بیڑ: مہاراشٹر کے بیڑ ضلع کے اردھمسلا گاؤں میں عید سے قبل مسجد میں دھماکہ ہوا، جس کی وجہ سے غم و غصہ اور خوف کا ماحول ہے۔ پولیس نے دو ملزمان وجئے راما گوہانے اور شری رام اشوک ساگڑے ساکن اردھمسلا گاؤں تعلقہ گیورائی۔کو گرفتار کر لیا ہے۔ مسجد میں دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔
STORY | Gelatin sticks trigger blast at mosque in Beed, no casualty; 2 held
READ: https://t.co/Q8IHnhWlpm
VIDEO:
(Source: Third Party) pic.twitter.com/6xevUV5bp1— Press Trust of India (@PTI_News) March 30, 2025
جھلکیاں عید سے قبل بیڑ کی مسجد میں دھماکہ ہوا۔
- پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
- دھماکے میں جیلیٹن کی چھڑیوں کا استعمال کیا گیا۔
ان دنوں مہاراشٹر کے بیڑ ضلع کے گیورائی تعلقہ کے اردھمسلا گاؤں کے مسلمانوں میں غصہ اور خوف کا ماحول ہے۔ عید سے عین قبل یہاں کی ایک مسجد میں دھماکہ ہوا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا۔

یہ واقعہ گاؤں کی مسجد میں آج تقریباً 2:30 بجے پیش آیا۔ دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ مسجد کا فرش اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ اس دھماکے سے مسجد کے اطراف کے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔
دھماکہ کس نے کیا؟
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔ پولیس نے دو نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تفتیش کے دوران پولیس نے جائے وقوعہ سے جلیٹن کی چھڑیاں برآمد کیں جو دھماکے میں استعمال کی گئی تھیں۔
بیڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نونیت کاوت نے شہریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان مسجد گئے اور وہاں جیلٹن کا استعمال کرتے ہوئے دھماکہ کیا۔ سرپنچ نے ہمیں واقعہ کی اطلاع دی اور ہم بیس منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئے۔ ہم نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
Beed, Maharashtra: SP Navneet Kawat says, "We received a call from the village sarpanch at 4 AM, and the local police arrived within 200 minutes. Within an hour, our Additional SP, BDDS team and other officials reached the spot. The incident involved a blast at a mosque using… https://t.co/0se9WnuwYR pic.twitter.com/nwzeBIFATE
— IANS (@ians_india) March 30, 2025
مسجد کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟
کاوت نے بتایا کہ ملزم کا دوسرے طبقہ کے لوگوں سے جھگڑا تھا۔ اس کے بعد ملزمان نے انہیں سبق سکھانے کے لیے مسجد میں دھماکہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کان کنی کا کام کرتا ہے اور وہ جانتا تھا کہ جیلیٹن کے ذریعے دھماکے کیسے کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت علاقے میں امن ہے، آج اسی مسجد میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے نماز ظہر ادا کی۔