گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب

بیٹی کسی غریب کی فاقہ سے مر گئی

قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں

ایک محاورہ بولا جاتا ہے کہ کوئی کھا کھا کے مر جاتا ہے، اور کوئی بنا کھائے ہی دم توڑ دیتا ہے، مطلب اس محاورہ کا یہ ہے کہ کسی کے پاس اشیائے خورد و نوش کی اس قدر بہتات ہے کہ وہ کھائے ہی چلا جاتا ہے، یہانتک کہ اتنا کھا لیتا ہے جسکا بوجھ ہاضمہ نہیں اٹھا پاتا، چنانچہ بد ہضمی ہو جاتی ہے، اور وہ جان جان آفریں کے سپرد کر دیتا ہے، جبکہ کوئی نان شبینہ کا محتاج ہوتا ہے، مسلسل کھانا نہ کھانے کی وجہ سے بھوک اس قدر شدت اختیار کر لیتی ہے کہ وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر راہئ ملک عدم ہو جاتا ہے، یہی حال آج ہمارے معاشرہ کا ہے، جن لوگوں کے پاس مال و زر کی فراوانی ہے، انہیں مال خرچ کرنے کا بہانہ چاہئے، معمولی سے معمولی تقریب ہو پیسہ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں، اگر شادی بیاہ کا موقع ہو تو پہر پوچھنا ہی کیا ہے، جھوٹی شان و شوکت کے اظہار کیلئے بے دریغ خرچ کرتے ہیں، جبکہ ایک غریب و نادار انسان اولاد کی شادی رچانے کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتا ہے، ادھر اولاد شادی کی عمر کو پہنچتی ہے، ادھر والدین کی آنکھوں سے نیند رخصت ہو جاتی ہے، خاص طور سے وہ غریب والدین جنکی بیٹی جوان ہو، شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہو، انہیں کسی کل قرار نہیں آتا، مارے مارے پھرتے ہیں کہ کیا ایسا کریں کہ شادی کا خرچ ہاتھ لگ جائے، جہیز کا انتظام ہو جائے، اور بیٹی کو دلہن بنا کر گھر سے رخصت کرنے کے پر مسرت و دلنواز منظر سے آنکھیں ٹھنڈی کریں،

شادی کے موقع پر کی جانے والی فضول خرچیوں کے التزام نے شادی کو اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ غریبوں کی بچیاں گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں، اور شادی کی عمر آ کر کب کی چلی بھی جاتی ہے، لیکن مناسب رشتہ نہیں مل پاتا، حالانکہ مذہب اسلام نے نکاح کی اہمیت کے پیش نظر اس کو اتنا آسان اور سہل بنا کر پیش کیا ہے کہ اگر اس آسان طریقے کا خیال رکھا جاتا تو نکاح اتنا آسان ہوتا کہ امیر غریب کسی کو بھی اس سنت کی ادائیگی میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی، حدیث پاک میں فرمایا گیا

*ان اعظم النکاح برکۃ ایسرہ مؤنۃ* *بیشک سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ آئے* اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود گیارہ نکاح کئے، پہر اپنی بیٹیوں کی شادی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ اور صحابیات کے نکاح ہوئے، لیکن اتنی سادگی سے ہوئے کہ نہ جہیز کا مطالبہ کیا گیا، نہ بارات لے جائی گئی، اور نہ ہی بلا ضرورت کی بھیڑ جمع کی گئی، بہت سے صحابۂ کرام نے تو نکاح بھی کر لیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں اطلاع ہوئی، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دین اسلام نے نکاح کو کتنا آسان بنایا ہے، اور اسلئے آسان بنایا ہے کہ نکاح انسان کی فطری ضرورت ہے، مرد کو بالغ ہونے کے بعد عورت کی، اور عورت کو بالغ ہونے کے بعد مرد کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے، نکاح اس ضرورت کی تکمیل کا شرعی طریقہ ہے، اب ظاہر ہے کہ نکاح جس قدر آسان ہوگا اسی قدر سہولت سے رشتے ملینگے، اور آسانی سے نکاح کی سنت پر عمل ہوتا رہیگا، اور انسان کے فطری تقاضے کی تکمیل اللہ کی مرضی کے مطابق ہوتی رہیگی، اسلام دین فطرت ہے، اس کے نظام کو خود خالق کائنات نے ترتیب دیا ہے، جو انسان سے اسکی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، اسی لئے نکاح کو آسان بنایا ہے، لیکن موجودہ زمانے کی خود ساختہ رسومات نے نکاح کو ایک مشکل ترین مسئلہ بنا دیا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زنا عام ہو گیا ہے، بے حیائی کا دور دورہ ہے،

مذہب اسلام میں نکاح کیلئے جو اقدامات کرنے پڑتے ہیں وہ بس اتنے ہیں کہ کوئی مناسب رشتہ تلاش کیا جائے، اور اگر بیک وقت کئی رشتے ہوں تو دینداری کی بنیاد پر کسی رشتے کو ترجیح دی جائے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ *عورت سے نکاح چار وجہوں سے کیا جاتا ہے، یا تو اس وجہ سے کہ عورت بہت مال دار ہے، یا پہر اس وجہ سے کہ اس کا خاندان بہت اونچا ہے، یا اس وجہ سے کہ عورت بہت خوبصورت اور پری چہرہ ہے، یا پہر اس وجہ سے کہ عورت بہت دیندار ہے، پہر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدائے پاک تم پر رحم فرمائے تم دیندار عورت کو ترجیح دیا کیا کرو* یعنی اگر ایک لڑکی ایسی ہے جس سے شادی کرنے پر بہت سارا مال و زر ملنے کی توقع ہے، اور ایک ایسی ہے جو خاندانی شرافت میں ممتاز ہے، اور ایک نہایت حسین و جمیل ہے، اور ایک لڑکی ایسی بھی ہے جو دیندار ہے، تو تم دیندار لڑکی کے رشتے کو ترجیح دو، اور اسی سے نکاح کرو، بہرحال مناسب رشتہ مل جانے کے بعد ایک مہر طے کرکے (جسکی مقدار اتنی ہو جو شوہر سہولت سے ادا کر سکے، البتہ دس درہم یعنی تقریبا ۳۱ گرام چاندی سے کم نہ ہو) دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا جائے، اور دلہن کو رخصت کرا کر اپنے گھر لایا جائے، حسب گنجائش لڑکی والوں سے جو کچھ سامان سہولت سے بن پڑے، وہ اس سامان کو لڑکی کے ساتھ بھیج دیں، (یاد رہے کہ یہ سامان دینا لڑکی والوں پر ضروری نہیں) اور پھر اگلے دن حسب گنجائش ولیمہ کی سنت ادا کر لی جائے، جس میں دوست و احباب اور رشتہ داروں کو مدعو کر لیا جائے، بس اتنا ہی ایک نکاح کیلئے ضروری ہے،

لیکن آپ جانتے ہیں کہ آجکل نکاح کیلئے بس اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سی غیر ضروری رسمیں ہیں جن پر بڑی سختی سے عمل کیا جاتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے یہ رسمیں نکاح کا حصہ ہیں، اگر ان کی پاسداری نہیں کی گئی تو نکاح ادھورا رہ جائیگا، سچ کہا ہے،

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایات میں کھو گئی

موجودہ زمانے میں جب شادیاں طے ہوتی ہیں تو اس کی فکر بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے کہ شادی شریعت اور سنت کے موافق کرنا ہے، زیادہ تر لوگوں کو یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ دنیا کی رسم کیا ہے؟ وہ رواج کیا ہے جسے شادی کے موقع پر برتنا چاہئے؟ چنانچہ اگر کوئی شادی طے ہو رہی ہو اور آپ اس موقع پر موجود ہوں تو آپ دیکھینگے کہ سب سے پہلے یہ بات ہوتی ہے کہ جہیز کتنا دینگے؟ اگر لڑکی والے مالدار ہوئے، اور انہونے خاطر خواہ رقم اورمطالبہ کے موافق سامان دینا منظور کر لیا تو بات آگے بڑھتی ہے، ورنہ وہیں ختم ہو جاتی ہے، لڑکی دیندار ہے یا نہیں؟ نماز روزہ کی پابند ہے یا نہیں؟ اس کی فکر کرنے والے بھی ہیں، لیکن ان کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہے، پہر جب جہیز کا مسئلہ طے پا جاتا ہے، تو دوسرا مسئلہ یہ زیر بحث آتا ہے کہ باراتی کتنے ہونگے؟ اور ان کی ضیافت کا معیا ر کیا ہوگا؟ لڑکے والوں کی طرف سے یہ کوشش رہتی ہے کہ باراتی زیادہ ہوں، وہ نادان یہ سمجھتے ہیں، اور مادہ پرست دنیا نے انہیں یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ باراتی جتنے زیادہ ہونگے اسی قدر شان و شوکت کا اظہار ہوگا، اور انکی جتنی بہتر سے بہتر تواضع کی جائیگی اتنا ہی ہماری عزت و شرافت میں اضافہ ہوگا،

عجیب الٹی کھوپڑی ہے عزت و شرافت اپنی بڑھانی ہے، شان و شوکت کا اظہار خود کرنا ہے، اور خرچ جو کچھ بھی آئیگا اس کا بوجھ خود نہیں اٹھائینگے، اس کا بوجھ کوئی اور اٹھائے، *بریں عقل و دانش بباید گریست* *ایسی عقل اور سمجھ پر رونا آتا ہے* پہر شادی کے موقع پر بے دریغ خرچ کی جانے والی رقم کے بارے میں آپ سنتے ہونگے تو رونا آتا ہوگا کہ اتنی بڑی رقم صرف اور صرف دکھاوے کیلئے ضائع کر دی گئی، جبکہ انہیں لوگوں سے اگر آپ دین کے نام پر چندہ کا مطالبہ کر دیں تو فورا ماتھے پر بل پڑ جائیگا، عجیب بے تکے پن سے پیش آئینگے، اور ایسی ایسی مجبوریاں بیان کرینگے کہ سر چکرا جائیگا، پہر یا تو دینگے ہی نہیں، اور دینگے بھی تو بس اتنی معمولی رقم جس سے ان پر نہ دینے کا الزام نہ آئے،

حالانکہ اگر شادی بیاہ کے موقع پر ان فضول خرچیوں سے بچا جاتا، اور جو رقم ان فضول خرچیوں میں ضائع کی جاتی ہے اسے قوم کی فلاح و بہبود کیلئے صرف کیا جاتا، تو قوم کی ناقابل فراموش خدمت بھی ہو جاتی، اور غریب امیر سب کیلئے نکاح کی سنت پر عمل کرنا آسان ہو جاتا، اور کسی کو بھی اس سنت کی ادائیگی میں کوئی دشواری پیش نہ آتی، اسی لئے بہت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خود بھی نکاح سادگی کے ساتھ کیا جائے، نہ جہیز کا مطالبہ ہو، نہ بارات کی غیر ضروری اور مخالف شریعت رسم، اور دوسروں کے دلوں میں بھی ان چیزوں کی قباحت بٹھائی جائے، اگر سنجیدگی کے ساتھ یہ کیا گیا تو ان شاء اللہ ایک بہت ہی دلکش معاشرہ وجود میں آ جائیگا، جہاں سبکی ضرورتیں پوری ہونگی، سب کے ارمان نکلینگے، اور کسی کا خواب چکنا چور نہیں ہوگا، زنا ختم ہو جائیگا، اور بے حیائی اپنی موت آپ مر جائیگی،

یاد رکھئے مشکل کوئی کام نہیں ہے، ضرورت ہے عزم و حو صلے کی، اگر کسی چیز کی ٹھان لی جائے، اور مقصد بھی نیک ہو تو خدا کی مدد ساتھ ہوتی ہے، اور بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی حیرت انگیز طریقے سے انجام پا جاتا ہے،

گر حوصلے بلند ہوں کامل ہو شوق بھی

وہ کام کونسا ہے جو انساں نہ کر سکے

یہ بزدلوں اور پست ہمت لوگوں کا طریقہ ہے کہ وہ کسی کام کو کرنے سے پہلے ہی اسے دشوار سمجھکر چھوڑ دیتے ہیں، ایسے لوگوں کی کشتیاں منجدھار ہی میں پہنسی ہچکولے کھاتی رہتی ہیں، ساحل مراد تک پہنچنا ان کے نصیب میں نہیں ہوتا،

اسے کیا ملیگی منزل جو مڑ مڑ کے دیکھتا ہے

اور قدم قدم پر یہ پوچھے ابھی کتنا فاصلہ ہے

آج شراب نوشی، اورقمار بازی، سود خوری اور دوسری بہت سی برائیوں پر کام ہو رہا ہے تو اس کا نتیجہ سامنے ہے کہ ان گناہوں میں ابتلائے عام نہیں ہے، بہت کم ایسے حرماں نصیب ملینگے جو ان گناہوں میں مبتلا ہوں، پہر کیا بعید ہے کہ شادی بیاہ شریعت کے مطابق ہو اس کیلئے محنت اور کوشش کی جائے تو نتیجہ بر آمد نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ آج اس تعلق سے محنت کی کمی ہے، اسی لئے اس مرض میں ابتلائے عام ہے، اللہ تبارک و تعالی ہمیں توفیق دے، آمین