اِندراینی ندی پُل حادثے کی اعلیٰ سطحی جانچ ہو اور قصورواروں پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کیا جائے: ہرش وردھن سپکال

حادثے کے بعد ہی بی جے پی-یوتی حکومت جاگی، خطرناک پُل کو کھلا کیوں چھوڑا گیا تھا؟

راجکوٹ قلعے پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کو ایک بار پھر بدعنوانی کی نظر لگ گئی

ممبئی: پونے ضلع میں اندرایِنی ندی کے پُل کے گرنے سے جو ہلاکتیں ہوئیں وہ حکومت کی مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب یہ معلوم تھا کہ مانسون کے دوران کنڈملہ میں سینکڑوں سیاح آتے ہیں، تو اس خستہ حال اور خطرناک پُل کو بند کیوں نہیں کیا گیا؟ کانگریس لیڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے لیے ذمہ دار افسران کے خلاف غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

اندرایِنی پُل حادثے پر بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کنڈملہ کا لوہے کا پُل پہلے سے ہی کمزور ہو چکا تھا اور خود حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی مرمت کے لیے ایک سال قبل فنڈ منظور کیا گیا تھا۔ تو پھر اس ایک سال میں کام کیوں نہیں ہوا؟ کیا حکومت کسی سانحے کا انتظار کر رہی تھی؟ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پُل پر انتباہی بورڈ لگایا گیا تھا، مگر صرف بورڈ لگا کر حکومت اور افسران اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اس حادثے میں 55 سیاح بہہ گئے، جن میں سے کچھ کو بچا لیا گیا، مگر چار افراد کی موت ہو گئی اور چھ شدید زخمی ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ صرف مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دے دینے سے حکومت کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔ جب تک اصل قصورواروں کو سخت سزا نہیں ملتی، تب تک ایسے سانحات کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لے گا اور معصوم لوگ اسی طرح مرتے رہیں گے۔

حادثے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے تمام خطرناک پُلوں کے اسٹرکچرل آڈٹ کے احکامات جاری کیے ہیں، جس پر ہرش وردھن سپکال نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو’بارات کے پیچھے گھوڑا‘ دوڑانے جیسا ہے۔ حادثے ہوتے ہیں، لوگ مرتے ہیں، حکومت چند پیسے دے کر اپنی ذمہ داری ختم کر لیتی ہے اور پھر سب کچھ جوں کا توں چلتا رہتا ہے۔ اس تباہ کن چکر کو اب بند ہونا چاہیے۔

چھترپتی شیواجی مہاراج کے راجکوٹ قلعے پر نصب مجسمے کے چبوترے میں ایک بڑا گڑھا پڑنے پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ یہ گڑھا ناقص تعمیرات کا نتیجہ ہے۔ اس مجسمے کا افتتاح 11 مئی کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کیا تھا۔ لیکن صرف ایک مہینے میں ہی چبوترے میں گڑھا پڑ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ تعمیر کس قدر گھٹیا تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے دسمبر 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی مقام پر مہاراج کے ایک مجسمے کا افتتاح کیا تھا، مگر اس وقت بھی ناقص تعمیر اور بدعنوانی کی وجہ سے وہ مجسمہ آٹھ مہینے میں ہی گر گیا تھا۔ عوام کے شدید احتجاج کے بعد نئی مورتی نصب کی گئی، مگر اب ایک بار پھر کرپشن کی دیمک نے شیواجی مہاراج کے مجسمے کو چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہا-بدعنوان مہا-یوتی نے اب عظیم شخصیتوں کے مجسموں کو بھی اپنی کرپشن سے آلودہ کر دیا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading