حیدرآباد 29مئی .وائی ایس جگن موہن ریڈی کے عزم اور خود اعتمادی نے ان کو ان کے والد راج شیکھرریڈی کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہوئی موت کے بعد تقریبا دس سال کی جدوجہد نے آندھراپردیش کا وزیراعلی بنایا۔جگن کی پیدائش 21دسمبر1972کوہوئی تھی۔ان کی ابتدائی تعلیم حیدرآباد پبلک اسکول میں ہوئی۔انہوں نے پرگتی مہاودیالیہ میں بی کام مکمل کیا۔ان کی اہلیہ بھارتی ایک گھریلو خاتون ہیں اور ان کی دو دختران لندن میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔مسٹرریڈی 2004میں سیاست میں آئے اور متحدہ اے پی میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔وہ 2009کے پارلیمانی انتخابات میں کڑپہ لوک سبھا سے منتخب ہوئے تاہم ان کے والد راج شیکھرریڈی کی ہے لی کاپٹر حادثہ میں 2ستمبر2009کو ہوئی ہلاکت نے ان کے سیاسی مستقبل کو بے ترتیب کردیا۔ سینکڑوں افراد راج شیکھر ریڈی کی اس المناک موت کے بعد صدمہ سے دوچار ہوئے اور ان کی موت ہوگئی۔9اپریل 2010کو جگن نے ان کے والد کی موت کے صدمہ سے مرنے والے افرا دکے غمزدہ ارکان خاندان کو پُرسہ دینے کیلئے پرسہ یاترا شروع کی تاہم کانگریس ہائی کمان نے اس یاترا کو رکوادیا۔ریڈی نے اس وقت اپنی والدہ وجئے لکشمی کے ساتھ سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی تاہم ان کو یاترا جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔29نومبر2010کو مسٹرریڈی نے کانگریس اور ایم پی کے عہدہ سے استعفی دے دیا۔
انہوں نے اپنی یاترا جاری رکھی جس نے ان کو ریاست کا مقبول لیڈر بنادیا۔وہ مئی 2011میں کڑپہ لوک سبھا حلقہ سے ضمنی انتخابات میں 5.4لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے منتخب ہوئے۔11مارچ 2011کو انہوں نے مشرقی گوداوری ضلع میں وائی ایس آرکانگریس کے قیام کا اعلان کیا اور اگلے ہی دن انہوں نے اپنے والد راج شیکھرریڈی کی ضلع کڑپہ کے ایڈوپلاپایہ میں واقع یادگار کے قریب پارٹی کے پرچم کو لہرایا تاہم ان کے سیاسی کیرئیر کو اس کو دھکہ لگا جب ان کو 25مئی 2012کو سی بی آئی نے کرپشن کے معاملات میں گرفتار کرلیا۔انہیں 16ماہ تک چنچل گوڑہ جیل میں رکھا گیا۔2014کے انتخابات میں ان کی پارٹی کو 175رکنی اسمبلی میں صرف 66نشستیں ہی حاصل ہوسکیں تاہم ریڈی نے اپوزیشن لیڈر کے طورپر اپنی صلاحیت کو ثابت کیا اور چندرابابونائیڈو حکومت کی ناکامی اور رشوت خوری کے معاملات کو اسمبلی میں اٹھایا۔انہوں نے ان کے خلاف لگائے گئے رشوت خوری کے الزامات کو غلط ثابت کیا تاہم جگن نے 23ارکان اسمبلی اور تین ارکان پارلیمنٹ نے انحراف کرتے ہوئے تلگودیشم میں شمولیت اختیارکرلی۔ان کے سیاسی کیرئیر کا ایک اہم سنگ میل ان کی 3648کیلومیٹر کی پیدل یاتر ا تھی جو ریاست کے 13 اضلاع میں 341دن تک جاری رہی۔انہوں نے 6نومبر2017میں اس یاترا کا آغازاپنے والد کی یادگار سے کیا اور اختتام اچھاپورم میں کیا۔ان کی یاترا کے دوران ہجوم نے ان کا شاندا راستقبال کیااور بہتر عوامی ردعمل نے ان کی انتخابات میں کامیابی کویقینی بنایا