NCP Urdu News 15 Dec 22

15

مہاراشٹر کے تمام لوگ مہامورچے میں شرکت کریں

مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران کی میٹنگ میں اجیت پوار کی اپیل

ممبئی:قومی شخصیات کی توہین اور ان کے بارے میں بے ہودہ بیانات کا سلسلہ رکنے کانام نہیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے عوام میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اس کے خلاف 17/دسمبر کو نکلنے والے مہامورچے کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہ ہوتے ہوئے یہ ایک عوامی مورچہ ہے جس میں ریاست کے تمام لوگ شریک ہوں۔ یہ اپیل آج یہاں ریاست کے حزبِ مخالف لیڈر اجیت پوار نے ایک پریس کانفرنس میں کی ہے۔

مہامورچہ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے مہاوکاس اگھاڑی لیڈران کی میٹنگ اجیت پوار کی سرکاری رہائش گاہ دیوگری میں منعقد ہوئی جس کے بعد مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران نے میڈیا سے بات کی۔اس موقع پر اجیت پوار نے کہا کہ قومی شخصیات کی مسلسل توہین، سرحدی تنازعہ نیز مہنگائی و بے روزگاری سمیت تمام مسائل کے خلاف یہ مورچہ نکالاجارہا ہے۔ اس مورچے میں تمام پارٹیوں کے کارکنان اور عوام بھی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ جن لوگوں کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ان کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے وہ بھی اس میں حصہ لیں گے۔اجیت پوار نے کہا کہ تمام پارٹیوں نے انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔بیشترسیاسی پارٹیوں نے اس مورچے میں حصہ لیا ہے۔اس مورچے کی تیاریوں کے لیے جتنی بار میں بھی میٹنگیں منعقد ہوئیں، تمام پارٹیوں کے نمائندوں نے اس میں شرکت کی۔ آج کی میٹنگ میں تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ مورچہ پرامن اور نظم وضبط کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ہم یہ مورچہ اسی طرح نکالنے جا رہے ہیں جس طرح ہم اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔

اجیت پوار نے کہا کہ آج سہ پہر نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی۔ اس وقت دیویندر فڑنویس سے دہلی میں وزیر داخلہ امت شاہ کی ملاقات اور اس کے نتیجے کے بارے میں پوچھاگیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ دونوں ریاستوں کو امن برقرار رکھنا چاہیے۔ فڈنویس نے بتایا کہ مہاراشٹر کے۳/اور کرناٹک کے۳/وزراء پر مشتمل ۶لوگوں کی کمیٹی بنائی جائے گی اورسرکاری افسران کی بھی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اجیت پوارنے کہا کہ جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ سپریم کورٹ میں کرناٹک کا موقف ایڈووکیٹ روہتگی پیش کریں گے تو ہم نے مہاراشٹر کا موقف سینئرقانون داں ہریش سالوے کوپیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فڈنویس ووزیراعلیٰ کو ایک مکتوب دیا۔اس موقع پر ہم نے اس موقف کا بھی اظہار کیا کہ بیلگاؤں، کاروار، نیپانی ہمارے پاس آنا چاہئے۔ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ دونوں ریاستوں کو معقول موقف اختیار کرنا چاہئے اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی ساتھ دینا چاہئے۔ اجیت پوار نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ہمارا موقف شروع سے اس معاملے میں سیاست کرنا نہیں رہا ہے بلکہ ہم احسن طریقے سے اس تنازعے کا حل چاہتے ہیں۔

اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے یہ کہتے ہوئے مہاراشٹر کے تمام لوگوں کومورچے میں شریک ہونے کی اپیل کی کہ یہی وقت ہے بیدار ہونے کا۔اس کے علاوہ یہ سوال کرتے ہوئے کہ سرحدی تنازعہ پر جو میٹنگ ہوئی اس میں نیا کیا ہوا، کہا کہ جب یہ معاملہ گزشتہ 15-20دنوں سے سنگین بناہوا تھا تو پھرآخراس کے حل کی جانب توجہ دینے میں اتنا وقت کیوں لگا اور اس کی وضاحت کرنے کے لیے دہلی میں ہونے والی میٹنگ تک کیوں رکا گیا؟

اس میٹنگ میں سابق وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے، حزب اختلاف لیڈراجیت پوار، کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ممبئی کانگریس کے صدر ایم ایل اے بھائی جگتاپ، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان، شیوسینا کے ایم ایل اے اور سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے، ایم پی سنجے راؤت، شیو سینا کے ایم ایل اے سچن اہیر، سابق وزیر سبھاش دیسائی، سابق وزیر جتیندر اوہاڈ، ایم ایل اے رئیس شیخ، سی پی آئی (ایم) کے پرکاش ریڈی، سی پی آئی کے ملند راناڈے، شیکاپ کے راجو کورڈے، این سی پی کے قومی ترجمان کلائیڈ کرسٹو، سابق ایم ایل اے ودیا تائی چوان وغیرہ موجود تھے۔