MPCC Urdu News 22 May 25

کیا این سی پی غنڈوں کی ٹولی ہے اور اجیت پوار اس ٹولی کے سرغنہ ہیں؟: ہرش وردھن سپکال

ایکناتھ شندے لٹیروں کے سردارہیں، ایم ایل اے ارجن کھوتکر اور ان کے پی اے کو فوراً گرفتار کیا جائے

ریاستی خواتین کمیشن غیر حساس، کمیشن کی صدر کو خواتین کی سلامتی سے زیادہ سیاست سے دلچسپی ہے

ممبئی: بی جے پی مہا یوتی کے دورِ حکومت میں ریاست میں جرائم نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ بیشتر جرائم کے ملزمین حکمراں اتحاد سے وابستہ ہیں اور انہیں حکومت کا تحفظ حاصل ہے۔ حالیہ دنوں میں ریاست میں پیش آئے مختلف جرائم میں این سی پی (اجیت پوار گروپ) کے اراکین کی نمایاں شمولیت دیکھی گئی ہے۔ یہ ایک نہایت سنگین معاملہ ہے اور اسی پس منظر میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا این سی پی غنڈوں کی ٹولی بن چکی ہے اور کیا نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار اس ٹولی کے سرغنہ ہیں؟

گاندھی بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بیڑ کے مسّاجوگ واقعے کے ملزم، پونے میں ’پورش کار‘ کے شراب نوشی کے بعد ڈرائیونگ کے حادثے کے ملزم، کویتا گینگ، شیلٹر ہوم کے نام پر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والا شنتنو کُکڑے، اس کا ساتھی این سی پی کے دیپک مانکر اور ویشنوئی ہگونے کو جہیز کے لیے ہراساں کر کے قتل کرنے والا راجندر ہگونے یہ سبھی ملزم این سی پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان تمام مجرموں کا تعلق اجیت پوار کے گروپ سے ہی کیوں ہے؟ سپکال کا کہنا تھا کہ ان مجرموں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، جس کی وجہ سے انہیں ایسے گھناؤنے جرائم کا حوصلہ ملتا ہے۔

اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ریاستی خواتین کمیشن کی بے حسی بھی ایک بار پھر بے نقاب ہوئی ہے۔ اگر خواتین کمیشن نے وقت پر نوٹس لیا ہوتا تو ایک معصوم کی جان بچ سکتی تھی۔ لیکن کمیشن کی صدر کو خواتین کی سلامتی سے زیادہ سیاست میں دلچسپی ہے، جس کی وجہ سے ریاست میں خواتین پر مظالم کے افسوسناک واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ہم اس رویے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

ارجن کھوتکر اور ان کے پی اے کو فوراً گرفتار کیا جائے

ریاست میں بی جے پی، شندے اور اجیت پوار گروپ کی مہا یوتی حکومت بدعنوانی کی بنیاد پر قائم ہے اور اس حکومت کے وزراء اور اراکینِ اسمبلی صرف لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں دھولیہ کے دورے پر گئے اسمبلی کی بجٹ کمیٹی کے سربراہ ایم ایل اے ارجن کھوتکر کے پی اے کے کمرے سے تقریباً دو کروڑ روپے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ اس حکومت کی لوٹ کا واضح ثبوت ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ رقم دھولیہ علاقے کے ٹھیکیداروں سے زبردستی وصول کی گئی تھی۔ اگر کھوتکر کے پی اے کے پاس اتنی بڑی رقم ہے تو خود کھوتکر کے پاس کتنی ہوگی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اس بدعنوانی کے حامی نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر ارجن کھوتکر اور ان کے پی اے کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی شندے گروپ کے تمام ایم ایل ایز کی جانچ انسداد بدعنوانی محکمہ، ای ڈی اور انکم ٹیکس محکمے سے کرائی جانی چاہیے۔

کسانوں پر قدرتی آفت، حکومت خاموش

ریاست میں بے موسم بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ ہزاروں لاکھوں ہیکٹر فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر پیاز پیدا کرنے والے کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے نہ تو کوئی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی پنچنامہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب خریف سیزن سر پر ہے۔ ریاست میں جعلی بیجوں اور کھاد کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ بیج اور کھاد کی من مانے طریقے سے ’لنکنگ‘ کے ذریعے دکاندار کسانوں کا استحصال اور دھوکہ کر رہے ہیں۔ کانگریس صدر نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے دکانداروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading