بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ترکی نے اسرائیل کے وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ ترکی کے وزیرِ انصاف اکین گرلیک نے اس اقدام کا اعلان کیا ہے۔
ترکی کا کہنا ہے کہ غزہ جانے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کے قافلے کو اسرائیلی فوج نے روک دیا تھا، جس کے بعد ترکی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
کیا ہے معاملہ؟
ترکی نے اس معاملے میں انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ ترکی کی جانب سے غزہ پٹی کے لیے امداد بھیجی جا رہی تھی۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے ان بحری جہازوں کو روک دیا جو بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ترکی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی کارکنوں کو حراست میں لیا۔ اس معاملے میں ترکی کے سرکاری وکلا نے فوجداری کارروائی بھی شروع کی تھی۔
ترکی کے الزامات کیا ہیں؟
موصولہ مزید اطلاعات کے مطابق، استنبول کے سرکاری وکلا کے دفتر نے نیتن یاہو اور کارروائی کی منظوری دینے والے دیگر حکام کے خلاف نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، آزادی سے محروم کرنے اور جسمانی نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
ترکی اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج پر بین الاقوامی پانیوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور لوگوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کے الزامات عائد کر چکا ہے۔ موجودہ کارروائی کو اسی سلسلے میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی وضاحت
دوسری جانب اسرائیل نے ترکی کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی اور کی جانے والی کارروائی قانونی ہے۔ نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ کے اعلان کے بعد اسرائیل اور ترکی کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔