ایک دفعہ فجرکی نماز میں مسجد میں نمازی آنے کم ہو گئے، اس موقع پر مولوی صاحب نے سوچا کہ امت کس راستے پر چل پڑی ہے، مولوی صاحب نے ایک ترکیب سوچی اور صبح دس بجے مسجد میں اعلان کروا دیا، اعلان کچھ ایسے تھا ’’جس آدمی کو اس کی بیوی فجر کی نماز کے لیے نہیں اٹھاتی وہ آدمی دوسری شادی کر لے تمام اخراجات مسجد انتظامیہ اٹھائے گی‘‘۔ اس اعلان کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی صبح مسجد میں جمعہ سے بھی زیادہ رش تھا۔ہر لمحہ دل میں کوئی چھوٹا سا درود شریف پڑھتے رہیں۔ آپ انشاءاللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں شامل رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے سارے تفکرات کی کفایت کرے گا اور آپ کی تمام حاجات پوری کرے گا۔ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو ہر روز یا ہر شب مجھ پر درود بھیجا کرے۔ مجھ پراس کی شفاعت کرنا واجب ہوگی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حضورپرنور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود شریف پڑھتے رہا کرو۔
بیشک تمہارا درود شریف مجھ تک پہنچتا رہتا ہے۔حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ جو شخص فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مجھ پر ایک سو مرتبہ درود شریف پڑھے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی 100حاجات پوری کریگا۔ درود شریف دلوں کا نور ہے‘ گناہوں کا کفارہ ہے۔ زندہ اور مردوں دونوں کیلئے رحمت ہے۔ درود دعا بھی ہے اور دوا بھی۔ درود سوغات بھی ہے۔ درود اللہ اور ملائکہ کی سنت بھی اور قبولیت دعا کا سبب بھی۔ (ہر دعا کے اوّل و آخر درود شریف پڑھنا چاہیے).