مرتب: خُورشِید عالَم بھوپالِی
﷽
● تمہید :::
ایک اصولی بات سمجھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ امم سابقہ یعنی گزشتہ قوموں کی تاریخ کے دو طرح کے مآخذ ہیں :: ایک، قرآن وسنت۔ دوسرے یہود ونصاری یا دیگر ذرائع سے منقول تاریخ۔ قرآن کریم اور صحیح احادیث میں جو تفصیلات آئی ہیں ان پر یقین تو ضروری ہے؛ کیونکہ تواتر اور صحیح سند کی وجہ سے وہ معتبر قرار پاتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ بہت سی تفصیلات جن کا سراغ ہمیں یہود ونصاری کے محرف علوم یا تاریخ کی کتابوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتا اور وہ قرآن وسنت کے صریح خلاف بھی نہیں۔ ظاہر ہے لانصدق ولانکذب، ان کی نہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں، نہ ہی تردید! ہم نے حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے واقعات کو مرتب کرتے ہوئے دونوں ہی قسم کے مآخذ سے مدد لی ہے، لیکن کوشش رہے گی کہ جو بات جس ماخذ سے لی جائے، اس کا حوالہ ضرور دیا جائے۔
● پیدائش ِآدم علیہ السلام :::
ہزاروں سال پہلے کی بات ہے۔ دنیا میں جنات کی حکومت تھی۔ یہاں خون ریزی تھی، دنگا فساد تھا، نافرمانی اور کفر و شرک کا غلغلہ تھا۔ نیکی بہت کم تھی، بدی بہت زیادہ تھی۔ خالقِ کائنات نے جنات سے دنیا کی حکومت لے کر ایک دوسری مخلوق کو دینا چاہی؛ تاکہ جنات کا غرور خاک میں ملے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اطلاع دی کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں جو اختیار و ارادے کا مالک ہوگا اور میری زمین پر جس قسم کا تصرف کرنا چاہے گا کرسکے گا اور اپنی ضروریات کے لیے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکے گا گویا وہ میری قدرت اور میرے تصرف واختیار کا مظہر ہوگا۔ فرشتوں نے جب یہ سنا تو حیرت میں رہ گئے اور اللہ کے حضور بطور سوال عرض کیا: اے خدائے بے نیاز! کیا آپ ایسے کو پیدا کرنا چاہتے ہیں جو زمین کو فساد اور خونریزی سے بھر دے گا۔ یعنی فرشتوں نے اس نئی مخلوق کو جنات پر قیاس کیا اور وہ یہ سمجھے کہ نئی مخلوق بھی جنات کی طرح بے حد سرکش اور نافرمان ہوگی۔ وہ بولے کہ ہم جماعتِ ملائکہ آپ کی تسبیح وتہلیل کے لیے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: "آدم ؑ کے پیدا کرنے میں جو جو حکمتیں ہیں تم ان سے واقف نہیں بلکہ ہم ہی خوب جانتے ہیں۔”
سورۃ البقرہ میں اللہ نے اس بارے میں آیات نازل کی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انسانوں میں بھی نافرمانی اور ظلم کا مادہ ہے لیکن یاد رہے کہ وہ جنات کے مقابلے میں کم ہے۔ فی صد کا فرق ملحوظ رہنا چاہیے، یوں سمجھنا چاہیے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فرشتوں اور جنات کے بیچ کی معتدل مخلوق ہے۔
● تخلیق آدم :::
اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کا خمیر تیار ہونے سے قبل فرشتوں کو اطلاع دی:
اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ( سورۃ البقرہ)
"( اے ملائکہ ) میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔”
آدم علیہ السلام کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا اور ایسی مٹی سے گوندھا گیا جو نت نئی تبدیلی قبول کرنے والی تھی۔ جب یہ مٹی پختہ ٹھیکری کی طرح آواز دینے اور کھنکھنانے لگی تو اللہ تعالیٰ نے اس جسد خاکی میں روح پھونکی۔ ابھی روح ناک کے نتھنوں سے داخل ہوکر دماغ تک پہنچی ہی تھی کہ آدم علیہ السلام کو چھینک آئی۔ اسی وقت آدم ؑ کو اللہ پاک کی طرف سے الہام ہوا کہ اس چھینک کے جواب میں "الحمد للہ” کہو۔ آدم ؑ نے چھینک لیتے ہی "الحمد للہ” کہا۔ جس کے جواب میں عرش معلیٰ سے "یر حمک اللہ” یعنی ”اللہ تجھ پر رحم کرے گا” جواب آیا ۔ (حدیث)
پھر رفتہ رفتہ روح آدم ؑ، حضرت آدم علیہ السلام کے تمام جسد خاکی میں سرایت کرگئی یوں وہ مٹی کا پتلا یک بیک گوشت پوست، ہڈی، پٹھے کا زندہ انسان بن گیا اور ارادہ، شعور، حس، عقل اور وجدانی جذبات وکیفیات کا حامل نظر آنے لگا۔
● تعلیم آدم علیہ السلام :::
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا
اور آدم کو (اللہ نے) سارے نام سکھا دیے۔
پھر اللہ پاک نے فرمایا : اَنبؤنِىْ بِاَسْمَاءِ ھٰٓؤُلَاءِ ( سورۃ البقرہ )
یعنی اے ملائکہ! ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
فرشتوں کو خبر تک نہ تھی کہ ان چیزوں کے کیا کیا نام ہیں؟ کائنات کی تمام اشیاء فرشتوں کے سامنے پیش ہیں اور ان کے نام ان معصوموں سے دریافت ہو رہے ہیں یہ کیوں؟
یہ صرف آدم علیہ السلام کا اعزاز بڑھانے کے لیے؛ چنانچہ اس عظیم سوال پر سارے فرشتے عاجز ہوئے اور سب نے انکساری سے عرض کیا: اے پاک پروردگار! تیری ذات خوب واقف ہے کہ ہم ان چیزوں کے نام نہیں جانتے تو بس وہی علم ہے جو تو نے ہمیں عطا کر رکھا ہے یعنی ذکر خدا اور تسبیح الٰہی اور فی الحقیقت تو ہی سب چیزوں کا جاننے والا ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔
● آدم علیہ السلام کے اس شرفِ علم کے متعلق مفسرین کی متعدد آرا :::
١۔ ایک یہ کہ کائنات کی وہ تمام اشیاء جو ماضی سے مستقبل تک وجود میں آنے والی تھیں ان سب کے نام اور ان کی حقیقت کا علم حضرت آدم ؑ کو دیا گیا۔
٢۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس وقت جس قدر اشیاء عالم کائنات میں موجود تھیں ان سب کا علم عطا کیا گیا۔
٣۔ زمین میں رہائش اور یہاں حکومت کرنے کے لیے جس قدر علوم کی ضرورت تھی وہ سب علوم عطا کیے گئے۔ طب، انجینئرنگ، ہندسہ، سب علوم دیے گئے۔
٤۔ انسانوں کے اندر غصہ، شہوت، بھوک، حسد، تکبر، الغرض بہت سی باطنی کیفیات واحساسات ہیں جنہیں انسان ہی سمجھ سکتے ہیں، فرشتوں کے اندر وہ فیلنگز یا جذبات نہیں ہیں، اس لیے وہ اس کے نام اور کیفیات بتا بھی نہیں سکتے۔
بہر حال حضرت آدم علیہ السلام کو صفتِ علم سے اس طرح نوازا گیا کہ فرشتوں کے لیے بھی ان کی برتری اور استحقاقِ خلافت کے اقرار کے علاوہ چارہ کار نہ رہا اور یہ ماننا پڑا کہ اگر ہم زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ بنائے جاتے تو کائنات کے تمام بھیدوں سے نا آشنا رہتے۔
"اللہ نے کہا : آدم! تم ان کو ان چیزوں کے نام بتادو۔ چنانچہ جب اس نے ان کے نام ان کو بتا دیے تو اللہ نے (فرشتوں سے) کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں؟ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو مجھے اس سب کا علم ہے۔” (البقرۃ: آیت ٣٣)
● فرشتوں کو سجدے کا حکم :::
جب حضرت آدم علیہ السلام کی علمی برتری تمام جنات وملائکہ پر آشکارا اور ظاہر ہو گئی تو اب آدم علیہ السلام کا اعزاز اور بڑھا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا : اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ (سورۃالاعراف ١١)
آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو فوراً تمام فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی اور سجدہ میں گرپڑے۔ سوائے شیطان کے وہ سجدے میں نہ جھکا۔
اس سے متعلق قرآن میں متعدد بار آیات آئی ہیں۔
¤ سورہ اعراف میں ہے :::
"اور ہم نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا کہ : آدم کو سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔”
¤ سورۃ الحجر میں ہے :::
"ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ اور جنات کو اس سے پہلے ہم نے لو کی آگ سے پیدا کیا تھا۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : میں گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں؛ لہذا جب میں اس کو پوری طرح بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ چنانچہ سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔” (الحجر)
¤ سورہ کہف میں ہے :::
"اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : آدم کے آگے سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہ وہ جنات میں سے تھا، چنانچہ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم میرے بجائے اسے اور اس کی ذریت کو اپنا رکھوالا بناتے ہو۔ حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں؟
● ڈارون کا نظریہ غلط ہے :::
ان آیات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان پہلے دن سے ہی انسان ہے۔ یہ نظریہ کہ انسان پہلے بندر یا کچھ اور تھا، ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے انسان بن گیا، بے بنیاد نظریہ ہے۔ ڈارون کے اس نظریے کو ملحدین نے ہاتھوں ہاتھ لیا لیکن جدید تحقیقات اور آثار قدیمہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان پہلے سے ہی انسان رہا ہے۔ ارتقاء انسانی علم و شعور میں ہوا ہے، انسان کی ساخت اور قالب میں نہیں۔
● ابلیس کا تعارف :::
اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے ہزاروں سال پہلے ایک مخلوق آگ سے پیدا کی جسے جنات کہتے ہیں، جنات کی قوم میں ایک بزرگ تھا جس کا نام عزازیل تھا، کہا جاتا ہیکہ عزازیل ہی جنات کا جدامجد ہے جس طرح آدم ؑ انسانوں کے جد امجد ہیں۔ عزازیل بہت عبادت گزار اور اللہ کا نہایت فرمانبردار جن تھا۔ وہ جنت میں نور کے منبر پر بیٹھ کر فرشتوں کو درس دیا کرتا تھا اور بڑے بڑے فرشتے اس کے شاگرد ہوا کرتے تھے۔
جب عزازیل کی دانائی اور عبادت زمین و آسمان میں اچھی طرح آشکارا ہو گئی تو عزازیل کو یقین ہو گیا کہ میں حقیقت میں کوئی اعلیٰ اعزاز کے قابل ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں نہ کوئی مجھ سے زیادہ عالم ہے نہ کوئی مجھ سے زیادہ زاہد اوراگر ہیں بھی تو میں ان کا سردار ہوں نیز عزازیل کو خود پر غرور ہوچلا تھا۔
● ابلیس کی نافرمانی :::
اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو! تو تمام فرشتوں نے آدم ؑ کو سجدہ کیا ”الا ابلیس” مگر عزازیل جس کا لقب آج سے ابلیس ہوتا ہے اس نے سجدہ نہیں کیا۔ لکھا ہے کہ جب فرشتوں نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کیا تو پورے سو برس تک تمام ملائکہ سجدے میں پڑے رہے پھر جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو دیکھا کہ عزازیل یعنی ابلیس حضرت آدم ؑ سے منہ موڑے اکڑا ہوا کھڑا ہے اور اس کا سارا منہ سیاہ ہو رہا ہے جو آج سے پہلے نہایت خوب صورت تھا وہ آج ایک خوفناک دیو کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ابلیس کی یہ بری حالت دیکھ کر تمام ملائکہ خوف خداوندی سے پھر سجدے میں گرے جس میں انہوں نے اپنی اطاعت اور اپنی خیریت پر لاکھ لاکھ شکر ِخداوندی ادا کیا یہاں جناب حضرت محمد ﷺ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ دو سجدے فرشتوں کے اتنے پسند آئے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں پر نماز میں دو سجدے فرض کئے کہ ایک فرمانبرادی کا اور دوسرا فرمانبرداری کے ادا کرنے کا شکریہ کا۔ (واللہ اعلم بالصواب)
جب تمام فرشتے سجدے سے اٹھے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا : اےا بلیس! آدم کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ اللہ تعالٰی اگرچہ عالم الغیب ہیں اور دلوں کے بھیدوں سے خوب واقف ہیں اور ماضی، حال اور مستقبل سب اس کے لیے یکساں ہیں، مگر اللہ نے دوسروں کو دکھانے کے لیے ابلیس کے امتحان وآزمائش کے لیے یہ سوال کیا اس سوال پر ابلیس نے جواب دیا :
اے اللہ! میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ مجھے تونے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو خاک سے۔ پھر میں آگ کا بنا ہوا خاک کے پتلے کو کیوں سجدہ کروں؟
کتب تفاسیر وتواریخ میں مرقوم ہے کہ ابلیس نے صرف اس زعم میں یہ نافرمانی کی کہ آدم کی اصلی اعلیٰ اور افضل نہیں ہے یعنی مٹی آدم کی اصل ہے اور وہ آگ کی پیداوار ؛ مگر بد بخت شیطان اپنے غرور وتکبر میں یہ بھول گیا کہ وہ خود اور آدم دونوں خدا کی مخلوق ہیں تو مخلوق کی حقیقت خالق سے بہتر وہ مخلوق خود بھی نہیں جان سکتی وہ اپنے غرور وتکبر میں یہ بھی بھول گیا بلکہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ مرتبے کی بلندی اور پستی اس مادہ کی بنا پر نہیں ہے جس سے کسی مخلوق کا خمیر تیار کیا جائے؛ بلکہ اس کی ان صفات پر ہے جو خالق کائنات نے اس کے اندر ودیعت کی ہیں۔ یوں بھی مٹی کے اندر عاجزی کی صفت ہے جو اللہ تعالی کو بہت پسند ہے، جبکہ آگ کے اندر بلندی اور بڑائی کی صفت ہے جو اللہ تعالی کو پسند نہیں۔
بہر حال شیطان کا جواب چونکہ غرور وتکبر پر مبنی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر واضح کردیا کہ کبر ونخوت نے تجھ کو اس قدر اندھا کر دیاہے کہ تو اپنے خالق کے حقوق واحترام سے بھی منکر ہو گیا اس لیے مجھ کو ظالم قرار دیا اور یہ نہ سمجھا کہ تیری جہالت نے تجھ کو حقیقت کو سمجھنے سے قاصر کردیا۔ پس تو اب اس سرکشی کی وجہ سے ابدی ہلاکت کا مستحق ہے اور یہی تیرے عمل کی قدرتی پاداش ہے۔
● سورۃ الحجر میں ہے :::
قَالَ يٰٓاِابْلِيْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَ (٣٢)
اللہ نے کہا: ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا؟
قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ(٣٣)
اس نے کہا : میں ایسا گرا ہوا نہیں ہوں کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ (٣٤)
اللہ نے کہا : اچھا تو یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو مردود ہوگیا ہے۔
چنانچہ ابلیس کا لباسِ بزرگی وکرامت اتار لیا گیا اور اس کو لعنت وپھٹکار کا جامہ پہنا دیا گیا اور ملعون کر کے مقام ِقرب سے نکال دیا گیا۔ لکھا گیا ہے کہ ابلیس کا حسن وجمال ملائکہ سے بہت اچھا تھا۔ وہ نہایت نورانی صورت تھا، مگر آج غرور و نافرمانی کے سبب ایسی صورت ہوگئی کہ جو دیکھتا تھا وہ اس پر لعنت ملامت کرتا تھا۔
#نوٹ :- آدم علیہ السلام کی یہ سیرت (مدرسہ حفیظیہ شریف آباد دورہ تفسیر کی طالبات بنت عبد العزيز اور بنت آصف کی تیار کردہ ہے) جو صفہ قصص الانبياء کے شکریہ کے ساتھ یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے.
اگلی قسط انشا اللہ جمعہ 5 اکتوبر کو شائع ہوگی