MPCC Urdu News 21 Sep 25

جی ایس ٹی کی شرح گھٹانے کا کریڈٹ لینے والے وزیر اعظم کو

آٹھ برس بڑھی ہوئی شرح سے کی گئی لوٹ کی ذمہ داری بھی لینی چاہیے: ہرش وردھن سپکال

ممبئی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قوم سے خطاب کرتے ہوئے حسبِ عادت جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ۲۰۱۷ میں جی ایس ٹی کو انہی مودی جی نے غیر معمولی طور پر بڑھائی گئی شرحوں کے ساتھ نافذ کیا تھا، جس سے ملک کے صنعت کار، تاجر اور عام شہری بری طرح پریشان ہوئے اور زبردست معاشی لوٹ کا شکار بنے۔ وہی مودی جی آج شرح کم کرنے کا سہرا اپنے سر باندھ کر اپنی پیٹھ تھپتھپاتے نظر آئے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں جی ایس ٹی کی وصولی دوگنی ہو کر بائیس لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے اور اس کا سب سے بھاری بوجھ صارفین اور چھوٹے تاجروں پر پڑا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو شرح میں کمی کا کریڈٹ لینے کے ساتھ ساتھ آٹھ برس بڑھی ہوئی شرح سے کی گئی لوٹ کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے، یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ راہل گاندھی نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مودی جی نے جی ایس ٹی کو ’گبّر سنگھ ٹیکس‘ میں بدل دیا ہے۔ شرح گھٹا کر عوام کی لوٹ بند کرو، یہ مطالبہ انہوں نے مسلسل کیا تھا، مگر فیصلہ کرنے میں مودی جی نے کئی سال تاخیر کی۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر تو مودی جی آج بھی خاموش ہیں۔ عوام کو ’دیسی‘ کا سبق پڑھانے والے وزیر اعظم خود غیر ملکی گاڑیاں، گھڑیاں، قلم اور فون استعمال کرتے ہیں۔ جب وہ ’آتم نربھر بھارت‘ کا درس دیتے ہیں تو حقیقت میں خود عیش و آرام کی زندگی میں ڈوبے رہتے ہیں۔ آج انہوں نے کہا کہ یہ ’بچت مہوتسو‘ ہے، تو کیا گزشتہ آٹھ برس ’لوٹ مہوتسو‘ چل رہا تھا؟ یہ وضاحت بھی انہیں کرنی چاہیے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ آج کے وزیر اعظم کے خطاب میں جوش اور اعتماد کی کمی تھی، شاید اس کی وجہ وہ نعرے ہیں جو پورے ملک میں گونج رہے ہیں ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ اور عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی ہے۔ وزیر اعظم کو عوام کو گمراہ کرنے والے بھاشن دینے کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری، زراعت اور کسانوں کے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔

MPCC Urdu News 21 Sep 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading