نریندر مودی کی احتجاج کر رہے کسانوں پر گولی چلانے کی تیاری!: نانا پٹولے
ظالم و جابر مودی حکومت کو کسان اقتدار سے بے دخل کردیں گے
اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس زرعی پیداوار کی ضمانت شدہ قیمت پر قانون بنائے گی
ممبئی: زرعی پیداوار کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) قانون کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی سرحدوں پر لاکھوں کسان احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کسانوں کو دہلی پہنچنے سے روکنے کے لیے ظالم و جابر مودی حکومت نے سڑکوں پر کیلیں لگا دی ہیں اور سیمنٹ کی دیواریں بنا دی ہیں۔ مودی حکومت کسانوں کی تحریک کو کچلنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے سنگین الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی احتجاج کرنے والے کسانوں پر گولی چلانے کی تیاری کر لی ہے۔
کسانوں کی تحریک پر بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی مودی حکومت کے 10 سالہ دور میں کسانوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے برعکس کسانوں کو اپنے مطالبات کے حصول کے لیے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ دو سال قبل لاکھوں کسانوں نے تین کالے قوانین کے خلاف ایک سال تک احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاجی تحریک میں تقریبا 700 کسانوں کی موت ہوئی تھی لیکن غاصب اور گینڈے کی کھال والی بے حس مودی حکومت ایک سال تک کسانوں پر ظلم کرتی رہی۔ ملک کو غذا فراہم کرنے والے کسانوں کو خالصتانی، نکسلائٹ اور دہشت گرد کہہ کر ان کی توہین کی گئی۔ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے حکومت نے گھٹنے ٹیک کر کالے قوانین کو منسوخ کر دیا، لیکن زرعی مصنوعات کی قیمتوں کی ضمانت دینے کا قانون ابھی تک نہیں بن سکا ہے۔ کسان اس مطالبے کو لے کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مودی سرکار نے ان کسانوں پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ دہلی کی تینوں سرحدوں پر پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسان ملک کے شہری نہیں ہیں؟ انہیں اپنے مطالبات کے لیے دہلی آنے سے روکنے کی کیا وجہ ہے؟ کیا وزیر اعظم نریندر مودی کسانوں سے بات کرنے میں ہچکچاتے ہیں؟ مودی حکومت نے 10 سال سے کسانوں پر ظلم کیا ہے۔ کسانوں کی خودکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ زرعی مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگا کر کسانوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ ’شیتکری سمان یوجنا‘ کے تحت کسانوں کی توہین کی جا رہی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ کسان اس ظالم و جابر بی جے پی حکومت کے خلاف اس وقت تک خاموش نہیں رہیں گے جب تک اسے وہ اقتدار سے بے دخل نہیں کر دیتے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہی ہے۔ کانگریس نے 2 سال قبل ہونے والی کسانوں کی تحریک کی حمایت میں ملک بھر میں احتجاج کیا تھا۔ راہل گاندھی نے خود اس تحریک میں حصہ لیا تھا۔ اب کانگریس ایک بار پھر کسانوں کے مطالبات کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی نے علانیہ کہا ہے کہ مرکز میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد ایم ایس پی پر قانون بنایا جائے گا۔