ممبئی، 28 مئی (یو این آئی) کوچنگ کلاسیس کے مالکان و ریاستی وزیر تعلیم ونودتاوڈے کے درمیان بڑے پیمانے پر مالی لین دین ہورہا ہے۔ یہ الزام آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے لیڈر وسابق وزیر انل دیشمکھ نے پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں عائد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ کوچنگ کلاسیس کے مالکان ونودتاوڈے کوبڑے پیمانے پر مالی فائدہ پہونچارہے ہیں، جس کی وجہ سے پرائیویٹ کوچنگ سے متعلق مسودہ بل تیار ہونے کے باوجود وہ معلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ونودتاوڈے اس معاملے میں مسلسل عدم توجہی برت رہے ہیں، اس لئے وزیراعلیٰ کو اس پر فوری طور پر توجہ دیتے ہوئے پرائیویٹ کوچنگ مسودے کو منظوری دینی چاہئے۔انل دیشمکھ نے کہا ک سورت میں ایک کوچنگ کلاس میں آگ زنی کا افسوسناک واقعہ ہوا جس میں 20 سے 22 طلبہ کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں ہاہاکارمچ گیا۔
مہاراشٹر میں ایک لاکھ10ہزار کوچنگ کلاسیس چل رہے ہیں، جس میں سے 30 سے 35 ہزار کوچنگ کلاسیس ممبئی میں ہیں۔ ان کلاسیس کا فائر آڈیٹ نہیں ہوتا ہے۔ آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے کی جگہ نہیں ہے۔ ان کلاسیس کو کسی قسم کی کوئی ہدایت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے لئے کوئی رہنمااصول ہیں۔ یہاں پڑھنے والے طلبہ کے لئے کوئی سہولت بھی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اگرکوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو اس کا انجام نہایت بھیانک ہوگا۔ انل دیشمکھ نے کہا کہ سورت جیسی واردات مہاراشٹر وممبئی میں بھی ہوسکتی ہے۔ بدقسمتی سے اگر ایسیا کوئی سانحہ ہوتا ہے تو حکومت کے پاس اس سے نمٹنے کی کوئی تیاری نہیں ہے۔انل دیشمکھ نے کہا ک 2017 میں کوچنگ کلاسیس پر تشکیل دی گئی ایک کمیٹی کے تیار کردہ مسودے پر اسمبلی میں بحث ہوئی تھی۔ 12 لوگوں کی کمیٹی نے یہ مسودہ تیار کیا تھا جو 2018 میں وزیرتعلیم ونودتاوڈے کے سپردکی گئی تھی۔ لیکن وہ ابھی تک اس مسودے کو قانونی بل میں تبدیل نہیں کرسکے ہیں۔ ناگپور کے اسمبلی اجلاس میں ونودتاوڈے نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ جلد ازجلد اس پر نیا قانون بنایا جائے گا، لیکن اس پر عمل درآمد ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ انل دیشمکھ نے کہا کہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے باربار یہ مطالبہ کیا گیا کہ پرائیویٹ کوچنگ کلاسیس کے قانون بنایا جائے لیکن وزیرتعلیم ونودتاوڈے بجائے اس پر نیا قانون بنانے کے کوچنگ کلاسیس والوں کی مدد کررہے ہیں۔