کورونا ایک ایسا وائرس ہے جو زندہ نہیں ہے لیکن زندہ چیزوں سے لگ کر زندہ انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔تفصیلات بہت آچکی ہیں اب بات حفظ ماتقدم کے نئے زاویوں کی ہے کیونکہ انڈیا میں بالخصوص مہاراشٹر میں کورونا وائرس کے معاملات آج اپریل کی15 تاریخ تک بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ ممبئی میں نیم فوجی دستوں کو ربر کی گولی چلانے تک کے احکامات جاری ہیں۔ پورا ملکی نظام تھم گیا یے۔ لیکن کرفیو میں کچھ گھنٹوں کی راحت خود آپ کے لئے ہلاکت بن سکتی ہے کیونکہ آپ سامان لیتے ہیں دیتے ہیں پیسے لین دین کرتے ہیں لیکن گھر آکر پھر ہاتھ منہ نہیں دھوتے۔ ایک تو ہاتھ منہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے دھونا ہے لیکن آپ گھر میں داخل ہونے کے بعد بھی دھولیں تو آپ نے نل یا ٹونٹی کھولی اور اسے منہ دھونے سے پہلے ہاتھ لگایا ۔ تو وہ حصہ پہلے خراب ہوا تھا آپ نے منہ ہاتھ دھوئے پھر اس خراب نل کو بند کرنے کے لئے نل کو ہاتھ لگایا۔ تو پھر ہاتھ دوبارہ گندے ہوگئے آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ محفوظ ہیں لیکن آپ محفوظ نہیں کیونکہ نل بند کرتے ہوئے آپ کے ہاتھ دوبارہ گندے ہوگئے۔ اس چہرہ اور ہاتھ کے ساتھ ساتھ نل کو بھی صابن سے دھو لیں۔ آپ نے گھر لایا سامان دھویا نہیں جبکہ سامان کی تھیلی پیکٹ سب گندہ ہے آپ نے پھر آکر سامان کو ہاتھ لگایا آپ پھر خطرے میں آگئے۔ آپ نے دودھ لیا تو برتن کو دودھ والے نے ہاتھ لگایا آپ کا برتن گندہ ہوگیا آپ نے اسی برتن کو واپس لیا تو آپ کا ہاتھ دوبارہ خراب ہوگیا۔ آپ ماسک لگاکر باہر گئے تھے۔ ماسک پر خدا نخواستہ کوئی وائرس آگیا آپ ماسک لگاکر گھوم رہے ہیں اس ماسک کو گھر میں لےکر آرہے ہیں۔ اسے پاکٹ میں جیب میں سنبھال رہے ہیں۔ آپ کے بچے اسی ماسک سے کھیل رہے ہیں۔ اس طرح پورا نظام ملک بند ہوکر بھی وائرس کو پھیلنے سے روک نہیں پارہا ہے۔
درج ذیل احتیاطیں بذات خود آپ کو لازمی طور پر کرنی ہیں:
یا تو باہر کاماسک باہر اتار دیں اس طرح کے اس کے کان والے حصے ہی چھوئیں۔اور اسے گھر کے باہر ڈسٹ بن میں ڈال دیں۔یا گھر میں داخل ہونے سے پہلے یا بعد فورا صابن سے دھو دیں۔
ہر بار ایسا ہی کریں یا کم از کم ہر دو گھنٹے میں اس ماسک کو ضرور دھوئیں۔
اس کے علاوہ آپ کا فون جو خود وائرس کنڈکٹر ہے اور اس پر لاکھوں بیکٹیریا رہتے ہیں اس کو بھی کیمیکل یا گیلے کپڑے سے دن میں دوبار ضرور مسح کرائیں یا کپڑے سے ضرور پوچھیں۔
اس کے علاوہ بدن پر جو ڈریس یونیفارم ہے اگر باہر جاکر آئے ہیں تو ضرور بالٹی یا واشنگ مشین میں ڈال کر صرف سے دھو دیں اور صاف ستھرا کپڑا پہن لیں۔ اگر ممکن نہیں تو کم از کم بدن اور کپڑوں پر سینی ٹائیزر کا فوارہ کریں۔ اس طرح آپ بھی محفوظ رہیں گے اور آپ کے اپنے بھی۔
گھر میں داخل۔ہوکر سب سے پہلے کسی بھی چیز کو چھونے سے قبل ہاتھ چہرہ صابن سے دھوئیں اور منہ کو۔برش سے صاف کریں۔ ناک پر کوئی وائرس نہ ہو اس لئے اندر سے زندہ طلسمات ۔قلزم ہمدرد ۔ کھوجاتی لولوکا شفا یا وکس یا جھنڈو بام۔ یا کافور یا ست پودینہ لگائیں یا کم از کم سونگھیں۔ ان میں جراثیم کش تاثیر ہوتی ہے۔
جو سامان آپ نے باہر سے لایا ہے اگر وہ پیکٹ میں ہے تو ہاتھ منہ دھونے سے قبل پہلے اسے صابن سے دھولیں سبزی فروٹ کو کم ازکم بیس منٹ تک نمک کے پانی میں ڈبو کر رکھیں اور اس کے بعد ہی استعمال کریں۔
دودھ والوں سے برتن میں دودھ لینے کے بعد ہاتھ ضرور دھولیں۔ بچوں کو گود میں اٹھانے یا انہیں چھونے سے قبل خود کی ایک بار پھر صفائی کرنا نا بھولیں۔
ایک بات یاد رکھیں زیادہ خوف زدہ ہونا خود بیماری ہے۔ اسلئے خوفزدہ نہ ہوں۔ احتیاطی تدابیر کریں ہوشمندی سے کام لیں۔ احتیاط اپنے ہاتھ میں ہے ورنہ مقدر میں مصیبت لکھی ہو تو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ لوگوں سے ملنا ملانا اور گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیں۔ یہ وائرس ذرا دوجے قسم کا ہے۔ اس لئے کئی عمر دراز ڈاکٹرس اور سائنس دانوں کو بھی یہ کہتے سنا گیا کہ پوری زندگی میں نہ ایسا سنا نہ دیکھا۔اب یہ سازش ہو یا نہ ہو لیکن وائرس دنیا میں پنپ چکا ہے۔ یہ حقیقیت ہے
یہ وائرس پوری دنیا کی نصف آبادی کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اللہ رب العزت کی ذات سب سے بڑی ہے۔ ہم اور وائرس دونوں زندگی اور موت کے لئے اللہ کے حکم کے محتاج ہیں۔ جان اور صحت اللہ کی امانت ہے اس لیے احتیاط کرنا ہم پر فرض ہے۔ جان بوجھ کر خود اسکا شکار ہوں اور نہ کسی کو ہونے دیں۔فیروز خان مولانا آزاد وچار منچ پو سد تعلقہ سیکریٹری اور اے آئی ایم آئی ایم یوک تعلقہ صدر نے گزارش کی ہے۔۔
