کانگریس ایم وی اے حکومت آنے کے بعد کابینہ کی پہلی میٹنگ میں پرانی پنشن پر فیصلہ: نانا پٹولے
پرانی پنشن اسکیم کو بند کرنے کا گناہ بی جے پی کی اٹل بہاری واجپائی حکومت نے کیا تھا
ممبئی: مرکزی اور ریاستی بی جے پی حکومت کو سرکاری ملازمین کی جانب سے پرانی پنشن اسکیم کی بحالی کے مطالبے پر سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ سرکاری ملازمین نے بی جے پی حکومت کی نئی پنشن اسکیم کو مسترد کر دیا ہے، لیکن وزیراعظم نریندر مودی جھوٹے دعوے کر رہے ہیں کہ سرکاری ملازمین اس اسکیم سے مطمئن ہیں۔ کانگریس نے واضح طور پر سرکاری ملازمین کے مطالبے کی حمایت کی ہے اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے یقین دلایا ہے کہ کانگریس کی حکومت آتے ہی پہلی کابینہ میٹنگ میں پرانی پنشن اسکیم بحال کی جائے گی۔
نانا پٹولے شرڈی میں منعقدہ ایک ریاستی پنشن کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پرانی پنشن اسکیم سرکاری ملازمین کا حق ہے۔ یہ وہ پیسہ ہے جو ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد واپس ملنا ہے اور یہ حکومت کا کوئی احسان نہیں۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کرنے سے خزانہ خالی ہونے کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ نانا پٹولے سوال کیا کہ انل امبانی کے 1700 کروڑ روپے کا قرض معاف کرتے وقت کیا خزانے پر کوئی اثر نہیں پڑا؟ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 2.5 لاکھ سرکاری عہدے خالی ہیں اور مخلوط حکومت ان اسامیوں کو بھرنے میں ناکام ہے، لیکن کانگریس کی حکومت آتے ہی ان عہدوں کو پُر کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں ولاس راؤ دیشمکھ نے گاؤں گاؤں میں اسکول قائم کیے تاکہ غریبوں کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے، مگر آج کی حکومت ان اسکولوں کو بند کر رہی ہے۔ ایم پی ایس سی کے ذریعے بھرتی کرنے کے بجائے طلبا کے احتجاج کو کچلنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔
نانا پٹولے نے بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی حکومت نے کانگریس کے دور میں شروع کی گئی پرانی پنشن اسکیم کو ختم کر دیا اور اب بی جے پی الٹا کانگریس پر الزام لگا رہی ہے۔ جہاں جہاں کانگریس کی حکومت ہے، وہاں پرانی پنشن اسکیم بحال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدعنوان مخلوط حکومت نے مہاراشٹر کو ترقی کے میدان میں 10 سال پیچھے دھکیل دیا ہے، اور مودی حکومت کے گزشتہ 10 سال بھی ملک اور ریاست کو پیچھے لے جانے کا سبب بنے ہیں۔
اس اجلاس میں سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، سدھاکر آڈبالے، ابھیجیت ونجاری، ستیہ جیت تامبے، کرن سرنائک، روی کانت ٹپکر اور نتیش کھانڈیکر سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔