بیڑ:30/ مارچ ۔( ورق تازہ نیوز) اتوار کی رات ڈھائی بجے بیڑ کے اردھمسلا گاؤں کی مسجد میں ایک بڑا دھماکہ ہوا۔ آدھی رات کو اس طرح کے دھماکے سے علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ اس حیران کن واقعے کے سامنے آنے کے بعد صرف تین سے چار گھنٹوں میں پولیس نے اس واقعے کا معمہ حل کر لیا۔ پولیس نے یہ بھی پتہ لگا لیا کہ یہ دھماکہ کیوں کیا گیا۔ بیڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نوینت کانوت نے اس بارے میں معلومات دی ہیں۔
Beed, Maharashtra: SP Navneet Kawat says, "We received a call from the village sarpanch at 4 AM, and the local police arrived within 200 minutes. Within an hour, our Additional SP, BDDS team and other officials reached the spot. The incident involved a blast at a mosque using… https://t.co/0se9WnuwYR pic.twitter.com/nwzeBIFATE
— IANS (@ians_india) March 30, 2025
موصولہ معلومات کے مطابق، ملزم نے مسجد میں جا کر جلیٹن کی چھڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ دھماکہ کیا۔ دھماکے کے بعد گیورائی تعلقہ کے اردھمسلا گاؤں کے سرپنچ نے فوری طور پر واقعے کی اطلاع پولیس کو دی اور صرف 20 منٹ میں پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ سرپنچ کے تعاون سے ہم نے دونوں ملزمان وجئے راما گوہانے اور شری رام اشوک ساگڑے ساکن اردھمسلا گاؤں تعلقہ گیورائی۔صبح چھ بجے گرفتار کر لیا گیا۔ بیڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نوینت کانوت نے اپیل کی ہے کہ سب امن و سکون سے رہیں۔
اس بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ نوینت کانوت نے کہا کہ مسجد دھماکہ کیس میں تلواڈا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گاؤں میں امن ہے۔ بیڑ ضلع کے تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ امن قائم رکھیں۔ یہ واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پولیس مستعد ہے۔
پولیس نے فوری طور پر آ کر دو سے تین گھنٹوں میں ملزمان کو پکڑ لیا ہے۔ ہم نے اپنا سو فیصد کام کیا ہے۔ لوگوں سے اپیل ہے کہ امن و سکون سے رہیں۔ دونوں تہوار امن و سکون سے منائیں، کانوت نے اپیل کی۔