Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

29 June, 2020 13:36

IMG_20190630_195052.JPG

سفرنامہ
گورکھپور تا خاکِ دربھنگہ
⁦✍️⁩ قسیم اظہر

رابطہ نمبر: 9693632457
سفر ایک مشکل ترین گھاٹی ہے،
ایک ایسی گھاٹی، جہاں مسافر کانٹوں بھری وادی کو طے کرتا، خار دار جھاڑیوں سے اپنے دامن سمیٹے خود کو صحیح سالم گزارنے کا خواہاں ہوتاہے،

ایک ایسا راستہ، جہاں اپنوں کے ساتھ بیتے لمحات کی یادیں دل پر زور آور حملہ کر رہی ہوتی ہیں،

ایک ایسی راہ، جہاں مصائب و آلام کے پرندے سر پر منڈلا رہے ہوتےہیں،

ایک ایسی جہان، جہاں یادوں کے بادل جذبات کی بارش کر رہے ہوتے ہیں،

ایک ایسی منزل، جہاں کبھی شاہراہ ہوتے ہیں تو کبھی اونچے اونچے، بلند وبالا،پہاڑ،

ایک ایسا بے آب و گیاہ جزیرہ، جہاں کبھی خونخوار جانوروں کی بھیانک آواز ہو تی ہے، تو کبھی

غیر آباد ویران علاقے کی وحشت،

ایک ایسی دنیا، جہاں کبھی آنکھیں، تاریخی عمارت، آثار قدیمہ اور پرانی یادوں کو مشاہدات کے ترازو میں تولی جاتی ہیں۔

گورکھپور

یہ شہر ہندوستانی ایجادات واکتشافات کی دلفریبیوں کامرکز اور "اردو ادب" کا گہوارہ رہا ہے، علمی و ادبی اعتبار سے اس علاقے کی مٹی بڑی زرخیز ہے، اسی لئے تو یہ شہر، مہدی افادی، مجنوں گورکھپوری، فراق گورکھپوری، ریاض خیرآبادی،ساقی فاروقی ، گورکھپرشادعبرت ،پریم چند، فطرت واسطی،اصغر گونڈوی، احمدگورکھپوری، عمر قریشی اور شبنم گورکھپوری کےنام سے پہچاناجاتا ہے۔
شہر گورکھپور کی رنگینیوں اور رعنائیوں سے دور گھنےجنگلات میں ایک دینی ادارے کا قیام، جو امت مسلمہ کے مرض کہن کی چارہ سازی،اور رہنمائی میں "اصحاب صفہ"کے اوصاف کی نقش پردازی کرتا، اپنی ترقی کے عروج کو چھو رہا ہے________________

میں بھی اپنی زندگی سے نبرد آزما ہونے اور زندگانی کو حقیقی معرفت عطا کرنے کے لیے اس نسخۂ کیمیا کا متلاشی وسرگرداں تھاجس کی بشارت چودہ سو سال قبل ہی اصحاب محمد کے سینے میں پیوست ہو گئے تھے۔

٢٠/ مئی ٢٠٢٠ء

صبح کا وقت سہانا، نسیم سحر کی دھیرے دھیرے ، سائیں سائیں، کی سرسراہٹ بے جان پتوں میں روح پھونک رہی تھی____ قدرتی روشن چراغ کی کرنیں، پوری کائنات کو منور کر رہی تھی______درختوں کے پتوں کی زردی پر شبنم کے قطروں کی خوبصورتی ، منظر کو نکھار رہی تھی______ ضلع مہراجگنج سے نظر آنے والی ہمالیہ کی چوٹی ، قدرت کے نظاروں کو مزید دلکش بنا رہی تھی۔

ہمالیہ
یاد رہے کہ "ہمالے" سنسکرتی لفظ ہے جس کے معنی "برف کا گھر " کے آتے ہیں۔
ہمالیہ اپنے ذیلی سلسلوں کے ساتھ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسہ ہے جس میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں بشمول ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو موجود ہیں۔ 8,0000 میٹر سے بلند دنیا کی تمام چوٹیاں اسی پہاڑی سلسلے میں واقع ہیں۔ اس سلسلے کی بلندی کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا کافی ہے کہ اس میں 7,200 میٹر سے بلند 100 سے زیادہ چوٹیاں ہیں جبکہ اس سے باہر دنیا کی بلد ترین چوٹی کوہ اینڈیز میں واقع اکونکاگوا ہے جس کی بلندی صرف 6,962 میٹر ہے۔
"دنیا کے بہت سے بڑے دریا جیسے سندھ، گنگا، برہم پتر، یانگزی، میکانگ، جیحوں، سیر دریا اور دریائے زرد ہمالیہ کی برف بوش بلندیوں سے نکلتے ہیں۔ ان دریاؤں کی وادیوں میں واقع ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، پاکستان، چین، نیپال، برما، کمبوڈیا، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، قازقستان، کرغیزستان، تھائی لینڈ، لاؤس، ویتنام اور ملائیشیا میں دنیا کی تقریباً آدھی آبادی، یعنی 3 ارب لوگ، بستے ہیں۔"

"ہمالیہ کا جنوبی ایشیا کی تہذیب پر بھی گہرا اثر ہے؛ اس کی اکثر چوٹیاں ہندو مت، بدھ مت اور سکھ مت میں مقدس مانی جاتی ہیں۔ ہمالیہ کا بنیادی پہاڑی سلسلہ مغرب میں دریائے سندھ کی وادی سے لیکر مشرق میں دریائے برہمپترا کی وادی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ برصغیر کے شمال میں 2,400 کلومیٹر لمبی ایک مہراب یا کمان کی سی شکل بناتا ہے جو مغربی کشمیر کے حصے میں 400 کلومیٹر اور مشرقی اروناچل پردیش کے خطے میں 150 کلومیٹر چوڑی ہے۔ یہ سلسلہ تہ در تہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جن کی اونچائی جنوب سے شمال کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔ تبت سے قریب واقع انتہائی شمالی سلسلے کو، جس کی اونچائی سب سے زیادہ ہے، عظیم ہمالیہ یا اندرونی ہمالیہ کہا جاتا ہے.

ہر ایک مسکراتا، ہنستا، خوشی سے اچھلتا، کودتانظر آرہا تھا؛ اور کیوں نہیں؟

ہمیں تو صرف اور صرف اپنے وطن پہنچنا مقصود تھا،گھر کی روانگی ہمارے زخموں سے بھرے سینے کی مرہم پٹی کررہی تھی__ ملک کےناگفتہ بہ حالات،

مزدوروں کی بے بسی___

ملک بھر میں مسلمانوں کی رسوائی_____

لوگوں کی ہلاکت میں روز بروز اضافہ اور انسانیت کی خونریزی______

ان سب چیزوں سے ہمارا دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، آخر نوجوان تھے؟
اور چچا غالب کی تائید کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل تھا۔
رنج سےخوگر ہوانساں، تو مٹ جاتا ہے غم
مشکلیں مجھ پہ پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

آخرکار!
ہم بس پہ سوار ہو گئے، بس کے تمام پہیے تیزی سے گھوم رہے تھے ______ اس کے سیٹی کی آواز خاموش فضاؤں ، نظر آرہی سنسان سڑکوں ، بند دکانوں ، سناٹے میں خاموش اور گم سم کھڑی فلک بوس عمارتوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلارہی تھی۔
قبل اسکے کہ بس کشی نگر پہنچ پاتی سورج کو بادلوں نے اپنےدامن میں چھپا لیا تھا______ آسمان اپنے تقاطر امطار سے زمین کو سیراب کر رہاتھا__ ہوائیں درختوں کی ڈالیوں کو جھو منے پر مجبور کر رہی تھیں___ سڑکیں دور دور تک سنسان پڑی تھیں____ گویا کہ ہم ایسے جزیرے میں آگئے ہوں جہاں نہ کوئی بندہ تھا نہ بندہ نواز ، کہ یکایک ایک بائیک پر بیٹھا شخص، چہرہ روشن اور نور سے منور، ٹوپی گول جسکے ارد گردنیچے سے پھولوں کے نقش ونگار، پیشانی پر سجدے کا نشان______ دیکھتے ہی دل انگڑائیاں لینے لگی، آنکھیں پرنم اور اشکبار ہو گئی، حضرت استاذ_____کی یادیں ستانے لگی، کبھی ہائیوے پر لگے اشتہارات کو دیکھتا تو کبھی اپنے شیخ سے ملتی جلتی شکل کو جو میری طرف ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہاتھا اور مسکرائے جارہاتھا۔

پھر کیا ہوا؟

وہ انکے ساتھ بیتےسارے لمحے___ ان کا مجھ حقیر پر طنز کرنا____میری کامیابی کے لئے ان کا ہمیشہ کوشاں رہنا_____ میری مسکراہٹ پر مسکرانا____شرارت پر ڈانٹ ڈپٹ کے نشتر چبھوتے کف افسوس ملنا_____اشکالات واعتراضات کا کھل کر جواب دینا_____انزلوا الناس علی منازلھم کے مطابق ہرایک سے گفتگو کرنا_______اور انکا پند و نصائح سے ہر ایک کو فیضیاب کرنے نے اپنے دربار کا قیدی بنا لیا تھا ۔
دل کی نگاہ اس بائیک سوار شخص پر بارہا پڑتی ،جزبات کی آرزوئیں مچلنے لگتی____کیوں جدا ہو نے سے پہلے گلے نہیں لگا؟

ان کے پیر کیوں نہیں پڑا ؟

ان سے بچے کی طرح رو رو کر معافی کیوں نہیں مانگا؟
پھر عقل نے دل کو سنبھالتےکہا۔

"پیارے!
یہ دنیا جزبات اور آرزوؤں کے سہارے نہیں چلتی_____ اچھا کیا تو نے پیارے___ ورنہ لوگوں کی تضحیک کی آماجگاہ بن گئے ہوتے______

کسی سے جدا ہونا اگر اتنا آسان ہوتا فراز
تو جسم سے روح کو لینے فرشتے نہیں آتے

دربھنگہ
یہ وہی شہر ہے جہاں حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ منور علی دربھنگویؒ نے اپنے پیر و مرشد کے ایما پر مدرسہ امدادیہ دربھنگہ قائم کیا، جو بعد میں بہار کا دارالعلوم ثابت ہواتھا،
اس ادارے نے بہار کو اس وقت دینی تعلیم اور احیائے اسلام کا گہوارہ بنا دیاتھا۔
اس ادارے میں مناظرِ اسلام مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری اور حضرت علامہ ابراہیم بلیاویؒ سابق محدث دارالعلوم دیوبند بھی تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں، اس مدرسے کے فیض یافتگان میں علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مناظر احسن گیلانی، قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمہم اللہ سمیت لاتعداد اربابِ علم و فن ہیں۔

٢٢/مئی/٢٠٢٠ء

رات تاریک تھی اور آسماں میں سیاہ بادلوں کے مرغولے اب بھی چکرارہے تھے، گاڑی اندھیرے کو چیرتی ہوئی چکنی سڑک پر پھسلتی ٤/ بجے صبح "دربھنگہ" پہنچ چکی تھی، نیند کی خمار میں ڈوبی آنکھیں، ویرانیوں کا معائنہ کر رہی تھی؛ قفل بندی کے آثار چہار سو پھیلی ہوئی تھیں، بڑی تگ ودو کے بعد ایک رکشہ ملا، مخصوص کرایے سے چار گنا زیادہ نقد دینے کی شرط پروہ راضی ہوگیا، میں نے اسے قدرت کی رحم دلی، لطف خاص اور موقعے کو غنیمت جانا، اور اپنے منزل مقصود سے جاملا۔
اس سفر میں مجھے کافی جدوجہد اور آبلہ پائی کا سامنا کرناپڑا، مگر بقول شیخ سعدی "وہ خوشیوں کے بہاریں اچھی ہوتی ہیں جن کا موسم غم کے بعد آتاہے"
مجھے بھی یہ جملہ، میری تکلیف، میری تھکن، میری مصیبت اور میری دل آزاری کے رفو چکر کرنے کے لئے ناکافی نہیں تھا۔
آج بھی وہ گھڑیاں یادآتی ہیں تو دل سے بے اختیار دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ دوبارہ مجھے ایسے حادثے کاشکار نہ بنائے۔

اللہم اذھب عنی الھم والحزن