MPCC Urdu News 23 August 23

ریاست کے کسانوں کو انصاف دلانے کے لیے ہم آرپار کی لڑائی لڑیں گے: نانا پٹولے

کیا 2410 روپے کی قیمت سے پیاز کی پیداواری لاگت نکلتی ہے؟

جب تک پیاز پر 40 فیصد ایکسپورٹ ڈیوٹی ختم نہیں ہوجاتی ہماری جدوجہد جاری رہے گی

بی جے پی حکومت کے ذریعے پیاز ایکسپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ کے خلاف احتجاج

ممبئی:ریاست کے کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے، اس لیے وہ سبزیوں کے ساتھ اپنی دیگرزرعی پیداوار سڑکوں پر پھینک رہے ہیں۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو کسانوں کا یہ دکھ نظر نہیں آرہا ہے۔ پیاز پر ایکسپورٹ ڈیوٹی میں اضافے سے اس کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور حکومت اب نافیڈ کے ذریعے 2410روپئے فی کوئنٹل کے حساب سے صرف 2 لاکھ میٹرک ٹن پیاز خریدے گی۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا اس قیمت میں پیاز کی پیدواری لاگت نکلتی ہے؟ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر بی جے پی حکومت کسانوں کی مجبوریوں وان کے جذبات کو نہیں سمجھے گی تو کانگریس پارٹی کسانوں کو انصاف دلانے کے لیے آرپار کی لڑائی لڑے گی۔

کل بروز بدھ کو کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کی قیادت میں پونے ضلع کے چاکن میں پیاز کے ایکسپورٹ ڈیوٹی میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر ایم ایل اے رویندر دھنگیکر، پونے کانگریس صدر اروند شندے سمیت سینکڑوں کسان موجود تھے۔

اس موقع پر نانا پٹولے نے کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے پیاز پر ایکسپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ سے کسانوں میں کافی غصہ ہے۔ ان تمام علاقوں میں جہاں پیاز کی فصل ہوتی ہے بازار اور نیلامی بند ہے۔ ہرطرف مودی حکومت کے خلاف ناراضگی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں 18/ لاکھ ٹن پیاز مارکیٹ میں آچکی ہے، لیکن نافیڈ صرف 2 لاکھ ٹن پیاز خریدنے جا رہی ہے، تو باقی پیاز کا کیا ہوگا؟ حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ پٹولے نے کہا کہ دراصل ریاستی حکومت کو پیاز کے کسانوں کو اچھی قیمت دلانے کے لیے مرکزی حکومت سے ایکسپورٹ ڈیوٹی منسوخ کرانے کی پہل کرنی چاہیے تھی، لیکن ان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں ہے۔کسانوں کو انصاف دلانے کے لیے کانگریس پارٹی ہمیشہ ان کے ساتھ ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جب تک پیاز پر 40 فیصد ایکسپورٹ ڈیوٹی ختم نہیں ہوجاتی ہماری لڑائی جاری رہے گی۔

نانا پٹولے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں ایوت محل میں وعدہ کیا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو وہ سوامی ناتھن کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کریں گے اور کسانوں کے لیے قرض معافی کی فائل پر سب سے پہلے دستخط کریں گے۔ لیکن مودی نے اقتدار میں آتے ہی اپنے الفاظ بدل ڈالے۔ان کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ سوامی ناتھن کمیٹی کی سفارشات کو نافذ نہیں کر سکتی اور کسانوں کے قرض معافی کو انتخابی جملہ قرار دے کر کسانوں کو دھوکہ دیا۔ مودی حکومت کی سازش تین کالے قانون لا کر کسانوں کو غلام بنانے کی تھی۔ دہلی بارڈر پر احتجاج میں 700 کسان شہید ہوئے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کو کسانوں سے ملنے کا وقت نہیں ملا، دوسری جانب احتجاج کرنے والے کسانوں کوآندولن جیوی وخالصتانی کہہ کر ان کی توہین کی گئی۔ زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دینا مودی حکومت کی سازش کا ایک حصہ ہے۔ کسانوں کو ہراساں کرنا اور اپنے صنعتکار دوستوں کی مدد کرنا مودی حکومت کی پالیسی ہے۔ نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کے جذبات کو نہ سمجھنے والی بی جے پی حکومت کسان مخالف اور ظالم ہے۔ ایسے میں عوام کو اس حکومت کواقتدار سے بے دخل کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو ایک موقع دینا چاہیے، کیونکہ کانگریس پارٹی کسانوں کے ساتھ عام لوگوں کو بھی انصاف دے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading