100 سال میں بدترین صورتحال کا خدشہ، بھارت میں ہاہاکار کا اندیشہ؛ موسمیاتی ماہرین کی تشویشناک پیش گوئی

ال نینو کے حوالے سے جاری کیے گئے انتباہ نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ال نینو شدید اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اور بڑا خطرہ بھارت کو لاحق ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کے محکمۂ موسمیات کی جانب سے بھی اس حوالے سے انتباہ جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کے مطابق 2027 میں ال نینو کے باعث 2024 جیسی شدید گرمی کی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے، بلکہ بعض حالات میں اس سے بھی زیادہ شدت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ال نینو کا براہِ راست اثر مون سون کی بارشوں پر پڑنے کا خدشہ ہے، جس سے بھارت میں زراعت اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ درجۂ حرارت میں معمول سے تقریباً 3 ڈگری سیلسیس تک اضافہ ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بحرالکاہل میں سمندری درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث ال نینو کی صورتحال مضبوط ہو سکتی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو دنیا کے مختلف حصوں میں موسم کے معمولات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ال نینو کا اثر تقریباً 9 ماہ سے ایک سال تک برقرار رہ سکتا ہے۔

2024 میں بھارت سمیت دنیا کے کئی حصوں میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2027 میں اس سے بھی زیادہ شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شدید گرمی کے ساتھ ساتھ کم بارش، خشک سالی اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

ال نینو کا اثر مون سون پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ بھارت میں عام طور پر سالانہ بارش کا تقریباً 90 فیصد حصہ مون سون کے دوران حاصل ہوتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں بارش کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ رواں سال جون میں توقع کے مطابق بارش نہیں ہوئی، جبکہ جولائی میں اچھی بارش ریکارڈ کی گئی۔ اگست میں بھی کئی علاقوں میں بارش تسلی بخش نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ال نینو کے باعث مون سون کمزور ہوا اور درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو اس کا براہِ راست اثر بھارت کی زراعت پر پڑ سکتا ہے۔ فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کی صورت میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تاہم 2027 کے موسم اور ال نینو کی شدت کے بارے میں حتمی صورتحال آنے والے مہینوں میں زیادہ واضح ہوگی۔ موجودہ پیش گوئیوں کو موسمیاتی ماڈلز کی بنیاد پر ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ یقینی صورتحال کے طور پر۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading