مہا یوتی حکومت میں زرعی شعبے میں بدعنوانی عروج پر، کسانوں کے نام پر کروڑوں کی خرد برد
بی جے پی ووٹ کے لیے عظیم شخصیات کا نام لیتی ہے، اقتدار میں آکر توہین کرتی ہے
نانا پٹولے کی قیادت میں انگن واڑی کارکنان کا راہل گاندھی سے ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانی
ممبئی/نئی دہلی: پر بھنی اور بیڑ میں پولیس کے ذریعے شہریوں کی ہلاکت کے واقعات نے ریاست میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ پر بھنی میں امبیڈکر نظریات کے حامی سومناتھ سوریہ ونشی کی موت پولیس کی مارپیٹ کے نتیجے میں ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، لیکن حکومت نے تاحال اس معاملے میں کوئی سخت کارروائی نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ آئین ہند کی توہین کے بعد پر بھنی میں کیے گئے کومبنگ آپریشن میں بے گناہ شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس آپریشن کے احکامات منترالیہ یا پولیس ڈائریکٹر جنرل کے دفتر سے جاری کیے گئے تھے یا نہیں، اس کی مکمل تحقیقات کی جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔
نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ سومناتھ سوریہ ونشی ایک بے گناہ اور تعلیم یافتہ نوجوان تھا، جس کی موت پولیس کے تشدد سے ہوئی اور اس کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی ہو چکی ہے۔ مگر ریاستی حکومت اب بھی اس معاملے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ناگپور اجلاس میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ سوریہ ونشی کی موت دمہ کی بیماری کے باعث ہوئی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکومت نے دباؤ میں آکر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل تو کر دیا ہے، لیکن اگر وہ اس واقعے کے ذمہ دار نہیں تھے تو پھر ان کی معطلی کی نوبت کیوں آئی؟ سچائی یہ ہے کہ اس معاملعے میں صرف معطلی کافی نہیں بلکہ انہیں فوری طور پر برطرف کر کے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ کانگریس پارٹی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک پیش کرے گی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بیڑ ضلع میں سرپنچ سنتوش دیشمکھ اور پر بھنی میں سومناتھ سوریہ ونشی کے قتل کے واقعات انتہائی سنگین ہیں، مگر حکومت مسلسل ٹال مٹول کر رہی ہے۔ بیڑ معاملے میں بی جے پی کے ایم ایل اے سریش دھس ہر روز نئے نئے اور سنسنی خیز الزامات لگا رہے ہیں، مگر حکومت کوئی بھی نتیجہ خیز کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ اب وہ پر بھنی معاملے میں پولیس کو معاف کرنے کی بات کر رہے ہیں، جو حکومت کی دوہری پالیسی کو واضح کرتا ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ حکومت سریش دھس کو محض ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر کے اصل معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
زرعی محکمے میں ہونے والی کرپشن پر روشنی ڈالتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مہا یوتی حکومت کے دوران زرعی شعبے میں بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ کسانوں کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز خرد برد کیے گئے ہیں۔ چاہے وہ کپاس کی خریداری کے لیے تھیلے ہوں یا نینو یوریا کی خرید، تمام منصوبے محض کاغذوں تک محدود رہے۔ ڈی بی ٹی اسکیم کے ہوتے ہوئے بھی زرعی محکمے نے اس سے انحراف کر کے بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانیاں کیں۔ اس بدعنوانی کے ذمہ دار صرف زرعی وزیر اور افسران نہیں بلکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور پوری حکومت بھی اس میں برابر کی شریک ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں آنے سے قبل عظیم شخصیات کے نام پر ووٹ مانگتی ہے اور اقتدار میں آکر ان کی توہین کرتی ہے، جس کی کئی مثالیں ماضی میں دیکھی جا چکی ہیں۔ بی جے پی کے درجنوں لیڈران اور وزراء نے عظیم شخصیات کی توہین کی، حتیٰ کہ اس وقت کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری بھی اس میں شامل رہے۔ اب فلمی اداکار راہل شولاپورکر جان بوجھ کر عظیم شخصیات کی توہین کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور بعد میں معافی مانگ لی۔ اب وہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے خلاف بھی زہر اگل رہے ہیں اور ایک بار پھر معذرت کا ڈھونگ کر رہے ہیں۔ ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی عظیم شخصیات کی توہین کرنے کی ہمت نہ کرے۔
دریں اثنا نانا پٹولے کی قیادت میں انگن واڑی کارکنان کے ایک وفد نے آج پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کے رہنما راہل گاندھی سے ملاقات کی اور اپنی مشکلات اور مطالبات ان کے سامنے رکھے۔ وفد نے درخواست کی کہ ان کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے اقدام کیا جائے۔ راہل گاندھی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ انگن واڑی کارکنان کے مسائل کو سنجیدگی سے پارلیمنٹ میں پیش کریں گے اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔