مکانات کی مرمت،چھوٹے تاجروں کے کاروبار شروع کرانے پر بھرپور توجہ،نئے مکانات کی تعمیر جاری
کوچین۔8؍ اکتوبر (ای میل) گذشتہ دو ماہ قبل اگست کے وسط میں بھیانک سیلاب کی زد میں آئے کیرالا میں اب سیلاب کے اثرات زائل ہو رہے ہیں متاثرہ اضلاع میں صفائی اس تیزی سے کی گئی کہ اب سیلاب کے نام و نشان نہیں مل رہے ہیں ،متاثرہ مقامات پر متاثرین کے ساتھ مقامی انتظامیہ نے بھی کافی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھیانک سیلاب کی تباہی کو ختم کرنے کی بھر پور کوشس کی۔سیلاب کے سبب جہاں ہزاروں افراد کی جانیں گئیں وہیں لاکھوں انسان اس کی تباہی سے جونجھ رہے ہیں ایسے نازک حالات میں انسانیت کا درد رکھنے والے افراد و انجمنیں ملک بھر سے کیرالا کا رخ کئے ہوئے متاثرین کی امداد واعانت میں مصروف ہیں ،ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم تنظیم جمعیۃ علماء ہند جو ایسے نازک و مصیبت کے مواقع پر انسانیت کی خدمت کے لئے آگے بڑھ کر متاثرین و مصیبت زدگا ن کی راحت رسانی کو رضاء الٰہی کے پیش نظر انجام دیتی ہے ۔اس نے اول وقت سے مقامی ذمہ دار علماء کرام کو ترغیب دے کر مصیبت میں گرفتار انسانوں کی خدمت کو انجام دینے کی ہدایت دی پھر26؍27؍ اگست کو جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا سید محمود مدنی نے کیرالا پہنچ کر ریلیف کے کاموں کا معائنہ کر تے ہوئے جائزہ لیا آپ کے ہمراہ مولانا حکیم الدین قاسمی سیکریٹری جمعیۃ علماء ہند ، کرناٹک سے مفتی افتخار احمد قاسمی ،مولانا مفتی شمس الدین بجلی قاسمی ، تمل ناڈجمعیۃ علماء کے ذمہ داران مولانا سعید خطیب،قاری رفیق جلال،مولانا صہیب قاسمی، مولانا عذیر قاسمی، مولانا منصور کاشفی، وغیرہ بھی پہنچے اور کچھ متاثرہ مقامات کا جائزہ لیتے ہوئے امدادی اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہا ر کرتے ہوئے اس میں مزید تیزی لانے، صفائی کے کاموں کو انجام دینے اور مکانات کی مرمت کے لئے پروگرام ترتیب دے کر جمعیۃ ریلیف کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مولانا محمد سفیان مہتمم دا رالعلو م حسنییہ کائم کولم کو کنوینر ،جبکہ دیگر دو زون سینٹرل زو ن میں مولانا محمد ابراہیم مہتمم دارالعلوم کو ثریہ آلوواکو کنوینر اور نارتھ زون میں مولانا محمد راشد قا سمی کو کنوینر نامزد کیا جبکہ دیگر ارکان و ذمہ دار ان میں ،مولانا محمد ز کریا،مولانا محمد اشرف نجمی، مولاناشبیر کوثری رشادی، مولانا مجیب نجمی،حاجی عبدالمجید وغیرہ کو نا مزد کیا گیا ۔ا بتدائی دنوں میں مرکز سے مولانا حکیم الدین قاسمی کیرالا میں مقیم رہ کر کاموں کو منظم کیا۔ بعدہ پچھلے ایک ماہ سے مولانا شفیق احمد القاسمی مالیگانوی آرگنا ئز ر جمعیۃ علماء ہندکیرالا میں قیام پذیر ہیں۔تینوں زون کے ذریعہ پورے کیرالا سیلاب متاثرین کے درمیان اب تک کئے گئے کاموں کی تفصیلات کے مطابق ۱۵ ؍اگست سے ابتدائی راحت کاری میں تیار کھانے چار روز تک چالیس ہزار سے زائد خاندانوں تک پہنچائے گئے،اس سلسلے میں ایک تقریب چوارا تعلقہ آلووا میں مورخہ ۷؍ اکتوبر کی بعد نماز مغرب منعقد ہوئی جس میں مقامی ایم ایل اے انور سادات، مغربی بنگال جمعیۃ علماء کے صدر مولانا صدیق اللہ چودھری (وزیر حکومت مغربی بنگال)مولانا حکیم الدین قاسمی سیکریٹری جمعیۃ علماء ہند، مولانا صدیق سعدی امام و خطیب مسجد الہدایہ چوارا، محلہ صدر صدیق صاحب، محلہ سکریٹری شاہ جہاں، خالد مولوی، اشرف مولوی، الیاس مولوی، عبد الصمد مولوی، شرف الدین مولوی، حیدر مولوی، تنویر اشرف، مفتی رجیب قاسمی، مولانا ابراہیم مہتمم جامعہ کوثریہ وکنوینر ریلیف کمیٹی ،مولانا شفیق احمد القاسمی آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند وغیرہ شریک رہے اس تقریب میں مولانا صدیق اللہ چودھری کے ہاتھوں متاثرین میں اشیاء خوردونوش،اشیاء ضروریہ کچن سیٹ وغیرہ ایک سو سے زائد خاندانوں میں تقسیم کیا گیا، ایم ایل اے انور سادات نے اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران بطور خاص مولانا محمود مدنی کا بہت شکریہ ادا کیا اور کیرالا میں سیلاب زدگان کی خدمات کے لئے مستقل کام کرنے پر بہت احسان مندی کا اظہار کیا،مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا حکیم الدین قاسمی نے انسانیت کی بنیاد پر کی جانے والی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ سیلاب کے بعد ایک ایک ہفتے کے راشن کٹس پچیس ہزار سے زائد خاندانوں تک پہنچائے گئے جبکہ ضروریات زند گی کے سامانوں میں پانچ ہزار بیڈ، ۲۰۵؍دو سو پانچ لیٹر کی پانی کی ٹانکی چار سو ، پلائی  ووڈ ۴بائے ۶کے ایک ہزار،پانچ سو اسکول بیگ مع کاپی کتابیں،۱۶۰؍ گھر وں میں جلانے والی لکڑیاں ، سترہ سو سے زائد مکانات میں الکٹرک و پلمبنگ فٹنگ، ڈھائی ہزار سے زائد کنوؤں کی صفائی موٹر کے ذریعے کرائی گئی ۔شروع دنوں میںایک ماہ تک پینے کے پانی کابارہ ہزار لیٹرکا ایک ٹینکراور پانچ ہزار لیٹر کا ٹینکر متاثر ہ مقامات پر چلایاگیا۔ایک ہزار سے زائد گھروں ،دس سے ز ا ئد مساجد و دیگر عبادت گاہوں کی صفائی کرائی گئی ۔پندرہ ہزار سے زائد خاندانوں میں نئے کپڑے لیڈیز سوٹ، بچوں کے کپڑے، مردوں کے کپڑے پر مشتمل کٹیں تقسیم کی گئیں،ایک ہزار سے زائد گھروں میں صفائی کے سامان فراہم کرائے گئے ۔ پندلم اور کایم کولم ان دونوں مقامات پرفی فیمیلی بارہ ہزار روپئے کے واؤچر تین سو فیمیلیوں میں تقسیم کئے گئے جن کے ذریعے وہ اپنی ضرورت کا سامان ریلیف کمیٹی کی جانب سے متعین کردہ دوکانوں سے تیس چالیس پرسٹ ڈسکاؤنٹ پر حاصل کئے ۔ایک ہزار سے زائد خاندانوں میں نقد رقومات دو سے چار ہزار روپیہ تک تقسیم کی گئی،پانچ سو خاندانوں میں چھوٹے موٹے کاروبار شروع کرنے کے لئے پانچ ہزار ، سات ہزاراور دس ہزار روپیہ تک تقسیم کئے گئے ۔ یہ سار ے کام جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے اور اس کی قائم کردہ کیرالا ریلیف کمیٹی کی رہنمائی و نگرانی میں صوبائی و ضلعی جمعیتوں کے وفود ، اور انسانیت کی خدمت کرنے والے ملک کے مختلف اداروں اور انجمنوں کے ذریعہ جو جمعیۃ علماء ہند کے ریلیف  کیمپ جامعہ حسنیہ کایم کولم، جامعہ کوثریہ آلووا،مسجد عائشہ کالی کٹ میں پہنچے اور ذمہ دران جمعیۃ ریلیف کمیٹی کے توسط سے کام کیا ان میں گجرات، کرنا ٹک ، تمل ناڈو، آندھرا وتلنگانہ، ممبئی ومہاراشٹر،مدھیہ پردیش،دہلی اور سیمانچل بہار و بنگال کے وفود شامل ہیں۔ان کیمپوں سے متاثرین کے درمیان راشن اور ضروریات زندگی کے سامان کی تقسیم کا کام اب بھی جاری ہے جسے ختم کر کے بازآباد کاری کے کام کو شروع کرنے پر پوری توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔یہ سارے کام کالی کٹ ،وائے ناڈ ،ملک پورم،پالے کاڈ ، کایم کولم،پندلم، ترشول،ونڈی پریار، توڈو پوز ہ ، پنائی کولم،تشور،اڈکی،ارناکولم، آلووا، کو چین، نیری منگلم، اڈی مالی،پروور،توورت،وائل کرا ، مقامات پر انجا م دیئے گئے ہیں۔






اپنی رائے یہاں لکھیں