کیا بی جے پی اور نریندر مودی وویک دیبرائے اور رنجن گوگوئی کے بیانات سے متفق ہیں؟
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی توہین کرنے والے برطانوی ذہنیت کے لوگ استعفیٰ دیں
ممبئی: ملک کے آئین کو تبدیل کرنے کی بات آر ایس ایس اور بی جے پی مسلسل کرتی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتصادی مشیر وویک دیبرائے نے ایک مضمون میں آئین کو تبدیل کرنے کی بات کہی ہے۔ وویک دیبرائے کی ہی طرح بی جے پی کی مہربانی سے راجیہ سبھا کے رکن بنے ریٹائرڈ چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ کیا بی جے پی اور نریندر مودی ان دونوں بیانات سے متفق ہیں؟ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر اس پراپنا موقف واضح کریں۔
جمعرات کو تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے آئین کو تبدیل کرنے کی بات کرنے والوں پر سخت تنقید کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ہمارے ملک کو دنیا کا بہترین آئین دیا ہے۔ اس آئین نے محروم، پسماندہ طبقات، دلت و اقلیتی طبقے کو سماج کے مرکزی دھارے میں لایا اور سماج کے نچلے طبقے کے شہریوں کو انصاف فراہم کیا۔ سب کو یکساں حقوق اور انصاف دیا گیا ہے لیکن ہمارے ملک میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آئین پر عمل نہیں کرتے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور اس سے منسلک تنظیمیں مسلسل آئین میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بی جے پی کے ذہن میں جو کچھ ہے وہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔ برطانوی ذہنیت سے وابستہ لوگوں نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے افکار کی توہین کی ہے۔ اس کی وضاحت کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ آئین سے متعلق اس طرح کے توہین آمیز بیانات دینے پر وزیراعظم کو ویوک دیبرائے اور رنجن گوگوئی کا استعفیٰ لے لینا چاہئے۔
ریاست کی صورتحال سنگین ہے، گورنر توجہ دیں
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست کے کسان ایک بار پھر مشکل میں ہیں۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں بوائی نہیں ہو سکی ہے، زرعی پمپ کو 12 گھنٹے بجلی دینے کا اعلان کیا گیا لیکن 8 گھنٹے بھی بجلی نہیں مل پارہی، کسانوں کو دھان پر بونس نہیں دیا گیا، پیاز پر سبسڈی نہیں ملی، کسانوں کے گھروں میں کپاس ابھی تک پڑی ہے، شدید بارش کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر حکومت کی جانب سے دی جانے والی مدد ابھی تک نہیں ملی، کسانوں کی خودکشی مسلسل بڑھ رہی ہے، 36 اضلاع کے لیے محض19/نگراں وزیرہونے کی وجہ سے انتظامیہ ٹھپ ہے۔ لوگوں کے کام نہیں ہوپارہے ہیں۔ اس صورتحال کے لیے ریاستی حکومت ذمہ دار ہے اور گورنر کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔
راہل گاندھی کو بدنام کرنے کی کوشش
ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی ہمارے لیڈر راہل گاندھی کو بدنام کرنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے لیکن ان کی شبیہ مزید نکھرتی جارہی ہے۔ ماضی میں بھی راہل گاندھی کو ان کے خاندانی نام کی بنیاد پر نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔لیکن راہل گاندھی کی کنیت کا مسئلہ اٹھانے والوں کو عوامی مسائل، مہنگائی و بیروزگاری پر بات کرنی چاہیے۔ جو لوگ کنیت پر سوال اٹھا رہے ہیں ہم ان کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے۔
نریندر مودی کو کرپشن پر بات نہیں کرنی چاہیے
نانا پٹولے نے کہا کہ ’نہ کھاؤنگا اور نہ کھانے دونگا‘ کا نعرہ لگاتے برسرِ اقتدار آنے والے وزیراعظم نریندرمودی کے دور میں کرپشن شباب پر ہے۔ نوٹ بندی ایک بڑا گھوٹالہ ہے، کانگریس پر سوال اٹھانے سے پہلے بی جے پی لیڈروں کو دیکھنا چاہئے کہ مودی حکومت کے دوران کرپشن کتا بڑھ گیا ہے۔ دوارکا ایکسپریس وے ہائی وے کی تعمیر پر 18/ کروڑ روپے فی کلومیٹر لاگت آنے کی امید تھی لیکن اس پر 250 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں سڑکوں کی تعمیر کے کاموں میں کتنے کروڑ کے گھپلے ہوئے ہوں گے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو بدعنوانی پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔