اسمبلی انتخابات سے قبل مہایوتی ٹوٹ جائے گی، این سی پی-ایس پی کی پیشین گوئی

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ ہلچل این سی پی-ایس پی کی جانب سے کی گئی اس پیشین گوئی کے بعد پیدا ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل مہایوتی ٹوٹ جائے گی۔ پارٹی کے ترجمان مہیش تپاسے نے شندے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ مہایوتی اتحاد جلد ہی بکھر جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس غیر مستحکم اتحاد کے اندرونی اختلافات اور عدم اعتماد انتخابات سے قبل ہی مہایوتی کو ختم کر دیں گے۔

مہیش تپاسے نے خاص طور پر بی جے پی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ بی جے پی نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا اور شرد پوار کی این سی پی کو توڑ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے اقتدار کے لئے مہا وکاس اگھاڑی کی سابقہ حکومت کو گرانے کی سازش کی تھی۔ تپاسے نے کہا کہ بی جے پی نے مہاراشٹر کی سیاست کے معیار کو خراب کر دیا۔ اس نے اقتدار کی ہوس میں اپوزیشن کو کمزور کرنے اور پارٹیوں کو توڑنے کی حرکت کی، لیکن حالیہ لوک سبھا انتخابات میں عوام نے بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی اتحاد کو سختی سے مسترد کر دیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگ اس کی حرکتوں سے خوش نہیں ہیں۔

این سی پی- ایس پی کے ترجمان مہیش تپاسے نے کہا کہ شیوسینا (شندے گروپ) کے لیڈر رام داس کدم کی جانب سے بی جے پی کے وزیر رویندر چوہان کے خلاف دیے گئے بیان اور اجیت پوار کی جن سمان یاترا کے دوران بی جے پی کارکنوں کی جانب سے کالے جھنڈے دکھائے جانے جیسے واقعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مہایوتی میں اندرونی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہایوتی کے اتحادی جماعتوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں ہے، نہ ہی عوامی فلاح و بہبود کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ اتحاد صرف اقتدار پر قابض رہنے اور قانونی گرفت سے بچنے کے لئے وجود میں آیا ہے۔

تپاسے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلی ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلی دیوندر فڑنویس، اجیت پوار کے ’لاڈکی بہین یوجنا‘ کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکومت نے اس اہم اسکیم کے آغاز کے موقع پر اپوزیشن کے لیڈران کو کیوں نہیں بلایا، اور کہا کہ یہ سب سیاسی چالیں ہیں جو عوام کے مفاد کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہایوتی اتحاد میں نہ کوئی ہم آہنگی ہے، نہ باہمی احترام، اور نہ ہی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی مخلصانہ کوشش۔ یہ اتحاد صرف اقتدار کے حصول اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ تپاسے نے پر اعتماد انداز میں کہا کہ آئندہ انتخابات میں مہا وکاس اگھاڑی حکومت ایک بار پھر اقتدار میں آئے گی اور عوامی مفادات کی حفاظت کرے گی۔

 

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading