راہول سولاپورکر کے بیان پر جیتندر اوہاڈ سخت برہم، مہاراشٹر اور ملک سے معافی کا مطالبہ

پسماندہ طبقات کو انصاف سے محروم نہیں ہونے دیں گے، قاتلوں کو سزا ملنی چاہیے

ممبئی: این سی پی شردچندر پوار کے اسمبلی میں لیڈر اور رکن اسمبلی جیتندر اوہاڈ نے راہول سولاپورکر کے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر سے متعلق متنازع بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ منو وادی نظریے کے حامل افراد کی سوچ میں آج بھی ‘چاتورورنیہ‘ (ذات پات کے چار طبقاتی نظام) کا تصور رچا بسا ہے، جس کے تحت وہ علم و دانش کو صرف برہمنوں تک محدود سمجھتے ہیں۔ اسی ذہنیت کے نتیجے میں راہول سولاپورکر نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو برہمن قرار دیا، جو ناقابل قبول ہے۔ اوہاڈ نے کہا کہ اس بیان پر راہول سولاپورکر کو صرف معذرت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے عوام سے باضابطہ معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس تحفظ ہمیشہ کے لیے نہیں رہنے والا اور جب یہ ہٹایا جائے گا تو عوام کا ردعمل خود ظاہر ہو جائے گا۔

اوہاڈ نے ریاست میں حالیہ مہینوں میں پیش آئے تین سنگین واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکشے شندے کیس میں عدالت نے اپنی رائے دی، جبکہ سومناتھ سوریہ ونشی اور سنتوش دیشمکھ کے قتل کے معاملات بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تینوں قتل کے واقعات ہیں اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے پر بھنی میں سومناتھ سوریہ ونشی کے قتل پر حکومتی خاموشی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ کیا وہ انسان نہیں تھا؟ کیا اس کی ماں کو بیٹے کے کھو جانے کا دکھ نہیں ہوگا؟ حکومت نے اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟

اوہاڈ نے الزام لگایا کہ حکومت ان معاملات میں انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سومناتھ سوریہ ونشی کی موت کے حوالے سے حکومت کا مؤقف تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ پہلے کہا گیا کہ وہ سانس کی تکلیف کے باعث انتقال کر گیا، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح ہے کہ اسے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ وہ جیل میں کیسے اور کب مرا؟ اسے دوا کب دی گئی؟ اسپتال کب لے جایا گیا؟ حکومت کے پاس ان سوالوں کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔

اوہاڈ نے مزید کہا کہ جب ممبئی کی طرف مارچ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں تو حکومت نے کچھ افسران کو معطل کر دیا، لیکن یہ اقدامات پہلے کیوں نہیں کیے گئے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور محض چند نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کو ہٹاکر معاملہ دبا رہی ہے۔

اوہاڈ نے اکشے شندے کے کیس پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پسماندہ طبقات کو انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عدالت میں مقتول کے والدین سے زبردستی یہ کہلوایا جا رہا ہے کہ وہ کیس نہیں لڑنا چاہتے، جو انصاف کے عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل، قتل ہوتا ہے، چاہے وہ کسی کا بھی ہو، اور مجرموں کو سزا ملنی ہی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کے مطابق انصاف سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading