سنگم نیر: کرونا بحران ہے کی وجہ سے بہت سے غریب مزدور اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بہت سے لوگ فاقہ کشی پرمجبور ہیں۔مرکزی حکومت نے راحتی پیکیج کا اعلان کیا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس سے غریبوںکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر ستیہ جیت تانمبے نے آج یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ راہل گاندھی کے نیائے اسیکم کے تحت تمام غریب خاندانوں کوکم ازکم اگلے6ماہ تک ان کے کھاتوںمیں براہ راست ہراماہ6 ہزار روپئے جمع کیے جائیں۔
وہ یہاں سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کی 29ویں برسی کے موقع پر غریب خاندانوں میں 2سو روپئے کی تقسیم کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر مہاراشٹر پردیش یوتھ کانگریس کے ورکنگ صدر سومیشور دیوٹے، این ایس یو آئی کے ضلعی صدر نکھل پاپڈیجا، کارپوریٹر نتن ابھنگ ، گورو ڈونگرے ، وجئے اداونت ، وشال والژاڈے اور مشتاق شیخ موجود تھے۔
اس موقع پر ستیہ جیت تانمبے نے کہا کہ کانگریس لیڈر ممبرپارلیمنٹ راہول گاندھی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران غریبوں کے لئے نیائے اسکیم کے تحت 1 لاکھ 44 ہزار روپے سے کم آمدنی والے تمام خاندانوں کو ماہانہ 6000 روپے ان کے بینک اکاو ¿نٹ میں جمع کرنے کا منصوبہ لائے تھے۔ فی الوقت لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے تمام کاروبار بند ہیں، اس لیے بیشتر غریب خاندانوں پرفاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے۔ یومیہ مزدوری کرکے اپنی روزی روٹی چلانے والے غریبوں، مزدوروں، چھوٹے کسانوں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔
مرکزی حکومت نے پیکیج کا اعلان تو کیا ہے لیکن اس سے غریبوں کو کیسے اور کب فائدہ حاصل ہوگا؟ یہ اہم سوال ہے۔ لہذا ملک اور ریاست میں غریبوں کو فوری ریلیف کے لئے مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ کم از کم اگلے چھ ماہ کے لئے ہر ماہ 6000 روپے غریب خاندانوں کے بینک اکاو ¿نٹ میں براہ راست جمع کرے۔ یہاں تک کہ اگر مرکزی حکومت اس نیائے اسکیم کا نام تبدیل کرتی ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔