ضلع سے لے کر گاؤں کی سطح تک تنظیم سازی کے لیے کانگریس کا ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘: ہرش وردھن سپکال
اشوک کھرات معاملے نے مہایوتی حکومت کو اندر سے کمزور کر دیا، منتخب ویڈیوز کے لیک ہونے کے پیچھے سازش کا شبہ
ایندھن بحران پر راہل گاندھی کو مورد الزام ٹھہرانا گمراہ کن، بی جے پی ذمہ داری سے بچ رہی ہے
ممبئی: کانگریس پارٹی نے تنظیم کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ریاست بھر میں ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ یہ مہم آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی پالیسی کے تحت چلائی جا رہی ہے، جس کے ذریعے ضلع کانگریس کمیٹیوں کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مہم کے تحت قومی سطح کے لیڈر مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے، مقامی کارکنوں سے بات چیت کریں گے اور ضلع صدور کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا، جبکہ تعلقہ اور گاؤں سطح تک تقرریاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ذریعے کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کو تنظیمی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے اور پارٹی ڈھانچے کو نچلی سطح تک مستحکم بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں ممبئی کے تلک بھون میں ہرش وردھن سپکال کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینئر لیڈروں، ضلع صدور اور تنظیمی مہم کے رابطہ کاروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں وجے ویڈیٹی وار، بالا صاحب تھورات، نسیم خان، یشومتی ٹھاکر، کے سی پاڈوی، ڈاکٹر وشوجیت کدم، رنجیت کامبلے، رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے، ڈاکٹر کلیان کالے، ڈاکٹر شوبھا بچھاؤ، بلونت وانکھڑے، ولاس اوتاڑے، شیوراج مورے، موہن جوشی، سچن ساونت، اتل لونڈھے، سدھارتھ ہتھی امبیرے اور وجاہت مرزا سمیت کئی اہم لیڈران اور عہدیداران موجود تھے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے بتایا کہ یہ مہم ملک بھر میں شروع ہو چکی ہے اور مہاراشٹر میں 27 مارچ سے اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم مئی تک سفارشات پر مبنی رپورٹ تیار کر لی جائے گی، جس کے بعد ضلع صدور کی تقرری عمل میں آئے گی۔ ان کے مطابق ریاست میں 72 ضلع صدور اور تقریباً 750 تعلقہ صدور مقرر کیے جائیں گے، جبکہ تنظیم کو گاؤں کی سطح تک پہنچانے کے لیے گرام شاخیں بھی قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ یوتھ کانگریس، خواتین کانگریس، ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی محکموں کے لیے بھی ضلع اور تعلقہ سطح پر ذمہ داران مقرر کیے جائیں گے۔
اشوک کھرات معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نام نہاد بابا سے متعلق کیس نے مہایوتی حکومت کو اندرونی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ مبینہ جنسی استحصال سے متعلق درجنوں ویڈیوز سامنے آنے کی بات کی جا رہی ہے اور ممکن ہے کہ ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو۔ ان کے مطابق محکمہ داخلہ کی جانب سے صرف چند مخصوص ویڈیوز کو منظر عام پر لایا جا رہا ہے، جس سے ایک بڑی سازش کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کھرات کے قریبی افراد کے پاس سے بڑی مقدار میں برآمد ہونے والی جائیداد اور دولت کا اصل ذریعہ کیا ہے۔
ایندھن کے بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک میں پٹرول پمپوں اور ایل پی جی گیس کے لیے طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، اس کے باوجود وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے اس کا الزام راہل گاندھی پر عائد کرنا گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس یا راہل گاندھی افواہیں نہیں پھیلا رہے، بلکہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران ایسی صورتحال کا ذکر کیا تھا جس سے عوام میں خدشات پیدا ہوئے۔ ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کے باعث ملک کو ایندھن اور ایل پی جی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بی جے پی حکومت اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے اپوزیشن پر الزام تراشی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔