بہار کے حامی مہاراشٹر بی جے پی لیڈران کو غم برداشت کرنے کی طاقت ملے:سچن ساونت

ممبئی:مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعہ دیئے جانے والےتمغوں میں سے بہار پولیس کو اس سال ایک بھی تمغہ نہیں ملا ہے، جبکہ مہاراشٹرپولیس نے 58 تمغے حاصل کیے ہیں۔ بہار پولیس کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے مہاراشٹر پولیس کی توہین کرنے والے بہار کے حمایتی بی جے پی لیڈران کو اس سے زبردست تکلیف پہونچی ہوگی۔ میری دعا ہے کہ انہیں یہ دکھ برداشت کرنے کی طاقت ملے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور ترجمان سچن ساونت نے کہی ہیں۔

اس سلسلے میں سچن ساونت نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی لیڈران نے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی تحقیقات کی ضمن میں ممبئی پولیس پر بار بار عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہے۔ جبکہ ممبئی پولیس سوشانت سنگھ کیس کی تفتیش نہایت عمدگی سے کر رہی ہے اور اس کی تفتیش پر شک کرنا، تفتیش سی بی آئی کے حواکے کرنے کا مطالبہ کرنا نیز ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو چھٹی پر بھیجنے جیسی باتوں سے ممبئی پولیس پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اس گروہ نے ایک طرح سے ممبئی پولیس کی حوصلہ شکنی کی ہے اور آج بھی کررہے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ممبئی اور مہاراشٹر پولیس فورس کے افسران کو میڈلز دے کر ان کا اعزاز دیتے ہوئے ان کے کاموں پر اعتماد ظاہر کیا ہےجو ریاست کے بی جے پی لیڈران کو ایک زوردار طمانچہ ہے۔

ممبئی پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد ظاہرکرتے ہوئے بہار پولیس پر ان لوگوں کا پیار امڈتا ہوا نظر آرہا ہے۔ یہ لوگ بار بار یہ کہتے رہے کہ بہار پولیس کو سوشانت سنگھ کیس کی تحقیقات کرنے دیں ، ان کے افسران کو قرنطینہ کرنا غیرمناسب ہے۔ بہار کی پولیس ممبئی میں آکر اور بہار کے ڈی جی پی میڈیا میں علانیہ طور پر ممبئی پولیس کی توہین کر رہے تھے۔ در حقیقت ممبئی پولیس فورس دنیا کی بہترین پولیس فورس میں سے ایک ہے۔ اسی ممبئی پولیس نے اب تک مشکل سے مشکل ترین جرائم کی تحقیقات کرتے ہوئے مجرموں کو سخت سزا ئیں دلانے کا نہایت عمدہ کام کیا ہے۔سچن ساونت نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں تک محکمہ پولیس کے سربراہ کے طور پر انہیں دیویندر فڑنویس نے سربراہی کی ہے اوراب جبکہ اقتدار سے محروم ہوئے انہیں محض 6-7 ماہ ہی ہوئے ہیں ،فڈنویس وان کے ساتھی اسی پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں جو نہایت افسوسناک ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading