دہشت گردی کا سامنے کرنے والے مسلم نوجوان کو بھتیجی کی شادی میں شرکت کرنیکی اجازت عدالت نے پولس اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا

دہشت گردی کا سامنے کرنے والے مسلم نوجوان کو بھتیجی کی شادی میں شرکت کرنیکی اجازت

عدالت نے پولس اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا
ممبئی 24 دسمبر
13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے کا سامنا کررہے ایک مسلم نوجوان کو اس کی بھتیجی کی شادی میں شرکت کرنے کی سیشن عدالت نے مشروط اجازت دی ہے، اس سے قبل بھی سیشن عدالت نے ملزم کو اس کی والدہ کے انتقال کے موقع پرتجہیز و تدفین میں نہ صرف شرکت کرنے کی اجازت دی تھی،بلکہ سیکورٹی اخراجات(اسکارٹ چارجیز) بھی معاف کردیئے تھے۔
ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی نے ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو ہدایت دی کہ ملزم کی بھتیجی کی شادی ہورہی ہے لہذا عدالت سے اجازت لینے کی کوشش کی جائے۔
گلزار اعظمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے خصوصی مکوکا عدالت میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی بھتیجی کی شادی ہونے والی ہے اور ملزم کی خواہش ہے کہ وہ شادی میں شرکت کرے۔ لہذا عدالت کو چاہئے کہ وہ انسانی بنیادپر ملزم کو اس کی بھتیجی کی شادی میں شرکت کرنے کی اجازت دے اور ملزم کی بد ترمعاشی حالت کے مد نظر پولس بندوبست کے اخراجات بھی معاف کردینا چاہئے۔
حالانکہ اے ٹی ایس نے ملزم کی شادی میں شرکت کی عرضداشت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اگر ملزم کو شادی میں شرکت کی اجازت دی گئی تو وہ فرار ہونے کی کوشش کریگا اور یہ بھی ممکن ہیکہ وہ اس کے خلاف موجود ثبوت وشواہد مٹانے کی کوشش کرے۔
اے ٹی ایس کے اس جواز کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ملزم کو اس کی والدہ کی تدفین میں شرکت کی اجازت دی تھی جس کا ملزم نے کوئی غلط فائدہ نہیں اٹھایا تھا نیز ملزم کے قبرستان وزٹ کے تعلق سے منفی رپورٹ نہیں ملی تھی لہذا اے ٹی ایس کا اندیشہ کے ملزم فرار ہوجائے غیر واجبی ہے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد خصوصی مکوکا عدالت کے جج بھوسلے نے ملزم ہارون نائیک کو اس کی بھتیجی کی شادی میں شرکت کرنے کی مشروط اجازت دی، جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ملزم اس کی بھتیجی کی شادی میں چند گھنٹوں کے لیئے شرکت کرسکتا ہے لیکن اس کے لیئے اسے پولس کے اخراجات برداشت کرنے ہونگے نیز اخراجات ایڈوانس میں بھرنے کی صورت میں ہی اسے پولس عملہ بذریعہ گاڑی شادی کے مقام پر لیکر جائیگا۔
جمعیۃعلماء مہاراشٹر

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading