الیکشن کمیشن مودی حکومت کی کٹھ پتلی
ووٹوں کی چوری چھپانے کے لیے 48 گھنٹوں میں قانون کی دفعہ 93 تبدیل کیا گیا: نانا پٹولے
شام 5 بجے کے بعد 76 لاکھ ووٹ کیسے بڑھ گئے؟ الیکشن کمیشن جواب کیوں نہیں دیتا؟
ممبئی: 20 جون 2025
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور ووٹوں میں مصنوعی اضافے کو لے کر کانگریس پارٹی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر نانا پٹولے نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست میں غیر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کیا ہے اور اس عمل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتخابی کمیشن نے مودی حکومت کے ساتھ مل کر محض 48 گھنٹوں کے اندر عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت قاعدہ 93 میں ترمیم کر ڈالی۔
ناگپور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نانا پٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے روز شام 5 بجے تک ووٹنگ کا تناسب 58 فیصد تھا، لیکن اگلے دن اچانک یہ تناسب بڑھ کر 65 فیصد سے تجاوز کر گیا، جو کہ تقریباً 8 فیصد یعنی لگ بھگ 76 لاکھ ووٹوں کا اضافہ بنتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ ووٹ کہاں سے آئے؟ اور انتخابی کمیشن اس غیرمعمولی اضافے پر وضاحت دینے سے کیوں قاصر ہے؟
پٹولے کے مطابق جب شام 5 بجے کے بعد ڈالے گئے ووٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو انتخابی کمیشن نے ایسی معلومات فراہم نہ کرنے کے لیے ایک نیا قانون ہی نافذ کر دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چنڈی گڑھ ہائی کورٹ نے ہریانہ انتخابات سے متعلق ووٹنگ کے ریکارڈ اور دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن کمیشن نے اپنی مبینہ کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر قاعدہ 93 میں ترمیم کی۔ تفصیلات کے مطابق 17 دسمبر 2024 کو انتخابی کمیشن نے مرکزی وزارت قانون کو خط لکھ کر قاعدہ 93 میں ترمیم کی سفارش کی۔ یہ قاعدہ ووٹنگ کے بعد کے ریکارڈز اور دستاویزات کو عوامی رسائی کے دائرے میں لاتا تھا۔ مگر حکومت نے محض دو روز کے اندر، 19 دسمبر کو خط موصول ہونے کے بعد، 20 دسمبر کو کمیشن اور وزارت قانون کے درمیان میٹنگ بلائی، اور اسی رات 10:23 بجے نئے قاعدے کی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دی گئی۔
نانا پٹولے نے کہا کہ اگر انتخابی عمل شفاف اور غیرجانبدارانہ تھا تو پھر معلومات کے افشا سے روکنے کی یہ جلدبازی کیوں؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف مہاراشٹر یا ہریانہ ہی نہیں، بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمہوری نظام پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی کمیشن کا رویہ مکمل طور پر جانبدارانہ اور حکومت نوازی پر مبنی ہے، جس سے جمہوریت کی بنیادیں متزلزل ہو رہی ہیں۔کانگریس پارٹی اس معاملے پر قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کر چکی ہے، اور نانا پٹولے نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی اس معاملے کو ملک کی سب سے بڑی عدالت، یعنی سپریم کورٹ میں لے جائے گی تاکہ سچائی سامنے آ سکے اور جمہوری اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
MPCC Urdu News 20 June 25.docx