروں نے جمعرات کو راہل گاندھی کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مخالفت کی۔اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، سابق وزیر اعلی اشوک چوہان، پرتھوی راج چوہان، سابق وزراء وجے ودیٹی وار، سنیل کیدار، ممبئی کانگریس کے صدر ایم ایل اے بھائی جگتاپ، کارگزار صدر چرنجیت سنگھ سپرا، ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے کے علاوہ دیگر عہدیداران وکارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔

اس موقع پربات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ راہل گاندھی نے عوام کے پیسے لے کر بھاگنے والوں کے خلاف بیان دیا تھا، لیکن ان پر جھوٹے الزامات لگا کر دباؤ میں کارروائی کی گئی۔ ہم اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اگر للت مودی اور نیرو مودی کے خلاف بولنے پر سزا ملتی ہے تو کانگریس پارٹی پوری ریاست میں جیل بھرو تحریک چلائے گی اور اس فیصلے کی مخالفت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی پہلے ہی ساورکر پر اپنا موقف واضح کر چکی ہے لیکن حکمراں پارٹی کے لیڈر جان بوجھ کر ہمارے لیڈر کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے کہا کہ ملک بھر میں کانگریس پارٹی کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھ کر مرکز کی حکمراں جماعت ڈری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ کانگریس نے یہ احتجاج اس لیے شروع کیا ہے کیونکہ اس کے پاس مرکز میں حکمراں پارٹی کی پریشر مشینری کے خلاف سڑکوں پر اترنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ راہل گاندھی کے خلاف گجرات سے کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی سورت کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ چوہان نے کہا کہ راہل گاندھی عوام سے جڑے مسائل کو جارحانہ انداز میں اٹھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو آئندہ انتخابات میں شکست کا خوف ستانے لگا ہے۔ ریاست میں قانون ساز کونسل اور اسمبلی ضمنی انتخابات میں کانگریس کی جیت سے بھی اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اسی لیے انتخابات سے قبل ایسی سرگرمیاں شروع کی جا رہی ہیں۔ کانگریس بی جے پی کی اس طرح کی حرکتوں کا منہ توڑ جواب دے گی۔مرکزی حکومت کے اس جبر کے خلاف ریاست کے مختلف حصوں میں کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے جیل بھرو تحریک میں حصہ لیا۔

اسمبلی کی سیڑھیوں پر راہل گاندھی کی تصویر کے ساتھ توہین آمیز احتجاج حکمراں جماعت کی گندی سیاست: بالاصاحب تھورات

احتجاج کے نام پر گھناؤنی حرکتیں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہمارے پاس چپلیں ہیں اور حکمراں جماعت کے لیڈروں کی تصویریں بھی

حکمراں جماعت چاہئے کچھ بھی کرلے، مہاراشٹر کو دھوکہ دینے کا گناہ چھپایا نہیں جاسکتا

ممبئی:کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی تصویر کے ساتھ اسمبلی کی سیڑھیوں پرتوہین آمیزسلوک حکمران جماعتوں کی گھٹیا سیاست کو ظاہر کرتا ہے۔ اتنی نچلی سطح پر اترکربھی حکمران جماعت بے موسم بارش سے کسانوں کو ہونے والے نقصانات، مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگوں کی توجہ نہیں ہٹا سکے گی اور اس طرح کی حرکت کے ذریعے حکمراں جماعت مہاراشٹر کے عوام کے ساتھ کی گئی غداری کے گناہ پر پردہ نہیں ڈال سکے گی۔حکمراں جماعت پر یہ سخت تنقید کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات نے کیا ہے۔

تھوراٹ نے حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی سے صاف طور سے کہاکہ ہمارے پاس بھی چپلیں اور جوتے ہیں اور آپ کے لیڈروں کی تصویریں بھی ہیں لیکن ہم مہاراشٹر کے سیاسی روایت کی پاسداری کرتے ہیں۔ حکمراں جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ کانگریس پارٹی اپنے لیڈروں کی توہین کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہے۔

بی جے پی شندے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بالا صاحب تھورات نے کہا کہ اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کرنے کا حق سب کو ہے۔ ہم یہاں کئی مسائل پر احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن جمعرات کو ودھان بھون کی سیڑھیوں پر جو ہوا وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ ایک قابل مذمت عمل ہے جو جمہوریت کو داغدار کرے گا۔ سیڑھیوں پر جس انداز میں راہل گاندھی کی تصویر لگائی گئی اور اس تصویر کے ساتھ جس طرح سے توہین آمیز حرکت کی گئی، ایسی حرکت مہاراشٹر کی مقننہ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔ بالا صاحب تھورات نے کہا کہ راہل گاندھی کی شبیہ کو خراب کرنے اور ان کے خلاف متنازعہ بیان دینے والوں کو حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایسے ارکان کو اسمبلی میں بولنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ احتجاج کے نام پر راہل گاندھی کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

بالاصاحب تھورات نے حکمراں جماعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جنگ میں انگریزوں کی طرف سے لڑنے والے ہمیں کیا سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شندے-فڈنویس گروپ کے لیڈر چھترپتی شیواجی مہاراج، سنت تکارام، مہاتما پھلے جیسی عظیم شخصیات کے بارے میں مسلسل متنازعہ بیانات دے رہے ہیں۔ تھورات نے یہ بھی کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے مہاراشٹر میں سیاست کی سطح کو انتہائی نچلی سطح پرپہنچادیا گیا ہے جومہاراشٹر کی روایت پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading