جرانگے پاٹل کا فڑنویس سے متعلق بیان حقیقت پر مبنی، ریزرویشن میں فڑنویس ہی رکاوٹ: نانا پٹولے

  • بی جے پی کو اقبال مرچی سے متعلق شخص سے کوئی دشواری نہیں، پھر نواب ملک سے کیوں؟
  • ووٹ نہ دینے پر پیسے واپس لینے کی بات کرنے والے حکمراں طبقے کے لوگ ہی سب سے بڑے مکار ہیں

  • راجیو گاندھی جینتی کے موقع پر کل شَن مُکھا نند ہال میں جلسہ عام، ملکارجن کھڑگے، شرد پوار و ادھو ٹھاکرے کی شرکت

ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے منوج جرانگے پاٹل کے اس بیان کو حقیقت پر مبنی بتایا ہے، جس میں انہوں نے مراٹھا ریزرویشن کے معاملے میں فڑنویس کو رکاوٹ قرار دیا ہے۔ پٹولے نے کہا ہے کہ جب ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی تو وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے رانے کمیشن قائم کیا تھا اور مراٹھا کمیونٹی کو ریزرویشن دیا تھا۔ لیکن فڈنویس کے قریبی لوگوں نے اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا۔ اس وقت کے ایڈوکیٹ جنرل اشوتوش کمبھ کونی نے بھی سرعام یہ کہا تھا کہ فڑنویس نے عدالت میں ریزرویشن کی حمایت نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ فڑنویس کے قریبی ساتھی گن رَتن سدھاورتے بھی ریزرویشن کے خلاف عدالت میں گئے تھے۔ اس لیے ریزرویشن کے معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس آج جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ صریح جھوٹ ہے۔

کانگریس کے صدر دفتر تلک بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی اقتدار کے لیے برطانوی پالیسی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ پر عمل کر رہی ہے۔ فڑنویس نے گائیکواڑ کمیشن قائم کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے بھی سوالات اٹھائے تھے۔ فڑنویس حکومت کے دوران مراٹھا ریزرویشن کے لیے اسمبلی میں قرارداد بھی پاس کی گئی لیکن بعد میں وہ عدالت میں برقرار نہ رہ سکا۔ ریزرویشن سے متعلق حکومت کے ہر فیصلے کی اپوزیشن نے حمایت کی ہے لیکن شندے حکومت بلا وجہ اپوزیشن پر الزام لگا رہی ہے۔

نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ لاڈکی بہین اسکیم حکومت کو انتخابات کے پیشِ نظر یاد آئی ہے۔ دو سال تک انہیں بہنیں یاد نہیں آئیں، صرف کاروباری اور ٹھیکیدار یاد تھے۔ لیکن جب لوک سبھا میں عوام نے جھٹکا دیا تو انہیں بہنیں یاد آگئیں۔ وہ ووٹ نہ دینے پر اسکیم کے پیسے واپس لینے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ یہ لوگ جھوٹے، دغا باز اور مکار ہیں اور بہنوں کو ان سے بچنے کی ضرورت ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ نریندر مودی نے اقتدار میں آتے ہی 500 روپے کا گیس سلنڈر دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار میں آکر بھول گئے۔ ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا لیکن 5 لاکھ نوکریاں ختم کر دیں۔ اسی وجہ سے خواتین بی جے پی پر بھروسہ نہیں کرتیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ این سی پی کے لیڈر اجیت پوار کی یاترا میں نواب ملک کی شرکت پر بی جے پی کو اعتراض کیوں ہے؟ اگر انہیں داؤد قبول ہے تو نواب ملک کیوں نہیں؟ پٹولے نے کہا کہ 70,000 کروڑ کے گھوٹالے کا الزام لگا کر انہیں ہی ریاستی خزانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس سے بی جے پی کی نیت ظاہر ہوتی ہے۔ نواب ملک پر داؤد کی بہن کے ساتھ زمین کے لین دین کا الزام ہے تو پھر اقبال مرچی کے ساتھ تعلق رکھنے والا شخص بی جے پی کو کیسے قبول ہے؟ سچائی یہ ہے کہ یہ صرف دکھاوا ہے، بی جے پی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس موقع پر نانا پٹولے نے یہ بھی اطلاع دی کہ سابق وزیر اعظم اور بھارت رتن راجیو گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر کل 20 اگست کو شن مکھانند ہال میں ایک اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، این سی پی کے صدر شرد پوار، شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے اور دیگر رہنما اور کارکنان بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ اس پریس کانفرنس میں سی ڈبلیو سی کے رکن اور راجیہ سبھا کے رکن چندرکانت ہنڈورے، اقلیتی امور کے سربراہ وجاہت مرزا اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading