400 نشستیں ملنے پر کاشی اور متھرا میں عالیشان مندر بنائیں گے: گری راج سنگھ

پٹنہ: مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے چہارشنبہ کے دن زور دے کر کہا کہ نریندر مودی حکومت نے مسلمانوں سے کبھی بھی بھیدبھاؤ نہیں کیا۔ انہوں نے کانگریس زیرقیادت اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس کا جھکاؤ اقلیتی ووٹ بینک کی طرف ہے۔سینئر بی جے پی قائد نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی‘ مودی کی تیسری میعاد میں جو این ڈی اے کو 400 سے زائد نشستوں کی جیت کے ساتھ ملے گی‘ ایودھیا کی طرح کاشی اور متھرا میں عالیشان مندر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

گری راج سنگھ نے پی ٹی آئی ویڈیو سے کہا کہ مودی نے جب غریبوں کو گیس سلنڈر‘ مفت راشن‘ مکانات اور ٹائلٹس بانٹے تو استفادہ کنندگان میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے کیونکہ کسی کے ساتھ کوئی بھیدبھاؤ نہیں کیا گیا۔کانگریس کی پچھلی حکومتوں میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ مسلمانوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کھلے عام کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر اقلیتی فرقہ کا پہلا حق ہے۔ گری راج سنگھ‘ مودی کابینہ میں وزیر پنچایتی راج و دیہی ترقیات ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کرناٹک جیسی ریاست میں جہاں کانگریس برسراقتدار ہے‘ تمام مسلمانوں کو خاموشی سے او بی سی(دیگر پسماندہ طبقات) قراردے دیا گیا۔ یہ اقدام ہندو پسماندہ طبقات کی قیمت پر کیا گیا۔ اپوزیشن کی حلیف جیسے بہار کی آر جے ڈی یہاں یہی کرنا چاہتی ہے۔

بی جے پی قائد نے کہا کہ 2019میں 300 سے زائد نشستیں ملنے پر حکومت نے دفعہ 370 برخاست کردی تھی۔ اِس بار 400 پار نشستیں ملنے پر حکومت وراثت کے ساتھ وکاس کرے گی۔ اپنے ریمارک کی وضاحت کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ ہم ایودھیا میں مندر بناچکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading