اسمبلی انتخابات کی شفافیت کے لیے رشمی شکلا جیسے متنازعہ افسران کو ہٹایا جائے
کانگریس وفد کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ
اگر وزیر داخلہ ہی محفوظ نہیں تو ریاست کے عوام کیسے محفوظ ہوں گے؟:نانا پٹولے
ممبئی: اسمبلی کے انتخابات کی شفافیت کے لیے متنازعہ اور حکمراں پارٹیوں کی مدد کرنے والے افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ریاست کی پولیس ڈائریکٹر جنرل رشمی شکلا کا کردار مشکوک اور متنازعہ رہا ہے۔ ان پر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو دھمکانے اور ان کے فون ٹیپ کرنے جیسے کئی جرائم کا الزام ہے۔ انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے کرانے کے لیے رشمی شکلا سمیت تمام متنازعہ اور حکمراں پارٹیوں کی مدد کرنے والے افسران کو ہٹایا جانا چاہئے۔ یہ مطالبہ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہی ہے۔
ریاست کے دورے پر آئے ملک کے چیف الیکشن کمشنر سے کانگریس پارٹی کے وفد نے ملاقات کی۔ اس وفد میں ریاستی کانگریس کے جنرل سیکرٹری مناف حکیم اور ڈاکٹر گجانن دیسائی شامل تھے۔ انہوں نے کانگریس ریاستی صدر نانا پٹولے کے 24 ستمبر کو چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گئے خط کی نقل آج دوبارہ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کو پیش کی اور پولیس ڈائریکٹر جنرل رشمی شکلا کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
اس حوالے سے تلک بھون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ رشمی شکلا کی ملازمت کی مدت ختم ہونے کے باوجود بی جے پی کی حکومت نے انہیں دو سال کی توسیع دی ہے۔ وہ بی جے پی حکومت کو فائدہ پہنچانے کے لیے متنازعہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایسے مشکوک اور متنازعہ افسران انتخابات کے دوران اپنے عہدے پر نہیں ہونے چاہئیں، ورنہ انتخابات غیر جانبدار نہیں ہوں گے۔ کانگریس نے یہ مطالبہ کیا ہے اور الیکشن کمیشن نے کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر میں لا اینڈ آرڈر کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ وزارت داخلہ کے دفتر میں ایک خاتون نے توڑ پھوڑ کی اور وزیر داخلہ کے نام کی تختی بھی توڑ دی۔ جب خود وزیر داخلہ ہی محفوظ نہیں تو ریاست کے عوام کیسے محفوظ ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے ترقی کے نام پر کروڑوں روپے ضائع کیا ہے لیکن کہیں کوئی ترقی نظر نہیں آ رہی ہے۔ انتخابات سے قبل میڈیا کے ذریعے حکومت کی صاف ستھری اور ترقی یافتہ شبیہ دکھانے کے لیے ایک آئی اے ایس افسر کے ذریعے میڈیا کے اہم افراد کو بلایا جا رہا ہے اور انہیں ٹارگٹ دیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ایم ایس آر ڈی سی، ایم ایم آر ڈی اے، مہاڈا، سیڈکو، پولیوشن کنٹرول بورڈ اور ایس آر اے کا پیسہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت کے مختلف اداروں پر ہزاروں کروڑ کا قرض ہے اور ادارے 50 ہزار کروڑ روپے خسارے میں ہیں، یہ بات سی اے جی کی رپورٹ سے سامنے آئی ہے۔ حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے لیکن اداروں کا پیسہ استعمال کر کے کروڑوں روپئے برباد کیے جا رہے ہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ بارش کی وجہ سے ریاست میں زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور 73 فیصد علاقوں میں قحط جیسی صورتحال ہے۔ پچھلے تین چار دنوں میں 33 ہزار ہیکٹر پر فصلیں برباد ہو چکی ہیں۔ کسان بحران میں ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک ان کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ ممبئی میں نالے کی صفائی کے کام پر خاص توجہ دی گئی تھی، وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے صبح کے ایک پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ ممبئی میں پانی نہیں بھرے گا، لیکن شام کی بارش میں ممبئی کا نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔ جیسے بے وقت کی بارش ویسے ہی بے وقت کی بی جے پی حکومت ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سیکرٹری مناف حکیم نے کہا کہ رشمی شکلا کی مدت ختم ہونے کے باوجود حکومت نے ان کی مدت میں توسیع کی ہے۔ حکومت پولیس کے ذریعے خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ مدت ختم ہونے والے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو عہدے سے ہٹایا جائے، اسی طرح ریاست کے کئی محکموں میں چپراسی سے لے کر افسر تک 3 سال سے ایک ہی جگہ کام کر رہے ہیں، انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے، ورنہ اس کا اثر ووٹنگ پر ہو سکتا ہے، یہ بات الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کی گئی۔ اس پر یقین دہانی کرائی گئی کہ اس قسم کے متنازعہ افسران انتخابات کے دوران موجود نہیں ہوں گے۔
مناف حکیم نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی نجی سوسائٹیوں میں پولنگ بوتھ قائم کرنے کی مخالفت کر رہی ہے، انتخابات صرف سرکاری عمارتوں میں ہونے چاہئیں۔ اسی طرح ووٹنگ کا ریکارڈ فراہم کرنے والے 17 C فارم ووٹنگ کے بعد فوراً پولنگ ایجنٹس کو دیے جانے چاہئیں۔ اس پریس کانفرنس میں راجیہ سبھا کے رکن چندرکانت ہنڈورے، ریاستی جنرل سیکرٹری مناف حکیم، ڈاکٹر گجانن دیسائی، کاکا صاحب کلکرنی اور مدن جادھو وغیرہ موجود تھے۔
Letter to Election Commission to remove Rashmi Shukla 27.pdf