’کرایے کی ماں‘ کی شرعی حیثیت ؟ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سکریٹری شریعہ کونسل جماعت اسلامی ہند

جناب سلیم منصور خالد ، نائب مدیر ماہ نامہ ترجمان القرآن لاہور نے میرے پاس ایک سوال نامہ بھیجا ، جس میں اس حوالے کے ساتھ کہ جناب جاوید احمد غامدی ‘ رحم کی کرایہ داری’ کے جواز کے قائل ہیں ، خواہش کی کہ میں اس موضوع پر نصوصِ شریعت کی روشنی میں تفصیل سے اظہارِ خیال کروں _ میرا جواب مجلے کے نومبر 2020 کے شمارہ میں شائع ہوگیا ہے _ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس موضوع پر پاکستان کے معروف عالمِ دین مفتی منیب الرحمٰن سے بھی جواب لکھوایا گیا ہے اور اس موضوع پر ہم دونوں کا نقطۂ نظر ایک ہے _ بہر حال یہ موضوع موجودہ دور کے جدید ، حسّاس اور نازک مسائل میں سے ہے اور اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کے لیے کھلا ہوا ہے _ میں مدیرِ ترجمان کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میرے جواب کو شاملِ اشاعت کیا _ ]

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ بتا دیا ہے ۔ قرآن مجید میں بنیادی اقدار ، احکام اور تعلیمات مذکور ہیں ، جب کہ احادیث میں تفصیلات اور جزئیات بیان کر دی گئی ہیں ۔ زمانہ گزر نے کے ساتھ اور بدلتے ہوئے حالات میں جو مسائل اور مشکلات پیش آتے ہیں انھیں حل کرنے کے لیے علماء و فقہاء اور اسرارِ شریعت کے ماہرین نے اجتہاد کیا ہے ، لیکن ان کا اجتہاد ہمیشہ دین کی بنیادی اقدار ، اساسی تعلیمات اور روحِ شریعت سے ہم آہنگ رہا ہے ۔ جن حضرات نے اس سے ہٹ کر اجتہاد کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسی آراء پیش کی ہیں جو اساسیاتِ دین اور روحِ شریعت سے متصادم ہوں انھیں امت میں قبولِ عام نہیں حاصل ہوا ہے۔

انسان کی تخلیق کا معروف اور متداول فطری طریقہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان جنسی اتصال (Sexual Contact) ہو ۔ اس کے نتیجہ میں مرد سے منی (Sperm) اور عورت سے بیضہ (Ovum) نکلتا ہے ۔ دونوں کا اتصال و امتزاج عورت کے اعضائے تناسل میں سے قاذف (Fallopian Tube) کے باہری تہائی حصے میں ہوتا ہے ۔ اس طرح عملِ بارآوری (Fertilization) انجام پاتا ہے۔ پھر وہ مخلوط نطفہ (Zygote) عورت کے رحم (Uterus) میں منتقل ہوجاتا ہے ، جہاں دھیرے دھیرے نشو و نما پاتے ہوئے جنین کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس پورے مرحلے کو بہت اختصار کے ساتھ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَۃٍ أَمْشَاجٍ ۔ الدھر : 2 (ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا ہے۔)

قرآن مجید صراحت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کا جنسی اتصال صرف نکاح کی صورت میں جائز ہے ۔ (النساء:1، 3 ، 25 ،127 النور : 32، الاحزاب: 49 ، الممتحنۃ : 10) بغیر نکاح کے جنسی تعلق کو وہ’زنا‘ سے تعبیر کرتا ہے ، خواہ اسے علی الاعلان قائم کیا جائے یا چھپ کر ، اوراسے حرام قرار دیتے ہوئے اس کا ارتکاب کرنے والے کے لیے عبرت ناک سزا تجویز کرتا ہے ۔ (بنی اسرائیل : 32 ، النور : 2)

خلاصہ یہ کہ جنین کی تخلیق کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں : مرد کا نطفہ ، عورت کا بیضہ اور اس کا رحم ۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مذکورہ بالا طریقہ (Process) اختیار کیا جائے جس سے استقرارِ حمل ہو سکے ۔ جنسی اعضاء میں کوئی نقص ہو ، یا کسی وجہ سے مذکورہ طریقہ اختیار نہ کیا جاسکے تو بارآوری اور تولید کا عمل انجام نہیں پاسکتا ۔ یہ نقص مرد میں بھی ہو سکتا ہے اور عورت میں بھی ۔ مثلاً مرد قوتِ مردی میں کمی کی وجہ سے سے جماع (Intercourse) پر قادر نہ ہو ، یا اس کے مادۂ تولید میں حیواناتِ منویہ کا تناسب مطلوبہ مقدار سے کم اور ان کی حرکت کم زور ہو ، یا مادۂ تولید کو خصیوں (Testes) سے عضوِ تناسل (Penis) تک لانے والی رگیں مسدود ہو گئی ہوں ، یا خصیے بے کار ہوں ۔ اسی طرح عورت میں کسی نقص کے سبب خصیۃ الرحم (Ovaries) سے بیضہ کا اخراج ممکن نہ ہو ، یا قاذفین پیدائشی طور پر موجود نہ ہوں ، یا مسدود ہوگئے ہوں ، یا وہ پیدائشی طور پر رحم سے محروم ہو ، یا کسی مرض کے سبب اسے نکال دیا گیا ہو ، یا اس میں بار آور بیضہ کا استقرار ممکن نہ ہو ، وغیرہ ۔

مغرب نے میڈیکل سائنس کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ چنانچہ وہاں مذکورہ بالا تمام نقائص کا حل نکال لیا گیا ہے اور ان کا متبادل تلاش کر لیا گیا ہے ۔ اگر مرد کا نطفہ ، عورت کا بیضہ اور اس کا رحم ، سب حیاتیاتی اعتبار سے صحت مند ہوں ، لیکن مرد جماع پر قادر نہ ہو ، یا اس کا نطفہ خصیوں سے عضوِ تناسل تک لانے والی رگیں مسدود ہوگئی ہوں تو اس کے نطفے کو ایک سرنج میں لے کر عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے ، جہاں وہ عورت کے بیضہ سے مل کر بار آور ہوتا ہے ۔ اسے ’مصنوعی تلقیح‘ (Artificial Insemination) کہا جاتا ہے ۔ اگر مرد کے نطفے میں حیواناتِ منویہ کا تناسب کم اور ان کی حرکت کم زور ہو ، یا وہ تولیدی صلاحیت سے محروم ہو تو کسی دوسرے شخص کا نطفہ استعمال کیا جا تا ہے ۔ اسے لے کر عورت کے رحم میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ اس کام کے لیے مغرب میں بڑے بڑے مادۂ منویہ کے مراکز (Sperm Banks) قائم ہوگئے ہیں ، جہاں سے کوئی بھی شخص اپنی پسند کا نطفہ خرید سکتا ہے ۔

اگر عورت میں قاذفین پیدائشی طور پر موجود نہ ہوں ، یا بعد میں کسی وجہ سے مسدود ہوگئے ہوں ، البتہ اس کا بیضہ صحیح سلامت ہو تو اسے اور مرد کا نطفہ حاصل کرکے دونوں کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں بارآور کیا جاتا ہے ۔ پھر اسے ایک متعین مدت کے بعد عورت کے رحم میں منتقل کردیا جاتا ہے ۔ اسے’ٹیسٹ ٹیوب میں بارآوری‘ (In Vitro Fertilization) کہا جاتا ہے ۔ اگر عورت کا رحم بالکل ٹھیک ہو اور استقرارِ حمل کی صلاحیت رکھتا ہو ، لیکن خصیۃ الرحم میں کسی نقص کے سبب اس سے بیضہ خارج نہ ہوپارہا ہو تو کسی دوسری عورت کا بیضہ لے کر اس کے رحم میں منتقل کیا جا تا ہے ، یا مرد کے نطفے سے دوسری عورت کا بیضہ اسی کے رحم میں بارآور کرکے ، یا دونوں کو ٹیسٹ ٹیوب میں بارآور کرکے ، اس بارآور بیضہ کی تنصیب بیوی کے رحم میں کر دی جاتی ہے ۔ اسے’انتقالِ بیضہ‘ (Ovum implantation) کہا جاتا ہے ۔ اگر مرد کا نطفہ اورعورت کا بیضہ دونوں صحت مند ہوں ، لیکن عورت رحم کے کسی مرض میں مبتلا ہو ، جس کی وجہ سے اس میں استقرارِ حمل ممکن نہ ہو تو زوجین کسی دوسری عورت کے رحم کو کرایے پر لیتے ہیں ۔ ٹیسٹ ٹیوب میں دونوں کے مادّوں کو ملا کر حاصل شدہ جنین کو اس عورت کے رحم میں منتقل کر دیا جاتا ہے ، جہاں وہ پرورش پاتا ہے ۔ اسی طرح بعض عورتیں صحت مند ہونے کے باوجود حمل و رضاعت کے بکھیڑوں میں نہیں پڑتا چاہتیں ۔ وہ بھی دوسری عورت کے رحم کو کرایے پر لے لیتی ہیں ۔ ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ بیوی سے بیضہ بھی نہیں حاصل ہو سکتا ۔ چنانچہ دوسری عورت سے بیضہ حاصل کیا جاتا ہے اور پہلی عورت کے شوہر کے نطفے سے اس کی تلقیح کرکے اسی (دوسری) عورت کے کرایے پر دیے گئے رحم میں اس کی پرورش کی جاتی ہے ۔ اسے’قائم مقام مادریت‘ (Surrogacy) کہا جاتا ہے ۔

مغرب ، جہاں کا کلچر خالص مادّیت پر مبنی اور اخلاقیات سے بالکل عاری ہے ، وہاں ان تمام طریقوں پر عمل ہورہا ہے اور مرد و عورت کے تناسلی نظام میں پائے جانے والے خِلقی (Congenital) یا اکتسابی (Acquired) نقائص کو دور کرکے بچے پیدا کیے جارہے ہیں ۔ اس چیز نے میڈیکل کی دنیا میں ایک زبردست انڈسٹری کی صورت اختیار کر لی ہے ، جس میں اربوں کھربوں ڈالر کا سرمایہ لگا ہوا ہے ۔

اسلام اپنا ایک نظام رکھتا ہے ۔ وہ عام حالات میں زندگی گزارنے کے طریقوں کی طرف رہ نمائی کرتا ہے اور ان میں کوئی دشواری لاحق ہونے پر کام یابی کے ساتھ ان کا حل پیش کرتا ہے ۔ میڈیکل کی دنیا میں معمول بہ مذکورہ بالا طریقوں کو اسلام کی بنیادی اقدار اور اساسی تعلیمات کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا ۔ جو طریقے ان سے ٹکرائیں گے وہ کسی بھی صورت میں اس کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہو سکتے ، البتہ جو ان سے متصادم نہیں ہوں گے انھیں اختیار کرنے کی اس کی طرف سے اجازت ہوگی ۔

اسلام نے توالد و تناسل اور نسلِ انسانی کے تسلسل کے لیے نکاح کو مشروع کیا ہے ۔ زوجین کے جنسی اتصال سے رحمِ مادر میں استقرارِ حمل ہوتا ہے ۔ عورت جنین کو نو (9) مہینے اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور اپنے خون سے اس کی آبیاری کرتی ہے ۔ اس طویل مدت میں وہ طرح طرح کی پریشانیاں اور تکلیفیں برداشت کرتی ہے ۔ وضعِ حمل کا مرحلہ بھی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ بچے کی پیدائش کے بعد وہ دو(2) برس اسے دودھ پلاتی ہے ۔ ان تمام مراحل کا بیان قرآن مجید میں موجود ہے ۔ (ملاحظہ کیجیے : النساء :1 ، الاعراف : 189 ، لقمان : 14 ، الأحقاف : 15) اسی بنا پر ماں کا تذکرہ باپ کے مقابلے میں زیادہ کیا گیا ہے اور اس کی فضیلتیں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ امومت (Motherhood) کا جذبہ ہر عورت میں فطری طور پر ودیعت کیا گیا ہے ۔ ماں بننے کے لیے ہی عورت ان تمام تکلیف دہ مراحل سے ہنسی خوشی گزرتی ہے ۔ اب اگر کوئی عورت ان مراحل سے گزرے بغیر ماں بننا چاہے اور حمل اور وضعِ حمل کے کاموں کے لیے دوسری عورت کی خدمات حاصل کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت سے بغاوت کر رہی ہے ۔ عورت کو اس کا تو اختیار ہے کہ وہ کسی کی بیوی نہ بننا چاہے تو نکاح نہ کرے اور ماں نہ بننا چاہے تو جنسی تعلق سے احتراز کرے ، لیکن اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے جسم کو سڈول رکھنے ، یا اس کی خوب صورتی کو دیر تک قائم رکھنے ، یا حمل اور وضعِ حمل کی تکالیف سے بچنے کے لیے دوسری عورت کے رحم کو کرایے پر لے اور چند ٹکوں کے عوض اس سے بچہ پیدا کرواکے خود کواس بچے کی ماں بنا لے ۔

اگر شوہر کا نطفہ ، بیوی کا بیضہ اور اس کا رحم ، سب صحیح سلامت اور صحت مند ہیں ، لیکن کسی نقص کے سبب نطفہ و بیضہ کا اتصال ، تلقیح اور استقرارِ حمل ممکن نہ ہو تو مصنوعی طریقہ ہائے تولید سے استفادہ جائز ہے ۔ یہ عمل علاج تصور کیا جائے گا ، جس کی شریعت میں اجازت دی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر شوہر کسی وجہ سے جماع پر قادر نہ ہو ، لیکن اس کا نطفہ حیاتیاتی اعتبار سے صحت مند ہو اور اس میں تولیدی صلاحیت موجود ہو ، تو اسے کسی مصنوعی طریقے سے بیوی کے رحم میں منتقل کرنا ، تاکہ وہ بیوی کے بیضہ سے مل کر بار آور ہوسکے ، جائز ہوگا ۔ اسی طرح اگر نطفہ اور بیضہ کا اتصال اور بارآوری فطری طریقے سے بیوی کے رحم میں ممکن نہ ہو تو ٹیسٹ ٹیوب میں ان کو بارآور کرکے بیوی کے رحم میں منتقل کرنا جائز ہوگا ۔

البتہ اسلامی نقطۂ نظر سے ضروری ہے کہ نطفہ شوہر کا ، بیضہ بیوی کا اور رحم بھی بیوی کا ہی ہو ۔ اگر نطفہ شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کا حاصل کیا جائے ، یا بیضہ بیوی کے علاوہ کسی اور عورت سے لیا جائے ، یا نطفہ اور بیضہ تو زوجین کے ہی ہوں ، لیکن دونوں کا استقرار اور جنین کی پرورش کسی اور عورت کا رحم کرایے پر لے کر اس میں کی جائے تو یہ اسلامی شریعت کی رو سے قطعاً ناجائز ہے ۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں :

۱۔ شریعت میں اس چیز کو قطعاً حرام قرار دیا گیا ہے کہ کسی مرد کے نطفے سے ایسی عورت کا استقرارِ حمل ہو جس کا اس سے ازدواجی رشتہ نہ ہو ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے :
لَا یَحِلّ لِامرِئٍ یُومِنُ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الآخِرِأن یَّسقِيَ مَاؤہُ زَرعَ غَیرِہِ (ابو داؤد : 2158)
”کسی شخص کے لیے ، جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو ، جائز نہیں ہے کہ اپنے پانی (یعنی مادۂ تولید) سے کسی دوسرے کی کھیتی کو سیراب کرے۔“ (یعنی غیر عورت سے مباشرت کرے۔)

یہ حدیث اگرچہ ’استبراءِ رحم‘ کے پس منظر میں آئی ہے ۔ یعنی کوئی عورت کسی مرد سے حاملہ ہو تو وضعِ حمل سے قبل کسی دوسرے مرد کے لیے اس سے مباشرت جائز نہیں ، لیکن اس کا عمومی مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے کہ کسی مرد کا نطفہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں داخل کرنا جائز نہیں ہے ۔

۲۔ اسلام نے مردوں اور عورتوں ، دونوں کے لیے لازم کیا ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں :
قُل لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ….وَقُل لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ(النور : 30 _31)
”(اے نبی!) مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔۔۔ اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔“

’شرم گاہوں‘ کی حفاظت کا وسیع مفہوم ہے ۔ اس میں جہاں یہ بات شامل ہے کہ ماورائے نکاح کسی طرح کا جنسی تعلق قائم نہ کیا جائے وہیں اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جو فطرت کے اصولوں اور شریعت کے ضابطوں کے خلاف ہو ۔ رحم کی تخلیق استقرارِ حمل سے وضعِ حمل تک جنین کی پرورش کے لیے کی گئی ہے ۔ ضروری ہے کہ جنین کی تشکیل شوہر کے نطفہ اور بیوی کے بیضہ کے اتصال اور بارآوری کے نتیجہ میں ہو اور اس کی پرورش بیوی ہی کے رحم میں ہو ۔

۳۔ اسلام میں نسب کی حفاظت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اس کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی کو اپنا باپ کہے ۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی اولاد کو اپنی اولاد قرار دے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَا جَعَلَ أَدْعِیَاءَکُمْ أَبْنَاءَکُمْ ذَلِکُمْ قَوْلُکُم بِأَفْوَاہِکُمْ (الاحزاب : 4)
”اور نہ اس نے تمھارے منھ بولے بیٹوں کو تمھارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منھ سے نکال دیتے ہو ۔“
اور اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
اِنَّ مِن أعظَمِ الفِرَیٰ أن یَّدَّعِی الرَّجُلُ الیٰ غَیرِ أبِیہِ (بخاری: 3590)
”سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ۔“

رحمِ مادر کی کرایے داری سے اختلاطِ نسب کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔جائز اور قانونی اولاد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی پیدائش اس عورت کے واسطے سے ہوئی ہو جو اس کے باپ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے :
الوَلَدُ لِلفِرَاشِ (بخاری : 7182 ، مسلم :1457)
”بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر (یعنی جس کی بیوی سے)پیدا ہوا ہو ۔“

اس حدیث کی رو سے بچہ جس عورت کے بطن سے پیدا ہوگا ، قانونی طور پر اس کا اور اس کے شوہر کا کہلائے گا ۔ جس مرد کا نطفہ استعمال ہوا ہے اسے اس بچے کو اپنی طرف منسوب کرنے کی شرعی طور پر اجازت نہ ہوگی ۔

۴۔ جو عورت اپنے رحم کو کرایے پر اٹھائے گی اور اسے کسی جوڑے کے بچے کی پرورش کے لیے پیش کرے گی ، وہ چاہے شادی شدہ ہو یا بے شوہر کی (خواہ غیر شادی شدہ ہو یا مطلقہ یا بیوہ) ہر صورت میں سماج میں اس پر بدکاری ، بدکرداری اور دیگر ناپسندیدہ اور گھناؤنے الزامات لگنے کا قوی اندیشہ رہے گا ۔

۵۔ رحمِ مادر کی کرایہ داری کے جواز کی صورت میں بہت سے خوف ناک اور بھیانک سماجی ، اخلاقی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوں گے ، جن کا تصور کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ مغرب میں عملاً ان کا مشاہدہ ہو رہا ہے ۔ مختلف ممالک میں ’بچہ سپر مارکیٹس‘ وجود میں آگئی ہیں ۔ دولت مند طبقہ کی خواتین ایسی عورتوں کو تلاش کرتی ہیں جو ان کے بچوں کی پرورش کے لیے اپنے رحم کرایے پر پیش کر سکیں اور غریب طبقہ کی عورتوں کی ایسی فوج تیار ہوگئی ہے جو اپنے رحم کو کرایے پر اٹھا کر اچھا خاصا کمالیتی ہیں ۔ اس چیز نے ایک انٹرنیشنل انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے اور اس کا رخ غریب ممالک کی طرف ہو گیا ہے ، جہاں مال دار ممالک کے لوگ سفر کرکے آتے ہیں اور اپنے ممالک کے مقابلے میں کم خرچ پر بچے پیدا کرواتے ہیں ۔ اس انڈسٹری کو ’تولیدی سیاحت‘(Fertility Tourism)کا نام دیا گیا ہے _ اس معاملے میں ہندوستان کو سبقت حاصل ہے ، چنانچہ اسے Surrogacy Capital of the world کا درجہ دیا گیا ہے ۔ ان قباحتوں کی وجہ سے مغرب کے سنجیدہ اور حساس طبقے میں اس کے خلاف آواز اٹھنے لگی ہے اور استحصال سے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔

رحمِ مادر کی کرایہ داری عالمِ اسلام میں علماء و فقہاء ، دانش وروں اور مجتہدین کے درمیان انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر غور و فکر کا موضوع بنا ہے ۔ مشہور فقہاء : ڈاکٹر جاد الحق علی جاد الحق (سابق شیخ الازہر مصر) ، ڈاکٹر محمد سید طنطاوی (سابق شیخ الازہر) ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی(قطر) اور ڈاکٹر مصطفی زرقاء (شام) نے اسے حرام قرار دیا ہے ۔ (ملاحظہ کیجیے : ڈاکٹر ہند الخولی ، مقالہ : تأجیر الارحام في الفقہ الإسلامي ، مجلۃ جامعۃ دمشق للعلوم الاقتصادیۃ والقانونیۃ ، جلد 27 ، شمارہ 3 ، 2011 ، ص 282 _283)یہ موضوع رابطہ عالم اسلامی کی زیر نگرانی قائم اسلامک فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ (آٹھواں اجلاس ، منعقدہ 28/ ربیع الثانی تا 7/ جمادی الاولیٰ 1405ھ (1985ء) اور تنظیم اسلامی کانفرنس کی زیر نگرانی قائم بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ (تیسرا اجلاس ، منعقدہ عمان ، 8 تا 13 / صفر 1407 (1986) میں بھی زیرِ بحث آیا تھا اور ان میں بھی علماء نے اسے بالاتفاق حرام قرار دیاتھا ۔

رحمِ مادر کی کرایہ داری کو رضاعت کے مسئلے پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے ۔ دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے ۔ رحم میں جنین کی تخلیق اور پرورش ہوتی ہے ۔ نطفہ و بیضہ کی بارآوری ، حمل کا استقرار اور جنین کی پرورش ، تمام مراحل میں صرف اس مرد اور عورت کا اشتراک جائز ہے جو نکاح کے بندھن میں بندھے ہوئے ہوں ۔ بچے کی پیدائش کے بعد اسے دودھ پلانا ایک خارجی معاملہ ہے ۔ اس کا جواز قرآن و سنت کے نصوص سے ثابت ہے ۔ اس لیے اس پر قیاس کرکے غیر عورت کے رحم کی کرایہ داری کو جائز قرار دینا قطعاً درست نہیں ۔

اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے اس نعمت سے نوازتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس سے محروم رکھتا ہے ۔ (الشوریٰ : 49 _50 ) جس شخص کو یہ نعمت حاصل ہو اسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور جو اس سے محروم ہو اسے چاہیے کہ وہ اسے آزمائش سمجھے اور اس پر صبر کرتے ہوئے اللہ سے اجر کی امید رکھے ۔ نکاح کے بعد اگر کچھ مدت گزر جانے کے باوجود اولاد نہ ہو تو زوجین کو کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد اپنے مطلوبہ ٹیسٹ کرا لینے چاہییں ۔اگر ایسے معمولی نقائص کا پتہ چلے جن کا علاج اور تدارک ممکن ہو تو اس کی حتّیٰ الامکان کوشش کرنی چاہیے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے علاج کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج رکھا ہے ۔(ابو داؤد : 3855) اگر عورت میں کسی ایسے دائمی مرض کا علم ہو جس کی وجہ سے وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ ہو تو مرد دوسرا نکاح کر سکتا ہے اوربیوی کو تنگ دلی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بخوشی اس کی اجازت دے دینی چاہیے ۔ اور اگر کمی مرد میں ہو ، اس کے باوجود عورت بخوشی اس کے نکاح میں رہنا چاہتی ہو تو وہ اپنے رشتے کے کسی بچے کو گود لے کر اس کی پرورش کرسکتی ہے ۔ اس صورت میں اس بچے کی نسبت تو اس کے حقیقی باپ کی طرف ہوگی ، البتہ یہ جوڑا اس کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت کا اجر پائے گا ۔ واللہ اعلم بالصواب

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading