MPCC Urdu News 15 Sep 25

کسان آسمانی آفت کے شکار مگر مہاراشٹر کے سلطان خاموش

کسانوں کو فی ہیکٹر 50 ہزار کی مدد فراہم کی جائے۔: ہرش وردھن سپکال

بنگلورو کے میٹرو اسٹیشن کے نام کو لے کر وزیراعلیٰ فڑنویس کی لاعلمی، جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے پر معافی مانگیں

ہر کارکن کی خواہش ہے کہ اشوک چوان جیسا ‘ونواس’ سب کو ملے

ممبئی: ریاست میں لوٹتے مانسون نے تباہی مچا دی ہے اور کسان انتہائی مایوس ہو چکا ہے۔ ریاست کے تقریباً تمام علاقوں کی فصلیں برباد ہو گئی ہیں، یہ خریف سیزن پوری طرح چوپٹ ہو گیا ہے۔ اس جانب مہایوتی حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ کسان اتنے بڑے بحران میں ہے لیکن مہاراشٹر کے سلطان دیویندر فڑنویس یا ان کی کابینہ کے کسی وزیر کے منہ سے مدد کی بات تک نہیں نکلی۔ اس سنگین صورت حال کے پیشِ نظر حکومت فوری طور پر کسانوں کو فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی امداد فراہم کرے۔یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔

تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی مئی سے مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ کسانوں کو مدد دی جائے۔ بارش نے کسانوں کا سب کچھ چھین لیا ہے۔ فصلیں تو ختم ہو ہی گئی ہیں، لاکھوں ہیکٹر زمین بھی برباد ہو گئی ہے۔ ایسے وقت میں حکومت سے مدد کی امید ہوتی ہے، لیکن سابق وزیر زراعت تو تاش کھیلنے میں مصروف رہے اور وزیراعلیٰ و نائب وزیراعلیٰ نے توجہ ہی نہیں دی۔ ضلع کے سرپرست وزیروں کو کسانوں کے کھیتوں میں جانا چاہیے تھا، لیکن ان کے پاس بھی وقت نہیں ہے۔ اب کسان ربی سیزن کی طرف امیدیں لگا رہا ہے، اس سیزن کے لیے بیج اور کھاد مفت فراہم کیے جائیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بارش کے سبب ممبئی کی سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جگہ جگہ بڑے گڑھے ہو گئے ہیں، لیکن میونسپل کارپوریشن کہیں کام کرتی نظر نہیں آ رہی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے پاس 90 ہزار کروڑ روپے کی بینک ڈپازٹ رقم تھی، جس پر مہایوتی حکومت نے ڈاکہ ڈالا اور اوپر سے 1300 کروڑ کا قرض بھی لیا۔ مہایوتی حکومت نے میونسپل کارپوریشن پر منتظم نہیں بلکہ ڈاکو بٹھایا ہے اور ممبئی کے شہریوں کے پیسوں کی لوٹ جاری ہے۔ اس معاملے میں وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بنگلورو کے میٹرو اسٹیشن کے نام کو لے کر ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کیا ہے۔ اس سے ان کی لاعلمی اجاگر ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیواجی نگر ایک علاقے کا نام ہے اور اس علاقے میں دو میٹرو اسٹیشن ہیں۔ نام بدلنے کی کوئی تجویز نہیں ہے، لیکن شیواجی مہاراج کے نام پر فڑنویس نے بغیر معلومات لیے اپنی عادت کے مطابق جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کیا۔ اس کے لیے انہیں عوام سے علانیہ معافی مانگنی چاہیے۔ دراصل بی جے پی نے ہی بار بار چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کی ہے۔ ساورکر نے مہاراج کے بارے میں کیا لکھا ہے، یہ بھی فڑنویس کو پڑھنا چاہیے۔ خاص بات یہ ہے کہ جس شیواجی نگر کو لے کر تنازعہ کھڑا کیا گیا، وہاں مسلم اور درج فہرست ذاتوں کی کثیر آبادی رہتی ہے۔ انہوں نے کبھی بھی اس نام کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی نام بدلنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن فڑنویس جان بوجھ کر جھوٹ بول کر مذہبی تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ اشوک چوان کے بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اشوک چوان کو ایم ایل اے، ایم پی، وزیر، دو بار وزیراعلیٰ، پردیش صدر جیسے اہم عہدے کانگریس پارٹی نے دیے۔ ان کے والد شنکر راؤ چوان کو بھی وزیر، دو بار وزیراعلیٰ اور مرکزی وزیر جیسے بڑے عہدے ملے۔ ایسا ‘ونواس’ سب کو ملے، یہی کارکنوں کی خواہش ہے۔

سپکال نے کہا کہ ریاست میں 2.5 لاکھ سرکاری عہدے خالی ہونے کے باوجود حکومت بھرتی نہیں کر رہی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں اہل نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار ملے، اس مقصد سے کانگریس پارٹی نے پہل کی ہے اور 16 ستمبر کو تلک بھون میں شاندار روزگار میلہ منعقد کیا گیا ہے۔ آئی ٹی، بینکنگ، ریٹیل، ہیلتھ کیئر، مینوفیکچرنگ، سروسز جیسے مختلف شعبوں کی 40 سے زائد مشہور کمپنیاں اس میں شریک ہوں گی۔

MPCC Urdu News 15 Sep 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading