ملبورن۔(ایجنسیز )7۔جون ۔نئی رپورٹ کے مطابق انسانی تہذیب ممکنہ طور پر اپنی آخری دہائیوں میں داخل ہو چکی ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک یہ دنیا سے مٹ جائے گی۔مستقبل میں دنیا پر انسانی تہذیب کے حوالے سے شائع یہ رپورٹ خوف ناک حد تک پریشان کن ہے، جس کے مطابق ماحولیاتی بحران کے بڑھتے اثرات اور اس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر بے حسی اس سیارے کو ایک ایسے تاریک مستقبل کی طرف دکھیل رہے ہیں جس میں دنیا بھر میں انسانی تہذیب ناپید ہو جائے گی۔
آسٹریلوی شہر میلبرن میں قائم تھنک ٹینک ’دی بریک تھرو نیشنل سینٹر فار کلائمیٹ ریسٹوریشن‘ کی اس رپورٹ کو آسٹریلین ڈیفنس فورسز کے سابق سربراہ اور رائل آسٹریلین نیوی کے ریٹائرڈ ایڈمرل کرِس بیری نے پیش کیا ہے۔بیری رپورٹ کے تعارف میں کہتے ہیں کہ اس کے مصنفوں نے ’ہمارے سیارے اور انسانوں کی مایوس کن حالت کی حقیقت کو برہنہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس امکان کا ایک پریشان کن تصور فراہم کیا ہے کہ زمین پر انسانی زندگی ایک بدترین طریقے سے خاتمے کے راستے پر ہے۔‘رپورٹ کے مطابق ’ماحولیاتی تبدیلی اب انسانی تہذیب اور وجود کے لیے ایک عنقریب خطرہ بن گئی ہے۔‘مصنفوں ک مطابق حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس مسٔلے کو بد ترین سطح تک پہنچنے سے پہلے سنجیدگی سے لیتے ہوئے سائنس دانوں کے جاری کردہ مستقبل کی کلائمیٹ پروجیکشنز یا تصورات پر سنجیدگی سے غور کریں۔
اس میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ اگلی تیںن دہائیوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے خوفناک اثرات، جیسے دنیا میں بڑھتا خوراک اور پانی کا بحران، موجودہ سماجی اور سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھانے کا کام کرے گا جس کا نتیجہ تنازعات اور خونی جنگوں کی صورت میں ظاہر ہوگا۔