آل انڈیا مسلم پرنسل لاءبورڈ نے مسلمانان ہند کو آر ایس ایس ۔بی جے پی کے جال میں دھکیل دیا:سوز

0 10
سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوزکابیان
سرینگر©:23 ستمبر(ای میل)”مجھے اس بات پر کافی دکھ ہے کہ پچھلے تقریباً 25 برس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے صریح الفاظ میں مسلمانان ہند کو کبھی ہدایت نہیں دی کہ وہ ایک ہی وقت میں تین طلاق کہنے سے باز آئیں کیونکہ یہ غیر اسلامی عمل ہے۔ اس غفلت شعاری اور غیر سنجیدگی سے بالآخر یہ بال آر ایس ایس ۔بی جے پی سنگٹھن نے زبردستی اپنی تحویل میں لے لی اور آج ہندوستان کے مسلمانوں کو صدر جمہوریہ کے آرڈی ننس سے ایک وقت میں تین طلاق کے مسئلے پر اندر ہی اندر صدمہ پیدا پہنچایا ہے کیونکہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے مذہبی امور میں شامل ہے اور کسی طرح بھی آر ایس ایس ۔ بی جے پی سنگھٹن کو یا اُن کی حکومت کو ایسے امور میں دخل نہیں دینا چاہئے! اس آرڈی ننس سے ثابت ہوتا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کا وجود ہندوستان کے مسلمانوں کےلئے اذیت ناک اور نقصان دہ ثابت ہو گیا ہے۔ غور کیجئے ، پرسنل لاءبورڈ نے انگنت مسلم خواتین کو عدلیہ میں جاتے ہوئے دیکھا جن کو اپنے مجرم شوہروں نے ایک وقت پر تین طلاق دینے سے بے کس اور مجبور بنا دیا تھا۔ مسلم پرنسپل لاءبورڈ نے ان دُکھی اور ستم رسیدہ بیٹیوں تک رسائی حاصل نہیں کی اور انکی دستگیری کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اگر بورڈ کے وسائل نہیں تھے تو کیا انہوں نے کبھی مسلمانان ہند کو ان عورتوں کی مدد کے لئے کوئی اپیل کی ؟ یہ ایک ایسا ٹولہ ہے جو صرف فتویٰ بازی کرتا ہے اور اپنے آنکھیں کھلی نہیں رکھتا تاکہ وہ دیکھے کہ دوسرے اسلامی ممالک میں اس مسئلے پر کیا ہو رہا ہے!میں نے پہلے ہی بتایا ہے کہ یہ پرنسپل لاءبورڈ غیر نمائندہ جماعت ہے اور اس کا عمل کسی طرح جمہوری نہیں ہے نہ اس جماعت میں مسلمانوں کے عائیلی قوانین کے تحفظ میں کوئی دلچسپی ہے۔ یہ بورڈ اُن افراد پر مشتمل ہے جن کی کوئی نمائندہ حیثیت نہیں ہے۔ اور انہوں نے اپنے استکبار میں کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ پہلے ہی 25 سے زیادہ اسلامی ممالک جن میں سعودی عربیہ، مصر، انڈونیشیا، ملےشیاءاور پاکستان شامل ہیں ،نے پہلے ہی ایک وقت پر تین طلاق کہنے کو غیر اسلامی فعل قرار دیا ہے۔میں اس سلسلے میں مسلم مجلس مشاورت، جماعت اسلامی ہند، اسلامک فقہ کونسل ، جمعیت العلماءہند اور انسٹیچوٹ آف اوبجیکٹیوسٹیڈیز (Institute of Objection Studies) جیسے اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ فوری طور غور و فکر کے بعد ایک ایسا ادارہ تشکیل دیں جو مسلمانوں کے مذہبی قوانین کا تحفظ کرنے کےلئے ذمہ داری سنبھالے۔ مجھے اس اضطرابی کیفیت میں تعجب ہو رہا ہے کہ اسلامک فقہ کونسل نے کیوں نہیں اس معاملے میں دلچسپی لے لی حالانکہ کچھ برس پہلے فقہ کونسل نے ہی نلسن منڈیلا کی دعوت پر ساوتھ افریقہ کےلئے عائیلی قوانین اور انکے تحفظ کا خاکہ تیار کیا تھا!میں یہ سوال مسلمانان ہند کے ساتھ براہ راست اٹھانا چاہتا ہوںکہ کیا آپ کا خیال ہے کہ آر ایس ایس ۔بی جے پی سنگٹھن نے مسلمان عورتوں کی ہمدردی میں ایک وقت میں تین طلاق کا مسئلہ پہلے سپریم کورٹ میں اٹھایا اور اب صدر جمہوریہ سے ایک آرڈی ننس جاری کروایا ؟ کیا ہندو عورتوں کے مسائل موجود نہیں ہیں؟ان سوالوں پر مسلمانان ہند اور متذکرہ اسلامی اداروں کو فوری طور غور کرنا چاہئے۔ اس پر بھی ذرا غور کیجئے کہ کیا مسلمانوں کے دوسرے عائیلی قوانین کو آر ایس ایس ۔ بی جے پی سنگھٹن کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا چاہئے؟دراصل نریندر مودی ساری اچھل کود 2019ئ کے انتخابات کو نظر میں رکھتے ہوئے کر رہا ہے!مسلمانان ہند کو جمہوری اور پر امن طریقے سے اس آرڈی ننس کو رد کرنا چاہئے !
ع
اندازِ بیان گرچہ میں شوخ نہیں ہے؛
   شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات!