ملک کے نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کی بی جے پی حکومت کی سازش: نانا پٹولے
مرکز میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعدسے ملک میں منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے
گجرات کی موندرا بندرگاہ پر روزانہ ہزاروں ٹن منشیات کیسے آتی ہے؟
ممبئی: پوری دنیا میں بھات کو نوجوانوں کے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی 50% آبادی 16 سے 40 سال کی عمر کے درمیان ہے۔ نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوان نشے کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ 10 سے 17 سال کی عمر کے تقریبا 15کروڑ بچے منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا استعمال ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے منشیات کی اسمگلنگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں منشیات کی لت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
پٹولے نے کہا کہ یہ بی جے پی حکومت کی ملک کے نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کی سازش ہے۔انہوں نے نے کہا کہ ملک کے بہت سے نوجوان منشیات کے عادی ہو رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں منشیات کی اسمگلنگ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے عوام نے دیکھا ہے کہ گجرات کے موندرا کی نجی بندرگاہ پر ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہزاروں ٹن منشیات پکڑی گئی ہیں۔ جے این پی ٹی بندرگاہ سے منشیات سے بھرا ایک کنٹینر بھی ضبط کیا گیا۔ آئی ٹی سٹی بنگلور میں بھی نوجوان نسل میں نشے کے عادی ہونے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت ملک میں مختلف قسم کی منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ ممبئی میں کچھ مشہور شخصیات کے گھروں سے دو سے چار گرام گانجہ ملا ہو گا، لیکن بی جے پی اور اس کے حامیوں نے اس وقت کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے دوران ممبئی کی تصویر کو منشیات کے شہر کے طور پر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ممبئی میں پائے جانے والے دو سے چار گرام گانجے کا گجرات میں پائے جانے والے ہزاروں ٹن منشیات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ پٹولے نے کہا کہ ملک میں منشیات کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس پر قابو پانے میں ناکامی تشویشناک ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ یہ سیاست کا نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا سوال ہے، ایسے میں مرکزی حکومت کو فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے، تاکہ ملک کے نوجوانوں کو منشیات کی دلدل میں پھنسنے سے بچایا جاسکے۔