MPCC Urdu News 14 February 23

کانگریس کے لیے صبح کی حلف بردار ی نہیں بلکہ عوام کے بنیاد ی مسائل اہمیت کے حامل ہیں: ناناپٹولے

دیویندر فڑنویس کو ساڑھے تین سال بعد انٹریودینے کا خیال کیوں آیا؟

عوام کے سنگین مسائل سے توجہ ہٹاناہی بی جے پی کی چال ہے

ممبئی: دیویندر فڑنویس کے اس دعوے میں کانگریس نہیں پڑنا چاہتی کہ صبح کی حلف برداری شرد پوار کے ساتھ بات چیت کے بعد ہوئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس واقعہ کے ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد اب فڑنویس کو اس سے منعلق انٹریو دینے کا خیال کیوں آیا؟اس سے پہلے کیوں اس بارے میں کیوں کوئی وضاحت نہیں کی گئی؟ کانگریس کے لیے صبح کی حلف برداری اہم نہیں ہے بلکہ مہنگائی، بیروزگاری، کسانوں کے مسائل اہم ہیں اور اس کے حل کے لیے ہم آواز اٹھاتے رہیں گے۔ یہ باتیں مہاراشٹرا ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

ناناپٹولے نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں آج کسانوں کی حالت نہایت ابتر ہوچکی ہے۔ کپاس، پیاز، سویابین کی قیمتیں گر گئی ہیں اور مرکزی حکومت روئی کی گانٹھیں درآمد کر رہی ہے۔ مہنگائی وبے روزگاری بے انتہابڑھ گئی ہے، کسان آئے دن خودکشیاں کررہے ہیں، غریبوں کے بچوں کی تعلیم کا مسئلہ نہایت سنگین ہے۔ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال نہایت ابتر ہے، ایم ایل اے تک محفوظ نہیں ہیں، لوگ محفوظ نہیں ہیں اور یہ بی جے پی کی چال ہے کہ انتخابات کے موقع پر کچھ ایسی باتیں اچھالی جائیں جس سے لوگوں کی توجہ ان کے بنیادی مسائل سے ہٹ جائے۔ لیکن بی جے پی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب اس کی یہ چال کامیاب نہیں ہورہی ہے۔لوگ اس کی چالوں کو سمجھ چکے ہیں۔

ناناپٹولے نے کہا کہ 2019 میں حکومت سازی کے دوران کیا ہوا اس پر آج بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس واقعے کو کافی عرصہ گزرچکا ہے،یہ موقع اس پر بحث کرنے کا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو دیویندر فڑنویس کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ 2014 میں کیا ہوا تھا، جب شیو سینا کے ایکناتھ شندے اپوزیشن لیڈر بنے۔سچائی یہ ہے کہ بی جے پی اقتدار کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے اورکرتی ہے۔شندے وفڈنویس کی یہ حکومت بھی غیرآئینی ہے، اس نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا، کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ مہنگائی سے لوگوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ نوجوان بے روزگاری کی کھائی میں ہیں۔ان مسائل پر حکومت کوتوجہ دینا چاہئے لیکن اس جانب حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔

بی بی سی کے دفاتر پر انکم ٹیکس کے چھاپے غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی علامت ہیں: اتل لونڈھے

مودی سرکار کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز دبا دی جاتی ہے

ممبئی:نریندرمودی کی آمرانہ حکومت نے ملک کی جمہوریت وآئین سمیت سب کچھ خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ دہلی اور ممبئی بی بی سی کے دفتر پر محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپے اسی آمریت کا حصہ ہے۔ بی بی سی نے گجرات فسادات کے تعلق سے ڈاکیومینٹری بناکر ریلیز کی تھی جس پر نریندرمودی حکومت نے پابندی عائد کردی تھی۔ بی بی سی پر یہ چھاپے ماری دراصل انتقامی کارروائی کے طور پر ہے۔ یہ ملک میں غیرعلانیہ ایمرجنسی کی واضح علامت ہے۔ یہ تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کی ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ چند روز قبل بی بی سی نے گجرات فسادات کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم نشر کی تھی جس نے دنیا میں بھارت کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔ مودی سرکار نے فوری طور پر اس دستاویزی فلم کو بھارت میں دکھانے پر پابندی لگا دی۔ یہ دستاویزی فلم بعض مقامات پر اس وقت بھی دکھائی گئی جب اس پر پابندی عائد تھی۔ بی بی سی کی اس دستاویزی فلم کی وجہ سے ہی مودی حکومت کو غصہ آیا اور انہوں نے اپنے پسندیدہ ہتھیار انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے چھاپہ مار کر بی بی سی کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کے خلاف بولنے والوں کو اسی طرح ای ڈی، سی بی آئی یا محکمہ انکم ٹیکس کے ذریعے کارروائیوں کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ کورونا کے دور میں دینک بھاسکر نامی اخبار نے مودی حکومت کی نااہلی وبدانتظامی کا پردہ فاش کیا تھا۔ اس نے گنگا میں لاشوں کے تیرنے کی خبریں شائع کیں تھیں۔ دینک بھاسکر نے کورونا کے دور میں مودی حکومت کو بے نقاب کیاتھا اور پھرکچھ ہی دنوں میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے روزنامہ بھاسکر کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔اس کے علاوہ ایسے ایڈیٹروں کو ملازمت سے بے دخل کرنے کے کئی واقعات ہیں جنہوں نے مودی حکومت کے خلاف خبریں دکھانے کی کوشش کی۔ صحافیوں کو معمولی وجوہات پر جیل بھیج دیا گیا۔ جمہوریت کا یہ چوتھا ستون بھی مودی حکومت کے دباؤ میں ہے۔ لونڈھے نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈر کہتے رہتے ہیں کہ مودی حکومت میں میڈیا آزاد ہے، لیکن یہ سراسر غلط ہے۔سچائی یہ ہے کہ گھبرائے ہوئے ڈکٹیٹر نے صرف بی بی سی کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے اس پر محکمہ انکم ٹیکس پر چھاپہ مروایا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading