چنئی: تمل ناڈو کی وجے حکومت نے نومولود بچوں کے لیے ایک منفرد فلاحی اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے ہر اہل نومولود بچے کو ایک گرام سونے کی انگوٹھی تحفے میں دی جائے گی۔ اس اسکیم کا نام ’تھائی مامن تھنگا موتھیرم‘ رکھا گیا ہے۔
حکومت نے اس اسکیم کے لیے بڑی تعداد میں سونے کی انگوٹھیوں کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں 1,28,499 سونے کی انگوٹھیوں کا آرڈر دیا گیا ہے۔ ان انگوٹھیوں کی سپلائی کے لیے معروف جیولری کمپنیوں کو ذمہ داری دی گئی ہے، جن میں جوی آلُکّاس اور کلیان جیولرز شامل ہیں۔
15 ستمبر سے آغاز
اس اسکیم کا باقاعدہ آغاز 15 ستمبر 2026 کو کیا جائے گا۔ یہ تاریخ تمل ناڈو کے سابق وزیراعلیٰ اور ریاست کے اہم سیاسی رہنما سی این انادورائی کی یوم پیدائش کے موقع پر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، اسکیم کا فائدہ 22 جون 2026 سے سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے اہل بچوں کو بھی دیا جائے گا۔
سالانہ 755 کروڑ روپے سے زیادہ کا بجٹ
اس اسکیم کے لیے ریاستی حکومت نے سالانہ تقریباً 755.83 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ منصوبے کے تحت ہر سال تقریباً 4 لاکھ 41 ہزار 667 نومولود بچوں کو ایک گرام سونے کی انگوٹھی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
صرف سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچے اہل
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کا مقصد سرکاری اسپتالوں میں زچگی کی حوصلہ افزائی کرنا، سرکاری صحت خدمات پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنا اور ماں اور بچے کی صحت کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت بنیادی شرط یہ ہے کہ بچے کی پیدائش سرکاری اسپتال میں ہوئی ہو۔
تمل ثقافت سے جڑی ہے اسکیم
یہ اسکیم تمل ثقافت کی ’تھائی مامن سیر‘ روایت سے متاثر ہے، جس میں نومولود بچے کی پیدائش پر ماموں کی جانب سے سونے سمیت مختلف تحائف دیے جاتے ہیں۔ حکومت نے اسی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو بچے کے ’تھائی مامن‘ یعنی ماموں کے کردار میں پیش کرتے ہوئے سونے کی انگوٹھی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد تمل ناڈو کی یہ اسکیم ملک بھر میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔