میں 4 جون کی صبح ہی سے اپنے موبائل فون پر لوک سبھا الیکشن 2024 کے نتائج کو دیکھ رہا تھا کہ سہ پہر ہوتے ہوتے خبرآئی کہ لوک سبھا حلقہ کھیری ضلع لکھیم پور(یو پی) کے بی جے پی کے امیدوار اجئے شرما جو مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ ہیں چناؤ ہار گئے ہیں۔ اس خبر نے چونکا دیا ۔خبر نے فوری میرے ذہن پر اسٹرائیک کیا ۔ میں آج سے دو سال قبل 3 اکتوبر 2021 کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے قتل عام کے دل دہلانے والے سانحے کے منظر میں ڈوبتا چلا گیا۔ وہ3 /اکتوبر 2021 کی منحوس سہ پہر تھی ۔سارے ملک میں کسانوں نے اپنی مانگوں کو لے کرآندولن چھیڑ رکھا تھا خاص طور سے اتر پردیش میں آندولن نے بڑی شدت اختیار کرلی تھی۔
کسانوں ٗکھیت مزدرو ں ٗ پسماندہ دیہی عوام کے جتھے کے جتھے جوق در جوق آندولن میں شریک ہو رہے تھے۔ ایسا ہی ایک جتھ لکھیم پور کھیری کی ایک شاہراہ سے گزر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار اسکارپیو جیپ گاڑی نے اس کو روند ڈالا۔جیپ گاڑی زخمی لوگوں کو گھسیٹتے ہوئے دور تک چلتی رہی تھی۔ بڑا بھیانک اور خوفناک منظر تھا۔آناً فاناً میں آٹھ کسان موت کی بے رحم آغوش میں چلے گئے تھے۔جیپ کوئی عام شخص نہیں بلکہ لکھیم پورکھیری کے بی جے پی کے رکن پارلیمان اور مرکزی مملکتی وزیر اجے مشرا کا بیٹا چلا رہا تھا لیکن بی جے پی والے اور پولیس انتظامیہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ گاڑی اشیش مشرا نہیں بلکہ کوئی اور چلا رہا تھا ۔منسٹرکے بدتمیز اور انسان دشمن بیٹے کو بچانے کی کوشش ہو رہی تھی آج جب لوک سبھا الیکشن میں اجے شرما کی شکست فاش کی خوش کن خبرآئی تو خوشی کے مارے میری انکھوں سے انسو ٹپک پڑے۔
ہم چاہے کسی بھی مذہب دھرم ذات طبقہ یا سماج سے تعلق رکھتے ہوں ہم اسی ایک مالک کے بندے ہیں جو سب انسانوں کا پالن ہار ہے۔ اس کے دربار میں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ہے۔ اس نے آج کے دن نہتے بے قصور غریب وہ مجبور کسانوں کی موت کا بدلہ لے لیا۔پھر ایک بار ثابت ہو چکا ہے کہ مظلوم کی آہیں کراہیں اور بد دعائیں کبھی خالی نہیں جاتیں۔
توڑنا ٹوٹے ہوئے دل کا برا ہوتا ہے
جس کا کوئی نہیں اس کا خدا ہوتا ہے
لوک سبھا کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔مکمل اورقطعی نتائج الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری ہوچکے ہیں لیکن یہ اشارہ مل رہا ہے کہ برسر اقتدار بھارتیہ جنتاپارٹی اپنے دم خم اور اُسے حاصل ہونیوالی سیٹوں کے اعداد وشمار پر دہلی کے تخت پر براجمان نہیں ہوسکے گی ۔اُسے اپنے اتحاد (این ڈی اے ) میں شامل پارٹیوں کی تائید و حمایت کے بغیر حکومت سازی کے لئے ایک قدم بھی آگے اُٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ اجازت کی کنجی اتحاد میں شامل چندر بابو نائیڈو اور نتیش کمار کے ہاتھوں میں ہے۔تیلگودیشم 16 ٗ اورجنتادل (یو)12سیٹیں جیت کر بادشاہ گر کاموقف حاصل کرچکی ہیں۔
نتیش کمار جنھیں پلٹو لیڈر کا لقب مل چکا ہے ‘ بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں جبکہ چندرا بابو نائیڈو اگلے ایک دو دنوں میں آندھراپردیش کے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔ آندھرا پردیش اسمبلی چناؤ لوک سبھاکے ساتھ ہی ہوئے ہیں۔ بابو کی پارٹی تیلگودیشم اسمبلی الیکشن میں اکثریت حاصل کرچکی ہے۔ بابو اور نتیش کے سیاسی سفر اور سیاسی کردار کا بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلے گاکہ دونوں منجھے ہوئے اور موقع پرست سیاسی قائدین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ دونوں پالا بدلنے میں ماہر ہیں۔ تیلگودیشم اور جنتادل ( یو) حالیہ لوک سبھا الیکشن میں این۔ ڈی۔ اے۔ میں شامل تھیں اور اب بھی ہیں۔ کل کہاں ہوں گی وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کانگریس اور بی جے پی ، بابو اور نتیش کو اپنے پالے میں لانے کی حتی المقدور کوششیں کریں گے بلکہ کوششوں کا ایک منظم منصوبے کے تحت آغاز بھی ہوچکا ہے۔
سردست ہماری گفتگو کا موضوع یہ نہیں ہے کہ کس پارٹی یا الائنس کی حکومت بنے گی لیکن طے ہے کہ بی جے پی اپنے اتحادیوں کی مدد کے بغیر حکومت تشکیل نہیں دے سکے گی کیونکہ وہ 272 کے جادوئی عدد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم مودی نے ملک کے عوام کے لئے اچھے دن کا جو نعرہ دیا تھا وہ دن تو کبھی نصیب نہیں ہوئے البتہ اُن کے لئے آج سے برے دن شروع ہوچکے ہیں ایسا کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہے گیا
بی جے پی توڑ جوڑ کی سیاست کی راہ پر چلتے ہوئے جیسے کہ وہ سابق میں چلتی رہی ہے ‘ اگر حکومت تشکیل دے بھی تو اُس کی حالت اُس لاچار پہلوان کی طرح ہوگی جو اپنے ہاتھ میں کشکول لئے اپنے اتحادیوں سے مدد کی بھیک مانگتا ہے۔ یہ قوی امکان ہے کہ اتحادی پارٹیاں نئی بی جے پی حکومت کو اہم اہم موقعوں پر بلیک میل بھی کرسکتی ہیں۔ اس طرح حکومت پر زوال سے دو چار ہونے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ اس طرح نئی حکومت اپنی خواہش، مرضی اورمنشا ء سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکے گی۔
لوک سبھا کے نتائج نے بی جے پی کا وہ خواب چکنا چور کردیا ہے جس میں اُس نے بھارت کو ہندو راشٹر بنتے ہوئے دیکھا تھا۔ اب نہ تو دستورِ ہند کی جمہوری اور سیکولر قدروں کو بدل کر اسے زعفرانی رنگ میں رنگا جاسکے گا اور نہ ہی دلتوں اور مسلمانوں کے دستوری حقوق کو پامال کیا جاسکے گا۔ یہ قدرت کا انتظام ہے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہے۔ حالات بدلتے ہیں۔ وقت تبدیل ہوتا ہے۔ اب ظلم و ستم کے سیاہ بادل چھٹنے لگے ہیں ۔ ٹھنڈی خوشگوار ہوائیں چلنے لگی ہیں۔ پرندے آزادی کے ترانے گانے لگے ہیں۔ جبر و تشدد کے تہہ خانوں پر قفل لگنے لگے ہیں۔ آج ہر ہندوستانی خود کو آزاد فضاء میں سانسیں لیتا ہوا محسوس کرنے لگا ہے۔
یہ وقت کس کی رعو نت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بُول رہاتھاخدا کےلہجے میں
از: محمد تقی ،سینئر جرنلسٹ ۔ناندیڑ۔ 9325610858