ممبئی کی ووٹر لسٹوں میں سنگین گڑبڑیاں، 11 لاکھ سے زائد ڈپلیکیٹ نام: ورشا گایکواڑ
کہیں ایک وارڈ کے نام دوسرے وارڈ میں درج، انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ
ممبئی: ممبئی کانگریس کی صدر و رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی کی ووٹر لسٹوں میں موجود سنگین غلطیوں کو فی الفور دور کیا جائے اور درست شدہ، تازہ ترین ووٹر لسٹیں جلد از جلد شائع کی جائیں تاکہ کارپوریشن انتخابات کے دوران شہریوں کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بدانتظامی کی وجہ سے نہ صرف لاکھوں ووٹرز متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پولنگ کے دن طویل قطاریں لگنے کا بھی خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ورشا گائیکواڑ نے یہ معاملہ لوک سبھا میں اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات نو سال بعد ہونے جا رہے ہیں مگر ووٹر لسٹیں ایسی حالت میں ہیں کہ انتخابی شفافیت پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ 30 اکتوبر 2024 کو جاری ہوئی تھی، جبکہ قانون کے مطابق ہر سال جنوری کے پہلے ہفتے میں نئی فہرست جاری کی جاتی ہے اور ہر تین ماہ بعد اس میں اصلاحات شامل کی جاتی ہیں۔ لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن نے نہ صرف ابتدائی ووٹر لسٹ جاری کرنے میں تاخیر کی بلکہ 6 نومبر 2025 کو شائع ہونے والی فہرست کو مزید مؤخر کرتے ہوئے 20 نومبر کو جاری کیا گیا۔
ممبئی کانگریس کی صدر نے کہا کہ اب جب کہ اعتراضات اور دعوے جمع کروائے جا رہے ہیں، یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ووٹر لسٹ میں 11 لاکھ 15 ہزار 5 ووٹرز کے نام دوبارہ درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام دوبار ہیں، انہیں پولنگ کے دن حلف نامہ دینا پڑے گا، جس سے نہ صرف ان کی زحمت بڑھے گی بلکہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ میں کمی کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا۔ صورتحال یہ ہے کہ ایک وارڈ کے ہزاروں نام دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیے گئے ہیں، جس سے انتخابی نظام کی شفافیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ تمام بے ضابطگیوں کو دور کرتے ہوئے درست، جامع اور شفاف ووٹر لسٹ فوراً جاری کی جائے تاکہ انتخابات بغیر کسی بدانتظامی کے انجام پائیں اور شہریوں کا اعتماد برقرار رہے۔
MRCC Urdu News 11 Dec. 25.docx
