ریزرویشن ختم کرنے والی بی جے پی کسی کو بھی ریزروشن نہیں دے گی: ناناپٹولے
ریزرویشن کے معاملے پر مراٹھا اور او بی سی کمیونٹی کے ساتھ فڑنویس الگ الگ باتیں کہہ رہے ہیں
ریزرویشن کے لیے کوئی بھی خودکشی جیسا انتہائی قدم نہ اٹھائے
ممبئی:ریزرویشن کے معاملے پر بی جے پی ودیوندفڈنویس مراٹھا واوبی سی براداری کو گمراہ کررہے ہیں۔ فڈنویس اوبی سی کے سامنے علاحدہ موقف اختیار کرتے ہیں اور مراٹھا برادری کے سامنے علاحدہ موقف۔ ریزرویشن کا مسئلہ صرف کانگریس پارٹی ہی حل کرسکتی ہے۔ بی جے پی کا مقصد ریزرویشن کا خاتمہ ہے اور وہ کسی کو بھی ریزرویشن دینا نہیں چاہتی۔یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔
اس ضمن میں بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ریزرویشن کے معاملے پر جالنہ ضلع کے ایک مراٹھا نوجوان نے ممبئی میں خودکشی کرلی۔ اس کا ہمیں بہت دکھ ہے۔ ناناپٹولے نے کہا کہ ریزرویشن کے مسئلے پر کوئی بھی خودکشی جیسا انتہائی قدم نہیں اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2014 میں جھوٹے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی۔وہ عوام کو گمراہ کر رہی ہے، لوگوں کو اس کی گمراہی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔پٹولے نے کہا کہ اگر ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنا ہے تو 50فیصد کی حد ختم کرنا ہوگا اور اس کا فیصلہ مرکزی حکومت کو کرنا ہوتا ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری کرنے سے ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنے میں آسانی ہوگی، اسی لیے کانگریس پارٹی ذات پر مبنی مردم شماری کرنے کی مضبوطی سے مطالبہ کررہی ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پہلے بھی ریاست میں منشیات کے مسئلہ پر آواز اٹھائی تھی، اس وقت حکومت سو رہی تھی۔ ڈرگ مافیا للت پاٹل کی گرفتاری کے بعد اب حکومت جاگی ہے۔ فڈنویس اب بول رہے ہیں لیکن ہوم اکاؤنٹ آپ کے پاس ہے، حکومت آپ کی ہے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحقیقات کیوں نہیں کرتے؟ کانگریس پارٹی نے منشیات کے معاملے پر ناسک میں احتجاج کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ مہاراشٹر سے منشیات فروشوں کے گروہوں کو ختم کیا جائے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ للت پاٹل اس معاملے میں ایک پیادہ ہے، حکومت کو یہ معلوم کرنے کے لیے اس کے پیچھے اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ اس کی تحقیقتا ہوتی چاہئے۔
ایم وی اے سیٹ الاٹمنٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ ایم وی اے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے، لیکن مہایوتی میں سیٹ الاٹمنٹ کو لے کر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ ایکناتھ شندے کی شیوسینا 17-18 لوک سبھا سیٹیں مانگ رہی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ فی الحال کانگریس پارٹی پانچ ریاستی اسمبلیوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، مہاوکاس اگھاڑی مناسب وقت پر سیٹوں کی تقسیم پر بات کرے گی۔