تکرام منڈے کا براہِ راست راجستھان تبادلہ؟ سوشل میڈیا پوسٹ سے ہلچل، جانئے اصل حقیقت

ممبئی:(ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے ریاست بھر میں جاری چھاپہ مہم کے باعث ملاوٹ کرنے والوں اور غذائی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباری اداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ پنیر، آئس کریم سمیت مختلف غذائی اشیا تیار کرنے والی فیکٹریوں پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں، جس کے باعث ہوٹل اور ریسٹورنٹ کاروباریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔FDA کی ٹیموں نے مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیا کے معیار، صفائی اور حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔

ڈومینوز، بلنک اِٹ اور انسٹا مارٹ سمیت مختلف کمپنیوں کے اسٹورز کی بھی جانچ کی گئی۔ قواعد کی خلاف ورزی پائے جانے پر ریاست میں بعض دکانوں اور دیگر غذائی اداروں کے لائسنس معطل کرنے کی کارروائی بھی کی گئی ہے۔FDA کی ان کارروائیوں کے باعث IAS افسر اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر تکرام منڈھے ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر تکرام منڈھے کے 26ویں تبادلے سے متعلق ایک پوسٹ تیزی سے وائرل ہونے لگی۔

وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ تکرام منڈھے کا مہاراشٹر سے راجستھان کے سیکر ضلع میں تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ اس دعوے کے بعد انتظامی اور سیاسی حلقوں میں بھی مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔تاہم اب خود تکرام منڈھے نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ اطلاع غلط ہے۔ یعنی تکرام منڈھے کے راجستھان کے سیکر میں تبادلے کی خبر درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ FDA کی جانب سے ریاست بھر میں ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری غذائی اشیا کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ حکام کی جانب سے فوڈ مینوفیکچرنگ یونٹس، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر غذائی اداروں میں صفائی، معیار اور حفاظتی اصولوں کی پابندی کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تکرام منڈھے کے مبینہ تبادلے سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ نے اگرچہ کچھ وقت کے لیے زبردست ہلچل پیدا کردی، لیکن خود منڈھے کی وضاحت کے بعد اس دعوے کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading