راہل گاندھی پر ہیمنت بسواسرما کے بیان پر چوطرفہ تنقید
ممبئی: آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسواسرما نے ایک انتخابی ریلی میں کانگریس لیڈر اورممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی کے بارے میں نہایت گھٹیا بیان دیا ہے۔ ان کا یہ بیان بی جے پی وآر ایس ایس کی تعلیمات کو ملک کے سامنے اجاگر کرتا ہے۔ سرما پر یہ جوابی حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔ وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہیمنت بسواسرما کے اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ ان کاذہنی توازن خراب ہوگیا ہے اور انہیں کسی اچھے اسپتال میں علاج کی اشد ضرورت ہے۔ راہل گاندھی پر ہیمنت بسواسرما کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ ان کا یہ بیان نہایت قابلِ اعتراض ومذمت ہے۔ راہل گاندھی کے بارے میں ان کا بیان ان کے ذہنی سطح کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ حزبِ مخالف کی تنقید کرنے کے معاملے میں بی جے پی کے کئی لیڈران سے لے کر دیگر کئی لیڈران تک ذاتیات پر اترآتے ہیں جو یہ بتاتا ہے کہ وہ حزبِ مخالف سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران نے اس سے قبل کانگریس کی قومی صدر محترمہ سونیاگاندھی، سونیا گاندھی وڈاکٹر منموہن سنگھ کے لئے بھی باربار توہین آمیز زبان کا استعمال کیا ہے۔ یہ ان کی تہذیبی راویت ہے لیکن کانگریس کی روایت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ ہم بسواسرما کے جلد صحتیاب ہونے کی امید کرتے ہیں۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی ایک اچھے ڈاکٹر سے علاج کرانے کے لئے بسواسرما کا تمام اخراجات اٹھانے کے لئے تیار ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ جمہوریت میں حزبِ مخالف کو ذمہ دار ٹھہرانے کا حق حاصل ہے۔ اس لئے راہل گاندھی نے ایک ذمہ دار اپوزیشن لیڈر کے طور پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ بی جے پی کواس پر ہنگامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن بی جے پی جمہوریت اور آئین پر ذرا بھی یقین نہیں رکھتی۔ بی جے پی لیڈر نچلی سطح پر اپوزیشن کوبدنام کررہی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ بسوا سرما وزیراعلیٰ ہیں، انہیں اپنی حدکا خیال رکھتے ہوئے اپنے بیان میں توازن قائم رکھنا چاہئے۔ لیکن لگتا ہے کہ ان پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے سنسکاروں کا کچھ زیادہ ہی اثر چڑھ گیا ہے۔ خدا ان کو صحیح سمجھ دے۔