بھیونڈی ( ایس اے ):- بندۂ مؤمن اپنا سر نیاز خم کرنے اور وَمَا خَلقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُونِ پر عمل پیرا ہونے اور سکون کے ساتھ اجتماعی وانفرادی طور پر عبادت کےلئے جس محل ومقام کو منتخب کرتا ہے عرف شرع میں اس مقدس جا کو مسجد کہتے ہیں ،مسجدیں بنانا کار ثواب ونیک عمل ہے اور ان کو نمازوں ، تلاوت قرآن اور دیگر عبادات سے آباد رکھنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے ۔ نماز باجماعت کے لئے امام ضروری ہے اور اعلان نماز اور دعوت نماز کے لئے مؤذن ضروری ہے یعنی علیٰ وجہ الکمال نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد ، امام ،مؤذن اور مصلیان چاروں چیزیں ضروری ہیں ۔ مسجدیں عالی شان ہوں نمازی نہ ہوں یہ مسلمانوں کے لئے ندامت وشرمندگی کی چیز ہے مسجدیں جہاں بھی ہوں وہاں کے باشندوں اور محلہ کے لوگوں پر انہیں آباد رکھنا لازم وضروری ہے ۔
تقریباً ہر مسجد کے انتظام وانصرام کے لئے کمیٹی بنی ہوتی ہے جو مسجد کے نظم ونسق پر دھیان دیتی ہے لیکن حالات حاضرہ کے تناظر میں اماموں اور مؤذنوں کی پریشانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں !! ایسے میں محلہ والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ مسجد کو آباد رکھنے اور امام و مؤذن کی پریشانیوں کے بارے سوچیں ۔
مہنگائی کے اس دور میں ائمہ مساجد و مؤذنین کی ناکافی تنخواہ اور ان کی ضروریات کا احساس ہر حساس مسلمان کو ہے اس لئے *اقرأ نوری ایجوکیشنل ویلفیئر اینڈ چیریٹبل ٹرسٹ* نے سرزمین بھیونڈی کی تمام مساجد کے امام و مؤذن کے وظیفے و ماہانہ تنخواہ پر ایک سروے شروع کیا ہے تاکہ اسے بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔ اس لئے ائمہ مساجد و مؤذنین سے گزارش ہے کہ درج ذیل پتہ پر آکر سروے فارم حاصل کریں اور ہمیں شکریہ کا موقع دیں ۔
