ہجومی تشدد اور ہمارا رد عمل

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ،

پھر سے وہی سب کچھ شروع ہوچکا ہے جو ہم گزشتہ پانچ سالوں سے دیکھتے، سنتے اور سہتے آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں وزیر اعظم کا نعرہ، سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواش بھی لفاظی کے سوا کچھ نہیں تھا۔اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے خلاف  ہجومی تشدد کا ایک سلسلہ ہے جو چل نکلا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر راستہ چلتے چھیڑنا، مذہبی نعرے لگا نے کے لئے زبردستی کرنا، ٹوپی اور برقعہ پوش افراد سے بد تمیزی، ہاتھ پائی کرنا روز کا معمول بنتا جارہا ہے۔ بات گاؤ رکشااور لو جہاد سے شروع ہو کر اب بے بنیاد چوری کے الزام پر  ہجومی تشدد کے سہارے قتل عمد تک آگئی ہے۔ اتنا سب دیکھ کر بھی حکومت کا رویہ کچھ بھی بدلا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ الٹا قانون کے رکھوالے ظالموں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے اور مظلوموں پر ہی کیس کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اتنے حساس مسئلے پر جس کو لے کر عالمی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر ہورہی ہے، حکومت جس تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی ہے اس کے پیچھے کیا راز ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس طرح شرارتی بچے اگر کچھ مانگنے لگیں تو ان کے ہاتھ میں کھلونا دے کر،تاکہ وہ اپنی شرارت کا نشانہ اس کھلونے کو بنائیں، انہیں بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے، اسی طرح اقلیتوں کو جن کے بارے میں یہ بات یقینی ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے ساتھ کبھی نہیں آسکتے، حکومت سے نالاں عوام کو یہ سمجھا کرکہ تمھاری محرومی کی وجہ ان اقلیتوں کا تمھارے وسائل پر قبضہ ہے، حوالے کردیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنا غصہ ان پر نکال لیں اور حکومت اپنی مان مانی کرتی رہیں۔ سرمایہ دارنہ نظام کی یہ ایک ایسی چال ہے جس میں ظالم اور مظلوم دونوں عوام ہی ہوتے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر کبھی علاقائیت کے نام پر کبھی زبان کے نام پر عوام کو آپس میں اس طرح لڑایا جاتاہے کہ وہ آخرحد تک جا کر بھی تہی دست ہی رہتی ہے اور اپنی اصل پہچان کھو کر سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرتی پھرتی ہے۔

اس حساس اور گھمبیر مسئلے پر مسلمانوں کا رد عمل بہت ہی افسوس ناک ہے۔ حکمت عملی سے خالی، مایوس، جذباتی، غصہ سے بھرپور، فرشٹریشن اور خوف میں مبتلا رد عمل، جس سے فائدہ کم نقصان زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ فسطائی طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ کسی طرح ہمیں سڑکو ں پر لایا جائیں تاکہ ہمارے کسی جذباتی لمحاتی خطا کا سہار الے کر ہمیں زیادہ سے زیادہ زک پہنچایا جائے۔ ہمارے عقل سے عاری نعرہ بازیوں اور ہمارے نام نہاد قائدین کے جذباتی تقاریرسنوا کر، اکثریتی سماج کے دل میں خوف پیدا کیا جائیں اور ان کے ووٹ اپنے حق میں کرنے کے لئے راستہ ہموار کیا جائے۔ان حالات میں ہمارا رد عمل، ہونا تو یہ چاہیے کہ سماج کے تمام درد مند افراد کوساتھ لے کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم طے کر کے اس کے ذریعے حکومت سے بات چیت کی جائے اور ہجومی تشدد کے خلاف سخت قانون بنانے کی مانگ رکھی جائے، ساتھ ہی عدالت میں بھی مقدمہ دائر کر کے حکومت کو اس مسئلے میں گھیرا جائے تا کہ وہ خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے لئے عملاً آمادہ ہو جائیں۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے جو نظارے ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں اس سے تو یہی سمجھ میں آرہا ہے کہ مسلمان مکمل طور پر فسطائی طاقتوں کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ ہمارے احباب سڑکوں پر جس قسم کے نعرے لگارہے ہیں، ہمارے نام نہاد قائدین پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر جس طرح کی جذباتی تقریریں کرتے پھر رہے ہیں، اس کی وجہ سے مسئلے کی عمومیت ختم ہورہی ہے اور اسے ایک مخصوص مذہبی رنگ دیا جانے لگا ہے، جس کا راست فائدہ فسطائی طاقتو ں کو ہورہا ہے۔

خدارا! ہوش کے ناخن لیں۔ جو بھی کریں سوچ سمجھ کر کریں۔ جذباتی بہکاوے میں آ کر کچھ بھی ایسا نہ کریں جس کا خمیازہ پوری قوم کو برسوں بھگتنا پڑیں۔ پہلے اپنے صفوں میں انتشار پیدا ہونے سے روکیں۔ ہر قسم کے گروہ بندیوں سے اوپر اٹھ کر انصاف اور امن کے خاطر ایک جٹ ہونے کی کوشش کریں۔ جو افراد ان حالات میں بھی فروعی اختلافات چھیڑ کر لوگوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرہے ہیں وہ حقیقت میں قوم کے ناسور اور فسطائی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ ممکن حد تک ایسے لعنتی افراد سے قطعہ تعلق کر کے ملی یکجہتی کا ثبوت دیں۔ سڑکوں پر اتر کر نعرہ بازی کرنے سے احتراز کریں، حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کے دائرے قائم کر کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں  یا  عدالتوں کے ذریعے انصاف مانگیں۔

مومن اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں، ایک ایسی حکمت عملی سے دیتا ہے کہ دشمن بھی اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے، یہی ہماری تاریخ ہے اور یہی ہماری پہچان رہی ہے۔مُخبرِ صادق ﷺ کا ارشاد ہے”مومن کی فراست سے ڈرو،کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“۔  آئیے!اس تاریخ اور پہچان کو پھر سے زندہ کریں۔ اپنے فراست سے ملک میں چھا رہی ظلم کی اس بھیانک تاریکی کو امن کے نور سے منور کردیں۔  اللہ ہمیں سمجھ دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading