جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کے دوگروپوں میں جھڑپ، پولیس فورس تعینات

0 11

نئی دہلی:15اکتوبر(ایجنسیز)جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک معروف ومشہور درسگاہ ہے، لیکن شرپسند عناصراس کی حرمت کو پامال کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا ایک طرف اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے جامعہ کانام روشن کررہے ہیں وہیں شرپسند طلبا ماحول خراب کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کے دو گروپوں میں تصادم ہونے سےعام طلبا میں مایوسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ میوات اورمغربی یوپی کے طلبا کے درمیان دو سال قبل کسی بات کو لے کرلڑائی ہوگئی تھی، اسی معاملے کو لے کرآج ایک بارپھرمارپیٹ ہوئی۔اطلاعات کے مطابق دو سال پہلے ہوئی لڑائی کا سمجھوتہ ہونے والا تھا، لیکن آج پھروہ لڑائی میں تبدیل ہوگئی۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ جامعہ ملیہ کے ہایجینک پردونوں گروپ جمع ہوئے، جس میں میوات گروپ مغربی یوپی گروپ پرحاوی ہوگیا۔ اس کے بعد کچھ طلبہ فرارہوگئے اورکچھ ایس آرکے ہاسٹل سے متصل مسجد میں چھپ گئے۔اس کے بعد مسجد میں چھپے میوات گروپ کے طلبہ کو مغربی یوپی گروپ نے گھیرلیا۔ اس موقع پر جامعہ ملیہ کی پروکٹریل ٹیم بھی وہاں پہنچی اور مسجد میں چھپے طلبہ کو اپنے محاصرے میں لے لیا، لیکن مغربی یوپی کے طلبہ مسجد کے باہردیررات تک ان کی پٹائی کرنے کو لیکر ہنگامہ کرتے رہے۔حالانکہ بڑی مشکل سے انتظامیہ نے مسجد میں چھپے ہوئے لڑکوں کو گاڑی میں نکال کرباہرکرایا، جس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ اس پورے معاملے میں جامعہ ملیہ کے پراکٹر نے کارروائی کی بات کہی ہے۔دراصل جامعہ ملیہ اسلامیہ جہاں ملک وبیرون ملک کے طلبا تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آتے ہیں، وہاں اس طرح کا ماحول بننے سے امن پسند طلبا میں مایوسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کیونکہ وہ طلبا کلاس کے بعد لائبریری میں پڑھائی کرتے ہیں، لیکن آج کی صورتحال سے طلبا خوفزدہ نظرآئے۔ اس پورے معاملے پراگرجامعہ انتظامیہ نے سخت کارروائی نہیں کی تو ماحول آنے والے دنوں میں مزید خراب ہوسکتے ہیں۔